انسان کا سب سے بڑا خوف غیر یقینی مستقبل کا ہے اور یہی خوف اُس کی دائمی مسرت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بڑے سے بڑا آدمی اور طاقتور سے طاقتور شخص بھی اِس سے مستثنیٰ نہیں۔ چاہے کوئی بدمعاش ہی کیوں نہ ہو، گولی سے اسے بھی ڈر لگتا ہے اور موت کا ذکر سن کر وہ بھی لرز اٹھتا ہے۔ یہ ابتدائی سطور میں نے ’اسٹارٹر‘ کے طور پر پیش کی ہیں کیونکہ آج ’مین کورس‘ میں قیامت کا ذکر ہے۔ یوٹیوب پر ایک ویڈیو موجود ہے جس میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کی ایک تحقیق کا ذکر ہے جس کے مطابق 2040ءمیں انسانی تہذیب ختم ہو جائے گی۔ اِس ویڈیو کو ڈیڑھ کروڑ لوگ دیکھ چکے ہیں۔ میں اِس کا لب لباب پیش کر دیتا ہوں۔
1972 میں ایم آئی ٹی کے چند جینئس افراد نے ایک تحقیق کی جس کا موضوع تھا "The Limits to Growth" یعنی’’ترقی کی حدود‘‘۔ اس تحقیق نے دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔ ان لوگوں نے ایک جدید کمپیوٹر ماڈل تیار کیا جسے ’ورلڈ 3‘ کا نام دیا گیا۔ اس ماڈل کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اگر موجودہ صنعتی ترقی، آبادی اور وسائل کا استعمال اسی رفتار سے جاری رہا تو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟ اس کمپیوٹر ماڈل کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی جو انسانی تہذیب کی نشوونما کیلئے لازم و ملزوم ہیں: آبادی کی شرح، صنعتی پیداوار، خوراک کی فراہمی، قدرتی وسائل کی دستیابی، ماحولیاتی آلودگی کے اثرات۔ ظاہر ہے کہ یہ پانچوں عناصر آپس میں زنجیر کی کڑیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں، اگر ایک کڑی کمزور ہو جائے تو پوری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے، اور بقول اشفاق احمد اسی لیے وہ کمزور کڑی ہی سب سے مضبوط ہوتی ہے۔خیر، اس تحقیق کا نتیجہ یہ تھا کہ اگر انسانوں کے یہی لچھن رہے تو یہ نام نہاد تہذیب یافتہ معاشرہ 2040 تک ڈھیر ہو جائیگا۔ اور ایم آئی ٹی والے تحقیق کرکے چین سے نہیں بیٹھے۔ 2021ءمیں انہوں نے اپنی تحقیق کا دوبارہ جائزہ لیا تاکہ دیکھ سکیں کہ آیا انسان نے ’انسان‘ بننا سیکھا یا نہیں۔ پتا یہ چلا کہ ہمارے زوال کی جو پیش گوئی 1972ء میں کی گئی تھی وہ نہ صرف درست تھی بلکہ ہم اُس طرف کچھ زیادہ ہی تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں اور اگر ہم نے اپنا راستہ نہ بدلا تو 2040ءسے پہلے ہی انسانیت کا دھڑن تختہ ہو جائےگا۔
بہترین منظرنامہ یہ ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی میں کوئی ایسی جدت پیدا کرلیں کہ دنیا میں خوراک بھی وافر پیدا ہو اور توانائی کے وسائل بھی ایسے مل جائیں جن سے ماحولیاتی آلودگی کم ہو جائے۔ ایسی صورت میں 2040 والی ممکنہ قیامت ٹل سکتی ہے۔ گویا ایسی دنیا وجود میں آ جائے جہاں آبادی قابو میں ہو، صنعتیں ماحول دوست ہوں اور زمین کے وسائل اگلی نسلوں کیلئے محفوظ رہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زمین کے وسائل محدود ہیں اور انسان کی خواہشات لامحدود ! مجھے تو لگتا ہے کہ ایم آئی ٹی کے سائنس دانوں کی پیش گوئی درست ثابت ہو چکی ہے۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہ رہنے کے قابل کہاں رہی ہے! اگر ہم اِس زمین کا آڈٹ کرنے کیلئے کسی خلائی مخلوق کی خدمات حاصل کریں تو وہ بتائے گی کہ ہم نے اِس زمین کا کیا حال کیا ہے۔ ہمیں کیا ’اوپننگ بیلنس‘ ملا تھا اور اِس وقت زمین کی بیلنس شیٹ کتنی خسارے میں ہے۔ صرف دو باتیں ایسی ہیں جن سے دل کوتسلی مل سکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ ماضی بعید میں کم از کم پانچ مرتبہ زمین مکمل تباہ ہو چکی ہے مگر اُس میں انسانوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا کیونکہ انسان اُس وقت وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ یہ تمام واقعات کروڑوں سال پہلے کے ہیں جنکے نتیجے میں تقریباً 75 سے 96 فیصد تک زمین اور اُس پر بسنے والی مخلوق ختم ہو گئی تھی۔
ڈائنوسارز کی نسل بھی ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ایسے ہی ایک سیارچے کے گرنے سے صفحہ ہستی سے مٹ گئی تھی۔ جب انسان غار میں رہتا تھا تب وہ خالص خوراک کھاتا تھا، دوڑتا بھاگتا تھا، صاف ہوا اور شفاف پانی اسے میسر تھا مگر اُس کی اوسط عمر صرف تیس سے پینتیس برس تھی۔ اور اب جبکہ اُس نے زمین کا ستیاناس کر دیا ہے، قدرتی خوراک کو ڈبوں میں اور پانی کو بوتل میں بند کرکے بیچنا شروع کر دیا ہے اب اُس کی اوسط عمر دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور وجہ ہے میڈیکل سائنس۔ مدعا یہ ہے کہ اگر زمین نے تباہ ہی ہونا ہے تو اس کیلئے صرف انسان کے کرتوتوں کو موردِالزام ٹھہرانا درست نہیں۔ انسان نے زمین کا حسن بھی نکھارا ہے۔ وہی اقبال والی بات:
تو شب آفریدی چراغ آفریدم
سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ اززہر نوشینہ سازم
تو نے رات بنائی تو میں نے چراغ بنا لیا، تو نے مٹی بنائی اور میں نے پیالہ بنا لیا۔ تو نے صحرا، کہسار اور خار و خس پیدا کئے، میں نے (انہی کو کام میں لا کر) سڑکیں، گلزار اور باغ بنا لئے۔ میں وہ ہوں جو پتھر سے آئینہ بناتا ہوں، میں وہ ہوں جو زہر سے تریاق بنا لیتا ہوں۔ سو بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
دوسری اِس بات سے دل کو بہلایا جا سکتا ہے کہ انسان نہایت شاطر، چالاک اور ذہین مخلوق ہے، جب سر پر پڑتی ہے تو وہ کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتا ہے۔ آج بھی سائنس دان اِس مسئلے کا حل نکالنے میں مصروف ہیں۔ وہ سائنس دان ہی تھا (ایلگزینڈر فلیمنگ) جس نے پنسلین ایجاد کرکے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں اور وہ بھی جینئس تھا (نارمن بورلاگ) جس نے گندم کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کرنے کا نسخہ ایجاد کیا حالانکہ بیسویں صدی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ دنیا کی آبادی اِس قدر بڑھ جائےگی کہ زمین پر خوراک کی قلت ہو جائےگی۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔
سو، ہم جیسے عام انسانوں کو چاہئے کہ اُن سائنس دانوں کی کامیابی کیلئے دعا کریں جو دن رات اُس نسخہ کیمیا کی دریافت میں لگے ہیں جسکے بعد زمین کی ممکنہ تباہی ٹل جائے گی اور جب تک دعا قبول نہیں ہوتی کم از کم اُس وقت تک مزید بچے پیدا کرکے انہیں اِس دنیا میں نہ بھیجیں، جو بچے پہلے سے موجود ہیں اُن میں سے کسی کی دیکھ بھال کا ذمہ لے لیں۔ باقی پیوستہ رہیں شجر سے امید بہار رکھیں۔