مبشر علی زیدی صحافی ہیں، ’جنگ‘ میں ’سو لفظوں کی کہانی‘ لکھتے ہیں، حال مقیم امریکہ ہیں۔ گزشتہ برسوں میں جن چند لوگوں نے ’انٹلیکچوئلی‘ ترقی کی ہے، مبشر علی زیدی اُن میں سے ایک ہیں۔ حال ہی میں ایکس پر اُن کی ایک پوسٹ نظر سے گزری، لکھتے ہیں: ”میں نے پاکستان میں گزارے آخری بیس سال میں کوئی اخبار نہیں خریدا... پاکستانی اخبارات، خاص طور پر اردو اخبارات میں ایسا کیا انوکھا پن ہے کہ کوئی پڑھے۔ خبریں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے مل جاتی ہیں۔ اشہارات سے عام قاری کو کیا غرض۔ میگزین صفحات کم یا ختم ہوچکے ہیں۔ خیر، ان میں بھی کیا ہوتا ہے۔ پٹے ہوئے موضوعات پر پھسپھسے مضامین۔ آپ لکھنے والے کو پیسے نہیں دیں گے تو وہ شوقیہ چاند ماری کرے گا۔ اس پر تو ایسا ہی مال ملے گا۔ ان سے بہتر مواد بی بی سی اور دوسری نیوز ویب سائٹس پر مل جاتا ہے۔
پاکستانی اخبارات کو بھی سبسکرپشن ماڈل پر جانا چاہیے۔ لیکن آپ کے پاس ہے کیا؟ کوئی ایکسکلوژو رپورٹ؟ کوئی تہلکہ خیز اسکوپ؟ کوئی ان ڈیپتھ اینالیسز؟ کوئی انوکھی پوڈکاسٹ سیریز؟ کوئی چونکا دینے والے فیکٹس؟ نیویارک ٹائمز کے سبسکرائبرز کی تعداد ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں، اسکائے از دا لمٹ۔ لیکن آپ کے پاس کچھ بیچنے کو تو ہو۔ نان لپیٹنے والا کاغذ تو کوڑیوں کے مول ہی بکے گا۔“
کچھ خیالات آپ کے ذہن میں منتشر ہوتے رہتے ہیں مگر آپ انہیں ترتیب نہیں دے پاتے، ایسے میں جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہو جاتا ہے، مبشر علی زیدی نے یہی کیا۔ میں سوچتا تھا کہ آخر کچھ عرصے سے میں اخبارات کیوں نہیں پڑھ پا رہا، حالانکہ میرا انٹرنیٹ براؤزر از خود تمام اخبارات کی ویب سائٹ کھول دیتا ہے۔ میں اخبارات کی ویب سائٹس پر نظر دوڑاتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ تمام خبریں تو باسی ہو چکی ہیں، فقط چند کالم پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ایسے میں کیا کوئی اخبار کا اچار ڈالے؟ پٹرول چھ روپے سستا ہو گیا، آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیا، ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دے دی، عید الاضحیٰ کا چاند نظر آ گیا۔اِن خبروںکیلئے اخبار خریدنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تمام خبریں آپ مفت میں سوشل میڈیا یا اخبارات کی اپنی ویب سائٹس پر پڑھ سکتے ہیں۔ سو دن کو گیارہ بجے جب اخبارات اپنا ای پیپر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں تو اُس میں کوئی تازہ خبر، ایکسکلوژو مواد، اسکوپ یا تجزیہ نہیں ہوتا۔ اِس کے برعکس بی بی سی جیسے ادارے صرف خبر ہی نہیں دیتے بلکہ اُن خبروں کا مُرقع بنا کر اُن سوالات کا جواب تلاش کرتے ہیں جو عام آدمی کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ مثلاً ’پاکستان میں رہائشی پلاٹوں کے نام پر فائلوں کا غیر قانونی کاروبار کیسے کیا جاتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ کیا اے آئی کی وجہ سے پاکستان میں فری لانسنگ خطرے میں ہے؟ سوات میں سیرینا ہوٹل سے 40سال بعد وزیر ہاؤس کی تاریخی عمارت کیوں واپس لی گئی؟
کیا پاکستان میں سیکورٹی صورتحال میں بہتری افغانستان میں طالبان حکومت کی مددکے بغیر ممکن نہیں؟ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ:حکومتِ پاکستان کسی بحران سے بچنے کے لیے خود تیل کا ذخیرہ کیوں نہیں کر سکتی؟ دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟‘ یہ نمونے کی چند خبریں اور تجزیے ہیں جو میں نے بی بی سی کی ویب سائٹ پر دیکھے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی اخبارات میں سرے سے ایسے تجزیے ہی شائع نہیں ہوتے، ایک آدھ انگریزی اخبار اب بھی روایت نبھا رہا ہے مگر اردو اخبارات میں یہ نظر نہیں آتا۔ کسی زمانے میں اخبارات کے میگزین سے کچھ دلچسپ اور معلوماتی مواد مل جاتا تھا، مگر کئی برس سے یہ کام بھی بند ہے، اب فقط خانہ پری کیلئے اتوار کو دو چار صفحے میگزین کے نام پر شائع کیے جاتے ہیں تاکہ اخبار کہلانے کا بھرم رہ سکے۔ رہی سہی کسر اے آئی نے پوری کر دی ہے، اب صحافیوں اور لکھاریوں کو تجزیہ کرنے کیلئے کچھ ایسا کرنا پڑئیگا کہ قاری پڑھنے پر مجبور ہو اور یہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ اے آئی زندگی آسان کرے گا، اِس نے تو اُلٹا اجیرن کر دی ہے۔
سچ کہوں تو میں بی بی سی کا بھی کچھ زیادہ مداح نہیں، اِسے اندھوں میں کانی رانی سمجھ لیں۔ مجھے اسِ کے حد سے زیادہ انگریزی الفاظ کے استعمال سے چِڑ ہے، کہنے کو یہ اردو ویب سائٹ ہے اور کسی زمانے میں اس کے میزبان اور تجزیہ نگار اردو دان سمجھے جاتے تھے مگر وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے، اب بی بی سی کی خبروں میں زبان اور صرف و نحو کی غلطیاں ہوتی ہیں اور ان کے میزبان گفتگو میں جا بجا وہ انگریزی الفاظ بھی بولتے ہیں جن کا صاف اور سیدھا متبادل اردو میں موجود ہے۔ مزید برآں بی بی سی والے اپنا سودا بیچنے کیلئے سیکس کی چھابڑی بھی لگاتے ہیں اور بعض اوقات معلوماتی تجزیے کے نام پر ایسی ایسی خبریں شائع کرتے ہیں کہ ’پورن‘ کا گمان ہوتا ہے۔ ادھر پاکستانی اخبارات کا مسئلہ یہ ہے کہ سنسرشپ کی دو دھاری تلوار کے زیر اثر شائع ہوتے ہیں، لیکن یہ سنسرشپ آج کی نہیں کئی دہائیوں سے موجود ہے لہٰذا یہ رعایتی نمبر آج نہیں دیے جا سکتے۔ دوسری طرف اِس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے پاس کئی کہنہ مشق اور بے باک صحافی ہیں جن کا مقابلہ عالمی پائے کے صحافیوں سے کیا جا سکتا ہے اور یہ کوئی معمولی اثاثہ نہیں، لیکن عجیب بات ہے کہ ہماری صحافت اُس معیار کی نہیں جس معیار کے ہمارے صحافی ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ایک اور بات یہ بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ ہم نے غیر ملکی تبصرہ نگاروں اور صحافیوں کے تجزیوں کو سن اور پڑھ کر اپنی رائے قائم کرنی شروع کر دی ہے، ولی نصر اور فرید زکریا کو سنتے ہیں، جو کہ قطعاً غلط بات نہیں، غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر لازماً نظر رکھنی چاہیے، مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارا تجزیہ وہیں سے پھوٹے۔
آج کل ڈاکٹر کے پاس جاؤ تو کہتا ہے کہ پہلے ٹائیفائڈ کا ٹیسٹ کروا کے لاؤ پھر بتاؤں گا کہ کون سی دوا لینی ہے۔ بندہ پوچھے کہ اگر یہی کرنا ہے تو میں خود چیٹ جی پی ٹی کو اپنی رپورٹ دکھا کر دوا کیوں نہ پوچھ لوں۔ سو، اگر ولی نصر اور فرید زکریا کا تجزیہ ہی سننا ہے تو میں خود سن لوں گا، پاکستانی اخبار کھولنے کی کیا ضرورت ہے۔ اِس تمام بحث میں جس بات کا احاطہ نہیں کیا جا سکا وہ پاکستان کا سوشل میڈیا، وی لاگ اور پوڈ کاسٹ کا نیا رجحان ہے۔ کالم کا پیٹ چونکہ بھر چکا ہے اِس لیے یہ موضوع پھر کسی وقت کیلئے، فی الحال مبشر علی زیدی کا مقرر شکریہ۔