• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک دورتھاجب جگہ جگہ کمپیوٹرٹریننگ سنٹر کھلے ہوئے تھے۔ونڈوزانسٹال کرنے ،پاورکیبل بدلنے اوروائرس ریموو کرکے ہارڈ ڈسک کی پارٹیشن بنانے والے کمپیوٹرانجینئر مشہورہوگئے ۔ بعدمیں جب گلی گلی دکانوں پر یہ’انجینئرز‘ نظرآنے لگے تو انہیں مکینک کہا جانے گا۔یوٹیوب چینل اور ڈیزائننگ اکیڈمیوں کے بعدآج کل سوشل میڈیاپراے آئی سکھانے والوں کی بھرمارہے۔ اِن کادعویٰ ہے کہ ہم آپ کو دوماہ میں اے آئی کے استعمال میں ماہر بنا دیں گے ۔ ایک اشتہار میں تویہ بھی لکھاہواتھا ‘اے آئی کاپندرہ سالہ تجربہ’۔سمجھ نہیں آتی کہ یہ ماہرین اکیڈمیاں کیوں کھولے بیٹھے ہیں۔انہیں تو ایلون مسک اور بل گیٹس جیسے لوگوں کے پاس ہوناچاہیے تھا۔اِن کے دعوے سنیں تو ایسا لگتاہے جیسے کمپیوٹرسائنس کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لانے والوں میں یہ بھی شامل تھے حالانکہ یہ اے آئی کو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اے آئی انہیں جانتی ہے ۔اگرآپ کوئی راکٹ سائنس ٹائپ کا کام نہیں کرناچاہتے توعمومی استعمال مثلاً وڈیو،ا سٹوری بورڈ، امیج کری ایشن، میوزک، وائس اوور وغیرہ کے لیے مشین لرننگ سیکھنے کا سب سے بہترین طریقہ خود اے آئی ہے۔ آپ نے جوکچھ بھی بنانا ہے اگر اس کی پرامٹ کا نہیں پتا تو یہی سوال اے آئی سے پوچھ لیں وہ نہ صرف تفصیلی جواب دے گی بلکہ پرامٹ کی ساری زبان بھی بتا دے گی۔لیکچر ہی سننے کاشوق ہو تو یوٹیوب بھری پڑی ہے۔گذشتہ دنوں ایک دوست سے ملنے گیا توان کے گھر سے ذرا پہلے ایک مارکیٹ میں بورڈ لگا دیکھاجس پر لکھا تھا ‘اے آئی ٹریننگ سنٹر’۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اندر گیاتو پتا چلاکہ ایک صاحب ہیں جو اے آئی کی کلاسز لیتے ہیں۔ میں نے صرف اتنا پوچھا کہ آپ کے پاس اے آئی کا کوئی پیڈ ورژن ہے؟اس پروہ بوکھلا کر بولے’اِس کی کیا ضرورت ہے‘ ۔میں نے پوچھا کہ آپ جو کچھ سکھاتے ہیں وہ اسٹوڈنٹس کہاں تجربہ کریں؟اس پرانہوں نے بہترین جواب دیا کہ ’ہم صرف تھیوری سکھاتے ہیں‘۔میں سارے رستے اس جملے پر غورکرتا رہا، ممکن ہے اے آئی بنانا سکھاتے ہوں ۔کسی ٹیویشن سنٹر سے اے آئی سیکھناایساہی ہے جیسے پکوڑوں کی دکان پرجاکرپوچھا جائے کہ پکوڑے کہاں سے ملیں گے۔سب سے بہترین، ہر وقت اوربغیرفیس کے دستیاب ٹیچر خود اے آئی ہے۔جب تک آپ اس کا کوئی پیڈ ورژن نہیں خریدتے یہ سمجھ آنے کے باوجودآپ کے زیادہ کام کی نہیں کیونکہ مفت میں اس کی رسائی محدودہے اورسارے تجربات ناممکن ہیں۔ہاں اگر پیڈ ورژن خرید لیا ہے تو پھر اسے سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔جتنے پیسے اے آئی سیکھنے پر لگانے ہیں اتنے میں پیڈ ورژن خریدیں سب کچھ سمجھ آجائے گا۔

