ناشتے کا لازمی حصہ سمجھے جانے والے انڈے جہاں پروٹین، وٹامن ڈی اور کولین جیسے دماغ اور ہڈیوں کے لیے مفید غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتے ہیں وہیں اب ایک نئی طبی تحقیق نے انہیں روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنے کی ایک اور بڑی وجہ بتا دی۔
امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے انڈے کھانے کی عادت یادداشت کی کمزوری کی سب سے عام قسم، ’الزائمر‘ یعنی ڈیمنشیا کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔
تقریباً 40 ہزار افراد پر 15 سال تک کی جانے والی اس طویل مدتی تحقیق کے نتائج ’دی جرنل آف نیوٹریشن‘ میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جو عمر رسیدہ افراد ہفتے میں 5 یا اس سے زیادہ بار انڈے کھاتے ہیں، ان میں انڈے نہ کھانے والوں کے مقابلے میں الزائمر کا خطرہ 27 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
ہفتے میں 2 سے 4 بار انڈے کھانے والوں میں یہ خطرہ 20 فیصد تک کم دیکھا گیا جبکہ مہینے میں چند بار یا ہفتے میں صرف ایک بار انڈا کھانے والوں میں بھی یہ خطرہ 17 فیصد تک کم ہو گیا۔
اس کے برعکس جو لوگ انڈوں کا بالکل استعمال نہیں کرتے ان میں الزائمر کا شکار ہونے کا امکان سب سے زیادہ پایا گیا۔
دماغی صحت کے لیے انڈے کیوں مفید ہیں؟
ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ انڈوں میں کئی ایسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو دماغی صحت اور اعصابی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ ان میں کولین، وٹامن بی 12، وٹامن ڈی، سیلینیم، آئیوڈین، اومیگا 3 فیٹس اور یادداشت کو بہتر بنانے والے وٹامنز شامل ہیں۔ یہ تمام اجزاء مل کر دماغی صلاحیتوں کو سہارا دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ انڈوں کی جگہ پروٹین سے بھرپور دیگر اشیاء جیسے گری دار میوے، بیج یا دالیں استعمال کرنے سے بھی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