• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

60 لاکھ کا چیک باؤنس، تحریری معاہدہ نہ ہونے پر ملزم کو عبوری ضمانت مل گئی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

سپریم کورٹ آف پاکستان لاہور رجسٹری نے 60 لاکھ روپے کے چیک باؤنس کیس میں تحریری معاہدہ نہ ہونے پر ملزم محمد فیصل کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس محمد ہاشم خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مدعی اور ملزم کے درمیان کاروباری لین دین اور دوستوں کے ساتھ مالی تنازع تھا جس پر صلح کے لیے ملزم نے بطور گارنٹی چیک دیا تھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعی نے بعد میں کہانی بدل کر چیک کا غلط استعمال کرتے ہوئے مقدمہ درج کروا دیا۔

مدعی کے وکیل نے عبوری ضمانت کی مخالفت کی تاہم سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مدعی اور ملزم ایک دوسرے کے دیرینہ دوست ہیں، اگرچہ متنازع خطیر رقم 60 لاکھ روپے ہے لیکن اس کا کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ واضح ہے کہ مدعی اور ملزم کے درمیان کاروباری لین دین ہے جو سول نوعیت کا معاملہ ہے، عبوری ضمانت کی سطح پر ثبوتوں کی گہرائی اور تفصیل میں نہیں جایا جا سکتا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے مطابق ثبوتوں کی گہرائی اور تفصیل میں جانا ٹرائل کورٹ کا دائرہ اختیار ہے، ملزم کے قصور وار ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ ٹرائل کے بعد ہی ممکن ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔

واضح رہے کہ مقدمہ تھانہ سٹی خانیوال میں درج کیا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید