• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چائنا میں،ہر دو طاقتور ممالک نے کسی ایک مشترکہ اعلامیے کی بجائے اپنے اپنے الگ اعلامیے جاری کیے ہیںجو اپنی اپنی ترجیحات پر مشتمل ہیں۔ اس دورے میں پریزیڈنٹ ٹرمپ نے جتنی گرمجوشی دکھائی یزیڈنٹ شی جن پنگ کا رویہ روایتی اسلوب میں زیادہ تر سنجیدہ ہی رہا۔ ٹرمپ یہ توقع کر رہے تھے کہ صدر شی ان سے معانقہ کریں گے لیکن پریزیڈنٹ شی نے محض مصافحے پر اکتفا کیا، ان کا رویہ اگرچہ سرد مہری پر مبنی نہ تھا لیکن ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنجیدگی صاف ملاحظہ کی جا سکتی تھی ۔گریٹ ہال پہنچنے پر وہ ٹرمپ کیلئے دو چار قدم آگے بڑھنے کی بجائے اپنی جگہ ایستادہ رہے۔سچائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو صدر شی نے زیادہ متانت ہی نہیں دکھائی ٹرمپ کو ایک طرح سے فاصلے پر رکھا وہ ٹرمپ جو دوسروں کی تذلیل کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے دوسروں کی عزت کا خیال کیے بغیر پروٹوکول کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں،پریزیڈنٹ شی کے سامنے انہیں ایسی کوئی حرکت کرنے کی جسارت نہ ہوئی، بلکہ شی نے مصافحہ کرتے ہوئے ایک ہاتھ پر اکتفا کیا تو ٹرمپ نے خوشامدی اسلوب میں دوسرے ہاتھ کی تھپکی دی۔ ٹرمپ کے متعلق ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے قریب ترین اتحادیوں کی تذلیل سے خوشی محسوس کرتے ہیں، لیکن وہی ٹرمپ جب نارتھ کوریا کے بدترین ڈکٹیٹر کو مل رہے تھے تو انکے سامنے گویا بچھ رہے تھے، کچھ اسی نوع کا اسلوب انہوں نے یوکرینی صدر کے بالمقابل رشین پریزیڈنٹ پیوٹن سے ملتے ہوئے اپنانے کی کوشش کی، ان کی خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ عظیم الشان امریکی صدور کو بھی اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے، جیسے کہ پریذیڈنٹ باراک اوباما سے ہر لمحہ جیلسی محسوس کرتے ہیں اور انکے خلاف بدزبانی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے، لیکن امریکا کے حریف طاقتور ممالک کی قیادتوں کے سامنے انکی ساری اکڑفوں نکل جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ جوبائیڈن جیسا کمزور امریکی پریزیڈنٹ بھی ٹرمپ کے بالمقابل امریکی وقار کا زیادہ پاس و لحاظ کرتے پایا گیا۔

ٹرمپ "گریٹ امریکا اگین" کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن امریکی اتحادیوں سے لے کر کینیڈا سے آسٹریلیا تک، افریقا و مڈل ایسٹ سے انڈیا،جاپان و تائیوان تک سبھی امریکی دوستوں کو انہوں نے بتدریج امریکا سے دور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی،جسے کہتے ہیں تھوتھا چنا باجے گھنا۔ یہ سب باتیں درویش کے ذہنی کینوس پر اس وقت نمودار ہو رہی تھیں جب وہ ٹرمپ کو صدرشی کے ساتھ کھڑے، چلتے اور بولتے ملاحظہ کر رہا تھا۔ واضح محسوس کیا جا سکتا تھا کہ اپنوں سے بگاڑ کر لوگ کس طرح غیروں کی خوشامد پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ٹرمپ جن امریکی صدور کو میڈیا کے سامنے طعنے دینے سے باز نہیں رہتے، ذرا تائیوان کے ایشو پر ان صدورکی صاف گوئی کے بالمقابل اپنی بےبسی ملاحظہ کریں۔ چائنا میں میڈیا نے تین مرتبہ ان سے سوالات کیے کہ تائیوان پر آپ کی پریزیڈنٹ شی سے کیا بات چیت ہوئی؟؟ لیکن یہ آوٹ سپوکن شخص اس قابل نہیں تھا کہ اس پر زبان بھی کھول سکتا، ۔یہاں تک توکہہ دیا گیا ہے کہ آپ اگر یوکرین میں مداخلت کریں گے تو پھر ہم بھی ایرانی ایشو پر دخل دیں گے-غورطلب امر یہ ہے کہ امریکا جیسی عالمی سپر پاور کے سامنے بھلا ایران کی کیا حیثیت تھی؟ مگر ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے باعث، ایرانی رجیم کے ساتھ اسٹریٹ آف ہرمز میں، امریکا کی کس قدر سبکی کروائی گئی حتیٰ کہ اپنے خلیجی اتحادیوں پر حملوں کی صورت پیٹھ دکھائی، اپنےپکے سچے دوستوں کی تذلیل کروائی، جن کا دفاع امریکی ذمہ داری تھی اور وہ اس کی باقاعدہ ادائیگی کرتے ہیں، اسی طرح یوکرین میں رشیا کے بالمقابل پورے یورپ کی تذلیل کروا رہے ہیں، یورپ سے لے کر انڈیا اور تائیوان تک کس کس کو ٹیرف کی دھمکیاں نہیں دیں ؟لیکن یہ چائنا ہی تھا جس نے ٹیرف کی دھمکیوں پر بھی آپ کی بولتی بند کر دی، جب اپنی نایاب قیمتی دھاتوں ریئر ارتھ منرلز سمیت امریکا کے لیے ناگزیر برآمدات پر بندشیں عائد کر دیں۔ امریکی پریزیڈنٹ کیلئےاس سے بڑھ کر ندامت اور شرمندگی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ایرانی یورینیم انرچمنٹ رکوانے یا آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چینی مدد کا خواستگار بنا کھڑا ہو اور چینی صدرشی، کمال انداز بے نیازی سے بول رہے ہوں کہ ہاں تمہاری مدد کریں گے، ساتھ ہی تنبیہ کر رہے ہوںکہ خبردار جو ہمیں ڈیموکریسی یا ہیومن رائٹس کا لیکچر دینے کی کوشش کی یا تائیوان سمیت سنکیانگ کے بارے میں کوئی بات کی، تمہارے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹر کی حیثیت سے ایسی باتیں کی تھیں تو ہم نے اس کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا تھا اب تمہاری درخواست پر نام بدل کر اس کا نام نکالا ہے اگر تمہیں اپنے کسانوں کے لیے منڈی چاہیے تو ہمیں بھی اپنے محنت کشوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں دسترس دینا ہوگی یہی وجہ ہے کہ تمام تر امریکی کاوشوں کے باوجود امریکا چائنا تجارتی توازن بدستور چائنا کے حق میں جا رہا ہے جسے شاید ہی توڑا جا سکے تمہاری "گریٹ امریکا اگین "والی لال ٹوپی سے لے کر روزمرہ استعمال کی عام اشیاء تک کون سی چیز ہے جو چینی انڈسٹری کی بدولت سستے داموں میسر نہیں، تم اپنی جن کمپنیوں کے مالکان کا لشکر لے کر آئے ہو انہیں ہماری شرائط پر یہاں مال برآمد کرنا ہوگا ایک سو بیس ممالک میں جاری ہمارے ترقیاتی پروگراموں کے آڑے نہیں آنا ہوگا۔

تازہ ترین