٭ ٭ ٭

آج کل ایک فلمی ادیب کا سوشل میڈیا پر بہت تذکرہ ہے۔ان کے کریڈٹ پر بہت سی کامیاب پنجابی فلمیں ہیں ۔ وہ سوشل میڈیا پرفلمی وی لاگ بھی کر رہے ہیں اورویوز کی ریس میں شامل ہونے کے بعد ماضی کی فلمی اداکاراؤں کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ کون سی ہیروئین کس محلے سے آئی۔اس صورتحال پرماضی کی ایک ہیروئین نے شدید احتجاج بھی کیااور بڑے کرب سے کہا کہ اب میں نانی دادی بن چکی ہوں کچھ تو میری فیملی کا خیال کریں۔ہمارے ہاں سچ وہ ہوتاہے جو دوسروں کے بارے میں بولا جاتاہے اپنا پورا سچ ہم کبھی نہیں بتاتے۔ادیب صاحب کو چاہیے کہ کچھ اپنے بارے میں بھی بتائیں کیونکہ اُن کی زبان سے اُن کا کردار پوری فلمی دنیا میں سب سے پارسانظر آتاہے۔مزا توجب ہے کہ وہ اس بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھونے کا بھی ذکر کریں کیونکہ وہ تواُس فلمی دنیا کا حصہ تھے جب اس لائن کے زیادہ ترلوگ ایک ہی ماحول کے عادی تھے۔ادیب صاحب کے پاس اس موضوع کے علاوہ بھی بہت سے واقعات ہوں گے پھرایسی باتیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے ؟ اگر کسی سابقہ ہیروئین نے ان کے ’معاملات‘ پربھی روشنی ڈال دی تو کیااس سے وہ ڈسٹرب نہیں ہوں گے؟ہربندے کی ایک سابقہ اور نجی زندگی ہوتی ہے اوروہ عموماً پاک صاف نہیں ہوتی ’وہ جوانی جوانی نہیں جس میں کوئی کہانی نہ ہو‘۔یہ کہانیاں کسی کے علم میں ہوں نہ ہوں لیکن بندے کو خود ضرور پتا ہوتاہے ۔

٭ ٭ ٭

ادارہ فروغِ قومی زبان ایک اہم علمی، ادبی، تحقیقی و ثقافتی ادارہ ہے جس کا مقصد قومی اور عالمی سطح پر قومی زبان کا فروغ اور اس کے علمی، ادبی اور تحقیقی سرمائے کی ترویج و اشاعت ہے۔ یہ ادارہ اپنے قیام سے اب تک سات سو سے زیادہ کتب شائع کر چکا ہے۔ پاکستان کے دوست اور برادر ملک اُزبکستان کے نامور محقق، لغت نویس اور ادیب تاش مرزا خالمر زائف جنہوں نے نہ صرف اُردو کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ اُزبکستان اور پاکستان میں دونوں زبانوں پر بہت کام کیا حال ہی میں ان کی ’’اُردو- روسی لغت‘‘ اور’’اُردو -اُزبک لغت‘‘ منظر عام پرآئی ہے جسے ادارہ فروغ قومی زبان نے شائع کیا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر تاش مرزا خالمرزائف رہتے تو ازبکستان میں ہیں مگر اُن کا دِل پاکستان میں اٹکا رہتا ہے ۔اُردو کے لیے اُن کی محبت کاجواب نہیں۔یوں سمجھ لیں آپ اُزبکستان میں پاکستان کے سفیرہیں۔ اس لغت کو مرتب کرنے میں تاش مرزا صاحب کے صاحبزادے ِارجمند عادل اورشاگردہ پروفیسرمحیا عبدالرحمٰن نے ادارہ فروغ زبان کے درمیان رابطے کااہم فریضہ سرانجام دیا اوریوں یہ اپنی نوعیت کی جامع لغت تیار ہوسکی۔ اُزبکستان کے بارے میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ بہت مددگار کتاب ہے۔ دونوں ملکوں کے سیاحوں کی سہولت کیلئے اس میں بہت اہم الفاظ شامل ہیں جن کی مدد سے اُزبکستان میں روزمرہ امورسر انجام دیے جا سکتے ہیں۔ اس مشکل کام کو دن رات کی محنت سے انجام دیا گیاہے ایگزیکٹو ڈائریکٹرراشد حمید ، ڈائریکٹرجنرل پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر اور ان کے رفقاء نے جن میں ڈاکٹر عارف حسین، محبوب خان بگٹی، کامران مشتاق، منظور احمد، رضوان عزیز اور نورمحمدخاور شامل ہیں۔ڈاکٹر سلیم مظہرصاحب کی جناتی شخصیت سے گزارش ہے کہ اس لغت کو موبائل ایپ میں بھی کنورٹ کروائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

تازہ ترین