• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کینیڈین حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی ’’کینیڈا ورلڈ یوتھ‘‘ تنظیم کا عالمی نوجوانوں میں کافی شہرہ رہا ہے جسکے پروگراموں کے ذریعے کینیڈین اور عالمی اقوام کے نوجوانوں کا باہمی تبادلہ کیا جاتا اس اشتراکِ عمل سے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو اُبھارا جاتا۔ نسلی تعصبات کو ختم کرنے کی تربیت ہوتی۔ علاوہ ازیں نوجوانوں کو ایک دوسرے کی سماجی زندگی اور تعلیمی صورتِ حال کو دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملتا۔ 1986ء کے دوران پاکستان سے گیارہ رُکنی مخلوط وفد کیلئے یونیورسٹیوں سے نمائندۂ وفد کا انتخاب کیا گیا۔ یہ وفد جولائی کے مہینے میں میزبان ملک کینیڈا کیلئے روانہ ہوا یوں وہاں کے چنیدہ نوجوانوں سے مل کر 22رُکنی کلاس کی تشکیل ہوئی۔ چند روز کی تربیتی نشستوں کے بعد اس بڑے گروپ کو ’’ایک کینیڈین - ایک پاکستانی‘‘ جوڑوں میں تقسیم کر کے کینیڈین میزبان گھروں میں رہنے کیلئے بھجوا دیا گیا۔ خوش قسمتی سے ہم بھی اس پاکستانی کینیڈین گروپ میں شامل تھے۔ ہمارے لئے کینیڈین صوبہ کیوبک سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی طالب علم ’’ٹوبائس کیو‘‘ کو بطور کائونٹر پارٹ نامزد کیا گیا۔ موصوف ایک عمدہ کھلاڑی، موسیقی کے شوقین اور ہنسی مذاق کے خوگر زندہ دل طالب علم تھے، جسے انگریزی اور فرنچ دونوں زبانوں پر عبور تھا۔ ہم دونوں کو صوبہ ’’انٹاریو‘‘ کے نسبتاً چھوٹے لیکن انتہائی خوبصورت اور رائل انگریزی وضع قطع رکھنے والے شہر ’’لنزے‘‘ کی میزبان فیملی میں رہنے کے لئے بھجوا دیا گیا۔ اس دوران تعلیمی اور مزید سماجی آگاہی کیلئے اس شہر میں خوبصورت کھیل کے میدانوں کے حامل لنزی کالجیٹ اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ‘‘ (LCVI) میں عارضی ایڈمشن ہو گیا تاکہ میزبان فیملی میں رہتے ہوئے ہمیں کینیڈین تعلیمی کلچر سے بھی خوب آگہی ہو۔ ’’کوارتھا‘‘ ریجن کی خوبصورت جھیلوں میں گھرا یہ چھوٹا شہر جس کے بیچوں بیچ جنت نظیر دریائے ’’سوگاگ‘‘ بہتا ہے۔ اب بھی فردوس کا ارضی ٹکڑا دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے قیام کے دنوں میں ہی یہاں خزاں رسیدگی شروع ہو گئی۔ سنہری اور سرخ رنگوں میں بدلتے درختوں کے پتوں کی Leaf Peeping کیلئے سرشام شہریوں کے ٹولے لنزی کی شاہراہوں پر نکل پڑتے۔ مسز کیفری ہماری میزبان فیملی کی سربراہ تھیں، جن کے تین بیٹے (ہمارے بھائی) ولیم، شئین اور روزی اسکول طالب علم تھے۔ ان سے ہر روز شام کے کھانےپر خوب گپ شپ رہتی۔ ہم دونوں کائونٹرپارٹس کو شب بسری کیلئے گھر کے خوبصورت بیسمنٹ میں جگہ فراہم کر دی گئی جس میں چند پابندیوں اور مشروط ڈسپلن کیساتھ ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے میوزک کی اجازت تھی۔ ہمارے ٹیپ ریکارڈر اور قریب رکھے ہوئے ڈیپ فریزر کا کنکشن حیرت انگیز طور پر مشترکہ تھا۔ ہمیں تو چند قوالیوں اور پاکستانی غزلوں، گیتوں کے سوا میوزک کا چنداں شوق نہ تھا، لیکن موصوف ٹوبائس اس تہہ خانہ میں رات گئے تک دھمک والے میوزک سے دل بہلاتا رہتا۔ اس فیملی اور شہر میں نہایت خوشگوار دن گزر رہے تھے، پھر دفعتاََ ہمیں نظر لگ گئی۔ ہوا یوں کہ ہم دونوں مہمانوں میں سے کسی نے ٹیپ ریکارڈر کے استعمال کے بعد ڈیپ فریزر کے کنکشن کو بحال کئے بغیر چھوڑ دیا۔ بعدازاں بیرون شہر چند روز کیلئے مطالعاتی دورہ پر روانہ ہو گئے۔ بدقسمتی سے میزبان فیملی ہماری غیرذمہ داری کو نوٹ نہ کر سکی اور یوں اس میں ذخیرہ کردہ کھانے پینے کی کثیر اشیاء جنہیں آنیوالے موسم سرما میں استعمال کیلئے اسٹوروں سے خریدا گیا تھا، بوسیدہ ہو گئیں۔ مسز فرین کیفری کیلئے یہ بہت بڑا سانحہ تھا۔ کئی گھنٹوں تک میزبان فیملی باتوں باتوں میں کسی ایک کی غلطی کا تعین نہ کر سکی تو تیرہ سالہ منجھلے بھائی شئین نے خاموش ٹیپ ریکارڈر کو چیک کرنے کی تجویز دی۔ چنانچہ تہہ خانہ میں موجود ٹیپ ریکارڈر کے چیمبر کو ملاحظہ کیا گیا تو اس میں ’’ٹوبائس کیو‘‘ کے پسندیدہ میوزک کیسٹ کی موجودگی نے ہمارے پروگرام ساتھی کو شرمندہ کر دیا۔ بعدازاں N.G.O. انتظامیہ نے کیفری خاندان کی مالی تلافی بھی کر دی، لیکن اس واقعہ نے میرے دل میں کینیڈین بچوں کی ذہانت، انکی نسلی تعصب سے پاک تفتیش کے انداز نے بہت متاثر کیا۔ میرے استفسار پر بچوں نے بتایا کہ کینیڈین اسکولوں کے نصاب میں ایسے چھوٹے چھوٹے گھریلو معاملات اور واقعات سے نمٹنے کیلئے باقاعدہ ابواب شامل ہیں۔ ان ابواب میں جہاں بچوں کو گھریلو آداب اور شہری اخلاقیات سے آگاہ کیا جاتا ہے، وہاں نسلی اور گروہی تعصبات سے بیزاری کا درس بھی دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہم یہاں اپنی سماجی عادات کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ ہم کس شدت کیساتھ چھوٹے چھوٹے تعصبات اور ناانصافیوں کے خوگر ثابت ہو رہے ہیں۔ افسوس ہم اکثر و بیشتر ذاتی نسبتوں اور ریفرنس کو اہمیت دیتے ہیں۔ نام نہاد میرٹ کا تعین نسلی اور گروہی تعلقات کی بنا پر فائنل کرتے ہیں۔ ہم پہلی نظر میں ٹوپیوں کے رنگ، لباس اور لسانی انداز سے اپنے پسندیدہ لوگوں کا انتخاب کر لیتے ہیں، بغیر رسمی سفارش انہیں نواز دیتے ہیں اور میرٹ والوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یوں معاشرہ میں (Trusted Deficit) کو فروغ مل رہا ہے۔ گروہی اور قبائلی عصبیتوں کے ذریعے انصاف کی تباہی، علم و ہنر کو پچھاڑ رہی ہے ۔ افسوس کہ ہم اپنے ملک کے عدالتی نظام اور دفاتر میں میرٹ سے برعکس رویوں کے ہر وقت شاکی رہتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی ہم نے چھوٹے چھوٹے معاملات میں ذاتی تعصبات، گروہی ناانصافیوں اور برادری ازم کی ناپسندیدہ عادات کو ملاحظہ کیا جسکی وجہ سے ہم کئی قسم کی خرافات میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جس نے ہمارے سماجی ڈھانچے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ہم گروہ دَر گروہ تقسیم ہو چکے ہیں ۔ ان اجتماعی رویوں کی وجہ سے ہم کہیں ملکی سطح پر گروہی تصادم کی طرف تو نہیں بڑھ رہے؟ خدانخواستہ اگر ایسی صورتِ حال کا احتمال ہے تو ہمارے دینی اور تعلیمی اداروں کو فوری طور پر تعلیمی نصاب پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ ایسے تعصبات کیخلاف اور ناانصافیوں کی حوصلہ شکنی کیلئے ازسرنو قوانین کو وضع کرنا ہو گا۔ نوجوانوں کی ذہن سازی کرنا ہو گی۔

تازہ ترین