• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیجیٹل سونامی کے زیر اثر صحافت کے انتہائی تیزی سے بدلتے ہوئے اور بدل گئے اس منظرنامے میں الطاف حسن قریشی صحافت کا بے مثال اور منفرد کردار لگتے ہیں۔ایسے کہ کوئی چاہ کر بھی ان کی طرح کی صحافت اب اس دور میں نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی حیات ہی میں صحافت کا ایک اساطیری کردار بن چکے تھے۔ تاریخ و سیاست سے جو کہانیاں اور واقعات ان کے پاس سنانے کو تھے ہم جیسے انہیں سنتے تو حیرت اور استعجاب سے انہیں دیکھتے۔ورچوئل انٹرویو کرنیوالے، ویڈیو کالز پر شخصیات سے بات چیت کرنے والے ،تیز ترین ذرائع کی مدد سے بیٹھے بیٹھےسوالات کے جواب حاصل کرنیوالے ڈیجیٹل دور کے میڈیا پرسن کیا جانیں کہ 60 کی دہائی کے رکے ہوئے ٹھہرے ہوئے وقت میں الطاف حسن قریشی نے تاریخ کی بڑی شخصیات کے انٹرویو کا ٹائم لینے کیلئے کیسی کیسی مشقت کی۔ ڈائجسٹ صحافت میں نئے رحجانات کی بنیاد رکھی، معاشرتی اور سماجی حلقوں سمیت سیاسی حلقوں میں بھی مقبولیت حاصل کی اور غیر معمولی سرکو لیشن سے روزناموں کو مات دی۔وہ اپنی ذات میں صحافت کا ادارہ اور ایک دبستان تھے مگر پھر بھی حقیقی عاجزی سے بھرے انسان تھے ۔وہ عمر کی 90 دہائیاں عبور کرنے کے باوجود اپنے نئے دور سے جڑے ہوئے تھے۔ اپنے سے جونیئر ترین صحافیوں، کالم نگاروں کو پڑھتے اور باقاعدہ فون کرکے انہیں سراہتے گویا انہیں دلوں میں گھر کرنے کا ہنر آتا تھا ایسا کرنے میں کبھی ان کی صحافتی عظمت اور بڑائی آڑے نہیں آئی۔مجھے بھی ان کی شفقت میسر رہی ۔میں نے کالم لکھنا شروع کیا تو میرے نام میں قریشی لفظ کی نسبت کئی لوگ ای میلز میں یہ سوال کرتے کہ کیا آپ اردو ڈائجسٹ والے قریشی برادران کے خاندان سے ہیں۔اب ہم کیا بتاتے کہ اردو ڈائجسٹ ہمارے بچپن سے آج تک ہماری فکری آبیاری کرتا رہا ہے اور ہم فکری طور پر خود کو اسی خاندان کا فرد سمجھتے ہیں۔انہیں میرا کوئی کالم پسند آتا تو ضرور فون کر کے سراہتے تھے۔وہ ہر لحاظ سے منفرد اور بے مثال تھے کون ایسا ہے جسے ہارون الرشید اور مجیب الرحمن شامی جیسے جید اور قدآور صحافی و دانشور اپنا بڑا تسلیم کریں یہ کہہ کر کہ ہم نے الطاف حسن قریشی صاحب کے ساتھ اپنی صحافت کا آغاز کیا ۔ممتاز ادیبہ سلمیٰ اعوان صاحبہ نے بھی کچھ عرصہ اردو ڈائجسٹ میں کام کیا۔ ایسے ہی نہیں ، مجیب الرحمٰن شامی انہیں صحافیوں کا داتا گنج بخش کہا کرتے اس لحاظ سے کہ ان کے گرد ان کے مداحین اور عقیدت مندوں کا حلقہ موجود رہتا ۔الطاف حسن قریشی صاحب پانچ برس کم پوری ایک صدی جیے اور ایسے کہ انہوں نے بطور صحافی قابل ر شک زندگی گزاری ایک نہیں کئی نسلوں کی فکری آبیاری کی اپنی تحریروں کے ذریعے۔

