برطانیہ کے سفارتی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب امریکا میں تعینات برطانوی سفیر کے نائب اور سینئر سفارتکار جیمس روسکو کو اچانک ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق یہ اقدام ایک حساس لیک انکوائری کے دوران کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی سفارت خانے کے عملے کو اس غیر متوقع فیصلے سے ایک مختصر اور ایک سطری ای میل کے ذریعے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد سفارتی اور سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ تاہم حکام کی جانب سے اس معاملے کی مکمل تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سفارت خانے سے معلومات کے ممکنہ اخراج یا خفیہ دستاویزات کے لیک ہونے کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مبینہ طور پر کون سی معلومات لیک ہوئیں اور آیا جیمس روسکو کے خلاف کوئی باضابطہ الزام عائد کیا گیا ہے یا نہیں۔
جیمس روسکو امریکہ میں برطانیہ کے اہم ترین سفارتی عہدیداروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ وہ واشنگٹن میں برطانوی سفارت خانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے اور لندن و واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں میں ان کی اہم ذمہ داریاں شامل تھیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں برطانوی سفارت خانے کا نائب سربراہ ایک نہایت حساس اور بااثر عہدہ تصور کیا جاتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی اچانک برطرفی غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر لیک انکوائری کے الزامات درست ثابت ہوئے تو اس کے برطانیہ اور امریکہ کے سفارتی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
برطانوی حکومت یا دفترِ خارجہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ سفارتی ذرائع مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