• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی میرے سینے میں بہت سے سوال زندہ ہیں جنہیں مزید زندہ رہنا ہے کہ ابھی ہماری منزل نہیں آئی۔صاف شفاف پانی تو بہت دور کی بات ہے ماضی میں روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کا وعدہ کرنے والی پیپلز پارٹی چار بار برسر اقتدار آنے کے باوجود بس کبھی کبھار اس وعدے کو دہراتی رہی اور بس.....

تاہم آج کچھ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ کشور حسین شاد باد میں اب روٹی، کپڑا اور مکان ان تینوں اشیاء کی فراہمی کے وعدے پر گزارا نہیں ہوگا جو بھی پارٹی سیاسی نعرہ دے گی یا انتخابی منشور بنائے گی تو اس میں روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ پینے کے لیے محفوظ اور صاف و شفاف پانی اور سانس لینے کے لیے صاف ستھری ہوا و فضا فراہم کرنے کا وعدہ بھی شامل کرنا ہوگا ،میں نے دورہ پاکستان کے دوران دیکھا کہ ایک عام آدمی فضائی آلودگی کے علاوہ فلورائیڈ آمیز پانی استعمال کرنے سے مختلف امراض کا شکار بنتا جا رہا ہے میرا ایک اعلیٰ حکومتی عہدے دار اور باخبر دوست بتا رہا تھا کہ ابھی تک مملکت خداداد کے 30 سے 50 ہزار تک گاؤں پینے کے پانی کی( بنیادی ) سہولت سے محروم ہیں جبکہ ہزاروں گاؤںادویات ملا پانی پینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔

اسی نے مجھے تجویز پیش کی کہ تم کیوں نہیں یہاں آکسیجن کلب کھول لیتے اس سے کم از کم متمول طبقہ صاف ستھری ہوا کہ حصول کے لیے تمہارے آکسیجن کلب پہنچ جائے گا اس نے مجھے بتایا کہ متمول طبقہ دیگر ضروریات زندگی کی مانند ہوا اور پانی بھی خریدنے کو تیار ہے یہی وجہ ہے کہ ہر ماہ صرف لاہور میں کروڑوں روپے کے منرل واٹر کی تجارت ہو رہی ہے میں چونکہ اپنے نظریات کا غلام ہوں اس لیے مجھے اپنے متمول طبقہ، جو کہ شاید آبادی کے دو فیصد حصے پر بھی مشتمل نہ ہو سے، کوئی دلچسپی نہیں، میری دلچسپی تمام تر ہمدردی عوام کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ صاف ستھری آب و ہوا اور صاف شفاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ہے جس میں بدقسمتی سے غیرمعمولی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ ستم ظریفی دراصل یہ ہے کہ ہم اور حکومت وہ مرکزی ہو یا صوبائی اس وقت ہوش و حرکت میں آتے ہیں جب کوئی مسئلہ عوامی زندگی کے لیے جان لیوا بن جاتا ہے ابھی میں نے اوپر پانی کا ذکر کیا ہے پاکستان میں پانی کی قلت ایک بڑے مسئلے کی صورت میں ابھر رہی ہے جس کے تدارک کی فوری ضرورت ہے ورنہ ناقابل تصور مسائل پیدا ہو جائیں گے۔

اس وقت پاکستان میں بڑی کمپنیاں ہمارا پانی ہمیں ہی بیچ کر ہم سے دودھ کی قیمت میں پیسہ وصول کر رہی ہیں یہ ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں کروڑوں روپے کی پانی کی تجارت کر کے پاکستانیوں کو لوٹ رہی ہیں 2030تک یہ تجارت 35گنا بڑھ جائے گی ہم نیو کلیائی طاقت بن چکے ہیں لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہزاروں دیہات، قصبوں اور شہروں میں پانی اور بجلی کل بھی نہیں تھی آج بھی نہیں ہے اور مستقبل میں اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا ۔وہ ملک جو دیہاتوں میں بستا رہا اچانک شہروں میں بسنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دیہاتوں سے ارباب اختیار کو کوئی دلچسپی نہیں پاکستان میں وہ سیاستدان جو دیہاتوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں انہیں بھی دیہاتوں میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی اور وہ شہروں کی سیاست اور کثافت کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ آج بہت سے لوگ جوبوتل خرید کر برینڈکا پانی پیتے ہیں اور اسے اپنا لائف سٹائل قرار دیتے ہیں لیکن کل جب بوند بوند پانی کو ترسیں گے تو کوئی سٹائل کام نہ آئے گا کیا اس وقت کے تصور سے کسی کو کوئی خوف نہیں آتا ؟

بہت سوں کو ندی نالوں کا پانی میسر ہے تو انہیں طبی سہولتیں حاصل نہیں اور اگر میسر ہے تووہ انتہائی معمولی ہیں۔ گندے پانی کے علاوہ بار شیں وبائی امراض اور علاج معالجے کی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے نمونیا پیچس اور دیگر بیماریاں تیزی سے بچوں میں پیدا ہو رہی ہیں اور مجھے اس بات کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ موسم میں تبدیلی کی وجہ سے ان میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا ، میری معلومات کے مطابق سر دست بچوں کی اموات اور طبی امداد کے منتظر بچوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی اندازہ ظاہر نہیں کیا جا سکتا ایک بڑی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ مصائب اور تکلیفوں کے شکار ہمیشہ غریب و لاچار لوگ ہی ہوتے ہیں۔

ہر سال گندے پانی کے پینے سے ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن امیر ممالک میں ہیضے سے چند لوگ مرتے ہیں کیونکہ انہیں ہیضے کے اثرات ضائع کرنے والا صاف شفاف پانی اور ابتدائی و فوری امداد طبی امداد مہیا ہوتی ہے اور پاکستان 80 برس بیت جانے کے بعد آج بھی ترقی پذیر ممالک میں بھی شایدسب سے نچلی سیڑھی پر کھڑا ہے۔

یہ کھیل تھا نصیب کا نہ ہنس سکے نہ رو سکے

نہ طور پر پہنچ سکے نہ دار پر ہی سو سکے

تازہ ترین