ان کی خوش امیدی، مستقل مزاجی ،عمل پیہم ،رواداری ،وضع داری، لوگوں میں اچھائی دیکھنے کا ہنر ،اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ حیران کن تھا ۔کاش اس میں سے چند فیصد بھی کسی کو میسر آجائے تو سمجھیں بیڑا پار ہے۔ایک دفعہ سوال کیا زندگی میں آپ تو مشکل ترین مرحلوں سے گزرے ہوں گے آپ کس طرح اپنے آپ کو خوش امید رکھتے ہیں وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے ۔ بس یہ چیز ہمیشہ امید بھرا رکھتی ہے۔بڑھتی ہوئی عمر میں جسم کمزور ہو رہا ہو تو اس کا مزاج پر اثر پڑتا ہے مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی تھی کہ کبھی کوئی چڑچڑا پن ، گلہ شکوہ یا مایوسی ان کے مزاج سے نہیں جھلکتی تھی۔کبھی انہیں گلہ کرتے نہیں دیکھا یا سنا ان سے آخری ملاقات جم خانہ میں ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں ہوئی تھی مہمانوں کی فہرست سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان سے محبت کرنے والے وہ بھی ہیں جو ان سے نظریاتی طور پر اختلاف رکھتے ہیں۔یقیناََ یہ ان کی طبیعت کی حلیمی اور وضع داری کی بدولت تھا کہ وہ اختلاف کو بہت خندہ پیشانی سے سنتے اور بغیر کسی تعصب کے اپنا موقف بیان کردیتے۔ یہ ہنر چھوٹا ہنر نہیں ہے آج ہمارے مزاجوں میں اسی توازن کی کمی ہے۔سیاست سے لے کر معاشرت تک انفرادی سے اجتماعی زندگیوں تک دیکھیے کہ لوگوں نے اپنی زبانوں کو برچھیوں میں بدل رکھا ہے اختلاف رائے ناقابل برداشت ہے ۔ غداری اور کفر کے گھونسے مار کر دوسرےکو ادھ موا کرنے کا چلن عام ہے۔ برداشت، رواداری،طبیعت کی حلیمی معاشرے سے عنقا ہو چکی ہے جبکہ یہ وہ عناصر ہیں جو شخصیت کو مخالفین میں بھی مقبول بناتےہیں ۔ کم و بیش سات دہائیوں پر مشتمل ان کا صحافتی اثاثہ شاندار اور بے مثال ہے ۔وہ کمال انٹرویو نگار تھے سات دہائیوں پر مشتمل صحافتی کیرئیر میں انہوں نے اپنے وقت کی عظیم شخصیات کے انٹرویو کیے۔ آج کی طرح قحط الرجال کا دور نہ تھا کیسی کیسی شخصیات نہ تھیں جن کے انٹرویو جناب الطاف حسین قریشی صاحب نے کیے مولانا مودودی، ذوالفقار علی بھٹو، خادم حرمین شریفین شاہ فیصل کا انٹرویو بھی انہوں نے کیا ،اس اہم ترین انٹرویو کا وقت لینے کیلئے انہیں کتنے دن انتظار کرنا پڑا کن کن مراحل سے گزرنا پڑا اس کا تذکرہ بھی وہ انٹرویو میں کرتے ہیں ۔وہ اپنا اردو ڈائجسٹ بھی شاہ فیصل کو پیش کرتے ہیں شاہ فیصل رسالے کی سرکولیشن کا پوچھتے ہیں جواب آتا ہے ’’ ایک لاکھ‘‘یہ 1967کا دور ہے، شاہ فیصل اس پر حیران ہوتے ہیں۔وہ مسلسل سات دہائیوں تک بطور صحافی اپنے کام میں مصروف و مشغول رہے زندگی کی اونچ نیچ بیماری سستی اور آخری عمر کی جسمانی کمزوری اور بیماری کے باوجود اپنا ہفتہ وار کالم لکھتے تھے کتابیں مرتب کرتے، کتابیں شائع کرواتے رہے وہ ایک پورا عہد تھے اور ان کی رخصتی صحافت کے ایک شاندار عہد کا اختتام ہے۔ وہ عہد جو اُن کی مرتب کی ہوئی کتابوں میں ہمیشہ سانس لیتا رہے گا اور وہ ان کتابوں میں صحافت کے اساطیری کردار کے طور پر زندہ رہیں گے۔

تازہ ترین