• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا و اسرائیل نے احمدی نژاد کو ایرانی رہنما کے طور لانے کا منصوبہ بنایا تھا: امریکی اخبار کا دعویٰ

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لانے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم یہ منصوبہ جلد ہی ناکام ہو گیا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ ایران میں اقتدار کسی اندرونی شخصیت کو منتقل کیا جائے اور اس مقصد کے لیے محمود احمدی نژاد کا نام زیرِ غور آیا تھا۔

اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں احمدی نژاد کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد انہیں مبینہ نظر بندی سے نکالنا تھا، حملے میں وہ زخمی ہوئے لیکن زندہ بچ گئے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر احمدی نژاد اس منصوبے سے آگاہ تھے تاہم حملے کے بعد وہ بددل ہو گئے اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ تعاون سے پیچھے ہٹ گئے، اس کے بعد سے ان کے موجودہ مقام اور حالت کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ محمود احمدی نژاد ماضی میں اسرائیل مخالف بیانات، ایرانی جوہری پروگرام کی حمایت اور امریکا مخالف مؤقف کے باعث سخت گیر رہنما سمجھے جاتے تھے تاہم بعد میں ان کے ایرانی قیادت سے اختلافات بڑھ گئے تھے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا و اسرائیل نے وینزویلا میں نکولس مادورو کے خلاف اپنایا گیا ماڈل ایران میں دہرانے کی کوشش کی تھی مگر یہ حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید