وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو مرضی سے رہنے کی اجازت دے دی۔
لاہور کی رہائشی سونیا نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عائشہ رکھ لیا اور اس نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ والدین دوبارہ اپنا مذہب اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔
جس کے بعد آئینی عدالت نے گزشتہ سماعت پر گزشتہ سماعت پر عائشہ کی عمر کا تعین کرنے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تھا اور اس کیس کا فیصلہ ہونے تک اسے دارلامان منتقل کرنےکی ہدایت جاری کی تھی۔
آج عدالت میں اس کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بچی کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کروا لیا ہے، میڈیکل رپورٹ کے مطابق عائشہ کی عمر 19 سے ساڑھے 19سال کے درمیان ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچی بالغ ہے تو اس کو اپنی مرضی سے رہنے کی مکمل اجازت ہے۔
عدالت نے عائشہ کو بھی ہدایت کی کہ والدین اگر ملاقات کرنا چاہیں تو ان کی بات مانیں۔
آئینی عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عائشہ کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی حوالگی کی درخواست نمٹا دی۔