(سوشل میڈیا پہ فیمنسٹوں اور مسوجنسٹوں کے درمیان کئی روزہ شدید تلخی کے ہنگام لکھا گیاجو ایک ادھیڑ عمر لکھاری کی طرف سے ایک گلوکارہ کی بڑھتی عمر کا مذاق اڑانے سے شروع ہوئی)۔وہ میری چچا زاد تھی ۔ ہم ایک گھر میں پل بڑھ کر جوان ہوئے تھے ، پھر بھی ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے ۔ وہ عورتوں کے حقوق کی علمبردار فیمنسٹ تھی ۔ میرا نقطہ نظریہ تھا کہ خدا نے مرد کو عورت پہ حاکم بنایا ہے۔ اس کا باپ اس کی ماں پہ تشدد کیا کرتا تھا ۔ ابھی وہ محض گیارہ برس کی تھی ، جب ماں مر گئی ۔ مرد سے نفرت اس کے خون میں رچ بس گئی ۔
باقی کزن سنی ان سنی کر دیتے لیکن جب میں نے اسے مردکی تذلیل کرتے دیکھتا تو ترکی بہ ترکی جواب دیتا ۔ وہ کہتی : مغرب میں عورت نے اپنا مقام حاصل کر لیاہے ۔ میں کہتا : مقام یہ حاصل کیا کہ فیمنزم کے خوبصورت جال میں پھنس کر و ہ مرد کی طرح بارہ بارہ گھنٹے مزدوری کرنے لگی ۔ تم پاکستانی عورتیں کس منہ سے فیمنزم کی بات کرتی ہو ۔ وہ کہتی : یہ تو تم کنویں کے مینڈکوں کی سوچ ہے ۔ عورتیں وہاں طلاق کی صورت میں آدھی جائیداد حاصل کرتی ہیں ۔ میں کہتا: جینیفر لوپیز جیسی عورتوں نے طلاق کو کاروبار بنا لیا ۔ شادیوں پہ شادیاں کرتے جائو، شوہر کے فرضی مظالم کا ڈھنڈارا پیٹتے جائو اور آدھی جائیداد ہتھیالو ۔ساتھ روتے جائو کہ سچا پیار نہیں ملا ۔ اس دن ہم سب ایک کافی شاپ میں کھڑے تھے ۔اچانک دروازہ کھلا اور ایک موٹا تازہ ہانپتا کانپتا شخص اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے چیختی چلاتی اس کی بیوی نمودار ہوئی ۔وہ چیخ کر بولی : کیسا برا وقت تھا، جب میرے باپ نے مجھے تمہارے ساتھ بیاہ دیا ۔ نہ شکل نہ عقل ۔ تم ہو کس کام کے، کاٹھ کے الو ۔ سب لوگ اس مرد کو ترحم آمیز نظروں سے دیکھنے لگے ۔ اس کے موٹے تازے شوہر نے سنی ان سنی کرتے ہوئے ٹوپی اتاری اور اپنے گنجے سر سے پسینہ صاف کرنے لگا ۔میری فیمنسٹ کزن بولی : دیکھا،آج عورت کو اپنے حقوق کا اچھی طرح علم ہے ۔ میں نے کہا : صاف نظر آرہا ہے کہ اس عورت کو عزت راس نہیں آرہی ۔ اس کے شوہر کی جگہ میں ہوتا تو ایک منٹ میں اسے اپنی زندگی سے دفعان کر دیتا۔ بولی : اس مرد نے بیوی کو ستایا ہی اتنا ہوگا کہ وہ بے عزتی پہ مجبور ہو گئی ۔
وہ عورت پھر چیخنے لگی :میرا باپ زندہ ہوتا تومیں پوچھتی کہ کس گناہ کی پاداش میں مجھے تمہارے پلے باندھ دیا ۔ موٹے شخص نے اپنی بیوی کو نظر انداز کرتے ہوئے گلاس میں پانی ڈالا اور ایک ہی سانس میں خالی کردیا ۔ اس کی بیوی نے چیختے ہوئے کہا : جانور ، گنوار ۔ موٹا شخص دوسرا گلاس بھی غٹا غٹ پی گیا۔ سب حیران تھے کہ وہ اتنے صبر کا مظاہرہ کیونکر کر رہا ہے ۔ایسے ،جیسے اسے اپنی بیو ی کی آواز آ ہی نہیں رہی۔اتنی دیر میں وہ ایک بار پھر شرو ع ہو گئی ۔ بولی : کچھ کھانے کے لیے منگوانا ہے یا نہیں ۔گھر جا کر فریج سونگھتے پھرو گے ۔ میں ہر چار گھنٹے بعد راتب تیار نہیں کر سکتی …
