قربانی پر اعتراض کرنے والوں کو خوفِ خدا کرنا چاہیے، کیونکہ قربانی ایک مستقل واجب، عبادت اورشعائر اسلام میں سے ہے۔ آپ ﷺنے مدینہ منورہ کے 10 سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی۔ صحابہ کرامؓ،تابعینؒ، تبع تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ، اسلاف ؒ اور اکابرؒ غرض، پوری امت کا متوارث، متواتر اور مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے۔ قرآن و حدیث میں قربانی کرنے کی بے حد فضیلت آئی ہے۔قرآن کی سورۃ الحج کی آیت 34 ہے۔ ترجمہ: ’’اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔‘‘ اسی طرح سورۃ الکوثر کی آیت 2ہے: ’’ لہٰذا تم اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔‘‘ قربانی کی فضیلت پر بے شمار احادیث بھی آئی ہیں۔ ’’حضرت عائشہؓسے روایت ہے آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کے تمام اعمال میں پسندیدہ ترین عمل جانور کا خون بہانا ہے اور بندہ قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ کی بارگاہ میں شرف قبول حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ خوش دلی سے قربانی کرو۔ ‘‘ (ترمذی: 1/ 180) ۔ اب آتے ہیں قربانی کے معاشی فوائد کی طرف! ’’جان مینارڈ کینز‘‘ کو دنیا کا نمایاں ترین ماہر معیشت سمجھا جاتا ہے۔ آپ اگر برصغیر میں انگریز کی معاشی چیرہ دستیوں کا احوال پڑھنا چاہتے ہیں تو کینز ایک خاصے کی چیز ثابت ہوگا۔ دنیا کی ہر یونیورسٹی میں اس کے معاشی نظریات پڑھائے جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی بنت اسی کے نظریات پر مبنی ہوتی ہے۔ اس نے investment multiplier کے نام سے ایک نظریہ پیش کیا۔ اس کا دعوی تھا حکومت یا عام آدمی جب اپنی جیب سے چند روپے نکالتا ہے تو معیشت کا پہیہ حرکت میں آجاتا ہے۔ کینز کے اس نظریے کو مغربی نظریہ ’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘ کی بنیاد بنایا گیا۔ اس نظریے کے مطابق عیدالاضحی نجانے کتنا بڑا investment multiplier ہے۔ جس کی برکت سے ایک دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری کی غلام گردشوں کا ایسا چکر ہے جس میں سراسر فائدہ غریب کا ہی ہے۔ ایک نظر خالص بزنس کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر فارمنگ انڈسٹری تیزی سے بڑھتی ہے۔ اس کے بعد کیٹل انڈسٹری کو عروج ملتا ہے۔ پھر لیدر انڈسٹری کا پہیہ حرکت میں آجاتا ہے۔ یہ تین انڈسٹریز تو براہ راست اس سے متحرک ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار انڈسٹریز کو اس موقع پر فائدہ پہنچتا ہے۔ اسلامی ممالک میں ابھی انڈسٹریز کو اتنا فروغ حاصل نہیں ہوا۔ ورنہ ان جانوروں کی اون، ہڈیوں، چربی اور انتڑیوں سے ایسے ایسے بزنس وجود میں آسکتے ہیں، جن سے لاکھوں افراد کو مزید روزگار میسر آسکتا ہے۔ حکومت تھوڑی سی بھی دلچسپی لے تو جانوروں کی باقیات سے روزگار کے سیکڑوں مزید مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔جانوروں کی باقیات سے واٹر پروفنگ، آگ سلگانے، موم بتی بنانے، صابن اور کاسمیٹکس بنانے سے لے کر مختلف اجزاء میں ڈھالنے تک سیکڑوں ہزاروں پروڈکٹس بنائی جاسکتی ہیں۔ جن فضلات کو ٹھکانے لگانے اور شہر سے باہر ڈمپ کرنے پر ملک بھر کی میونسپلٹی اپنی توانائیاں جھونک دیتی ہے، ان کو کارآمد بناکر اربوں کے بزنس شروع کیے جاسکتے ہیں۔ذرا سی حکومتی توجہ اور تاجرانہ اپروچ اس کام کو ملک کی خوشحالی کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ پھر شاید وہ وقت آجائے جب کمپنیاں خود ہی تمام گھروں سے باقیات جمع کررہی ہوں اور کچرے کے ڈھیر سے بزنس کے پہاڑ کھڑے کر رہی ہوں۔ آپ نے مشہور مقولہ سنا ہوگا: ’’ہمیں ایڈ نہیں، ٹریڈ چاہیے‘‘۔ غریبوں کو بھی امداد نہیں، باعزت روزگار چاہیے۔ قربانی کے جانور کون پالتا ہے؟ ان جانوروں کے چارے کا بندو بست کون کرتا ہے؟ مانتے ہیں کہ اب بڑے بڑے کاروباری گروپس بھی اس بزنس میں آگئے ہیں، مگر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ غریبوں کی آمدنی کا اس سے بڑا کوئی ذریعہ ہے؟ کوئی ایسا عالمگیر ایونٹ نہیں، جس میں بے کس، نادار اور بے سہارا و بے آسرا افراد کو اتنے بڑے پیمانے پر روزگار مل رہا ہو۔ ہم بڑے دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر کراچی میں 30 ارب کے جانور بکتے ہیں تو اس کا بڑا حصہ غریبوں کی ہی جیب میں جاتا ہے۔ اگر کچھ بڑے کاروباری گروپس اس بزنس میں آئے بھی ہیں تو بھی پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے لاکھوں غریب اور پس ماندہ افراد ہی ان جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ قربانی کا ایک جانور، پوری معیشت کا پہیہ گھما دیتا ہے۔ گندم کا ایک دانہ اپنے ساتھ کم ازکم 150لوگوں کا رزق لے کر اگتا ہے تو ایک بکرا یا بیل اپنے ساتھ سیکڑوں افراد کا رزق لیے پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک غریب بکرے کو پالتا ہے تو اس کا چارا خریدنے دکان پر جاتا ہے۔ دکاندار وہ چارہ کسی ایجنٹ سے خریدتا ہے۔ ایجنٹ ، کسی کسان سے چارہ حاصل کرتا ہے۔ جانور کو مویشی منڈی لاتے ہوئے ٹرک مالکان کا حصہ نکلنا شروع ہوتا ہے۔ پھر کرایہ پر جگہ خریدی جاتی ہے۔ کیمپ لگایا جاتا ہے، ڈیکوریشن اور چارہ پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔ رسی، کیل کانٹے اور لکڑی کی صنعت میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ دیکھنے والے دور و نزدیک سے آتے ہیں۔ ان کے آنے سے دکانیں آباد، پیٹرول پمپس پہ رش اور فوڈ سینٹرز پہ کھوے سے کھوے چھلتا ہے۔ جب جانور بکتا ہے تو پھرتجارت کے اس رحمانی دائرے کا بابرکت سفر عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ ایک غریب خوش حال ہوجاتا ہے۔ سوزوکی یا مزدہ والے کو اس کا حصہ ملتا ہے۔ بکرا گھر آتا ہے تو بہت سے چہروں پر خوشی کھلکھلانے لگتی ہے۔ چارہ، دانہ دنکا اور خانساماں، رزق پھیلتا ہی چلا جاتا ہے۔ اب عید کا دن آتا ہے۔ قصائی پہنچا۔ کھال اتری اور بکی۔ پوری لیدر انڈسٹری اس دن کی منتظر ہوتی ہے۔ صرف عید کے تین دنوں میں لیدر انڈسٹری کو اپنا 30 فیصد خام مال مل جاتا ہے۔