اچانک کافی شاپ کا دروا زہ کھلا اور تین لڑکیاں اندر داخل ہوئیں ، جنہوں نے ایک ہی رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ ان میں سے بڑی والی نے عورت کو چیختے سنا تو موٹے شخص اور اس کی بیوی کے درمیان خم ٹھونک کر کھڑی ہو گئی ۔غصے سے اس نے کہا : ماما آپ پھر بابا سے لڑ رہی ہیں ؟ وہ پہلے ہی بیمار ہیں ۔اس کی چھوٹی بہن بھاگ کر اپنے باپ کے پاس زمین پر بیٹھ گئی ۔ اس نے تسمے کھولے اور اپنے باپ کے جوتے اتار دیے ۔ میں نے دیکھا، موٹے شخص کے پائوں سوجے ہوئے تھے ۔وہ سوجی ہوئی انگلیاں اپنے ہاتھ سے دبانے لگی، جیسے اپنے وجود کی ساری ٹھنڈک باپ کی انگلیوں پہ انڈیل دینا چاہتی ہو ۔مجھے ایسا محسوس ہوا ، جیسے یہ ٹھنڈک خود میرے وجود میں اتر آئی ہے ۔ زندگی میں پہلی بار میرے دل میں بیٹی کی خواہش پیدا ہوئی ۔
سب سے چھوٹی بچی اپنے باپ کی طرف بھاگی اور لڑکھڑا کر گرنے لگی۔ موٹا شخص اچانک بجلی کی سی تیزی سے حرکت میں آیا اور بمشکل اسے گرنے سے بچایا۔ پھر وہ اپنی ننھی پری کی طر ف دیکھ کر ہوہو کر کے ہنسنے لگا۔پورا صوفہ ہلنے لگا۔ ننھی پری بھی ہنس رہی تھی ۔پوری کافی شاپ ہنسنے لگی۔باپ بیٹی کی شکل بھی بالکل ایک جیسی تھی ۔ موٹے شخص کی بیوی نفرت سے کچھ بڑبڑا رہی تھی مگر اب وہ اپنی بیٹیوں کے حصار میں تھا ۔ سب جان گئے کہ اس کے صبر کاراز کیا تھا ۔ تین ننھی پریوں نے مرد اور عورت کی ایک دوسرے سے نفرت کا جنازہ اٹھا دیا ۔ یکایک زندگی میں پہلی بار میں نے اپنی فیمنسٹ کزن کو روتے دیکھا۔ مجھے وہ بہت پیاری لگی ۔ اس نے آنسو پونچھے اور کہا : اس طرح کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا : مجھ سے شادی کرو گی ۔زندگی میں پہلی بار فیمنزم کے قلعے میں بند خوبصورت لڑکی شرمائی ۔ بولی : شادی کر کے تمہاری زندگی جہنم بنا دوں گی ۔وہ ہنس پڑی۔ میں نے کہا :میری بیٹیاں میری حفاظت کریں گی۔ رہی زندگی جہنم بنانے کی بات تو ہم آج سے نہیں مرتے آرہے بلکہ اس وقت سے جب پہلے آدم نے پہلی حوا کو دیکھا تھا ۔
ہوئے جواں تو مرنے لگے حسینوں پر
ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے
میں نے کہا : تمہارے پیچھے زمین پہ اتر آیا ہوں اور کیا چاہتی ہو؟ وہ روتی رہی ، مسکراتی رہی ۔یہ تھی ہماری داستان ۔ محبت فاتح عالم۔دنیا میں اچھے مرد ہوتے ہیں اور برے بھی ۔ دنیا میں اچھی عورتیں ہوتی ہیں اور بری بھی ۔ کسی انسان کی غلطی کو مرد اور عورت کی عینک سے دیکھنا ہی نہیں چاہئے ۔ عورت مرد سے ہے ، مرد عورت سے ۔خدا نے بے سبب جانداروں کو دو جنسوں میں پیدا نہیں کیا۔ قرآن کہتاہے: وہی (خدا )ہے جس نے تمہیں ایک جان (آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔
فیمنسٹ اور مسوجنسٹ یہ چاہتے ہیں کہ آپ دنیا کی آدھی آبادی سے یکایک نفرت کرنا شروع کر دیں ۔ان دونوں کو اپنی صفوں سے نکال پھینکیں ۔