• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں عید الاضحیٰ 1447ہجری کےمذہبی تہوار سے ملحق ومتعلق مقدس ومکرم سرگرمیوں کے دوران پاک چین دوستی کی75ویں سالگرہ کا انعقاد ان خوشیوں کا ایک نیا رنگ نمایاں کرگیا۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس حقیقت سے واقف ہے کہ چینی قمری کیلنڈر میں سال2026ء گھوڑوں کے سال کے طور پر معروف ہے۔ چینی روایتی ثقافت میں گھوڑا آزادی اور جذبہ لامحدود کی علامت ہے۔ دین متین اسلام جب اپنے پیروکاروں کو’’ گھوڑے تیار رکھنے ‘‘ کی تلقین کرتا ہے تودراصل اپنی آزادی، عزت اور وقارکیلئے ہر لمحہ مستعد، تیار ، چوکس، پرجوش اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہتھیاروں سمیت ہر اعتبار سے لیس رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔یوں جمعرات 21مئی2026کو جب صدر مملکت آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف ۔چائنا پیپلز کانگریس کی مجلس قائمہ کے چیئرمین کائی ڈافنگ اور چینی سفیر ژائی ڈونگ کے ساتھ اسلام آباد میں پاک چین تعلقات کی75ویں سالگرہ کا کیک کاٹ رہے تھے تو انتہائی غیر معمولی خوشیوں کا احساس نمایاں تھا۔ مئی 2025ءکے چار روزہ پاک بھارت تصادم کی صورتحال میں چینی ساختہ طیاروں سمیت متعلقہ آلات کی کارکردگی اور پاکستانی مسلح افواج کی مستعدی سے نمایاں یہ جذبہ مزید بلندیوں کو چھوتا محسوس ہوا کہ دونوں’’ آئرن برادرز‘‘ کی دوستی کو مزید پائیدار ،ثمر آور اور مثالی بنانا ہے۔ پاک چین تعلقات محض دوہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی یا معاشی روابط کا نام نہیں، بلکہ یہ جدید عالمی سیاست میں ایسی منفردمثال ہیں جس میں دونوں ملکوں نے سرد جنگ ، علاقائی تنازعات، عالمی طاقتوں کی کشمکش اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی نظام کے باوجود اپنی سمت اور مضبوطی برقرار رکھی ۔ پاک چین تعلقات کی 75ویں سالگرہ محض تاریخی سنگ میل نہیں، بلکہ ایسے سفر کا اعتراف ہے جس میں اعتماد نے مفاد پر، اور تسلسل نے وقتی سیاست پر برتری حاصل کی۔ پاکستان نے1951ء میں عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ اس وقت دنیا واضح طور پر دوبڑے بلاکس میں تقسیم ہورہی تھی۔ ایک طرف امریکہ اور مغربی ممالک تھے جبکہ دوسری طرف سوویت یونین اور چین جیسے کمیونسٹ ممالک۔ پاکستان اگرچہ امریکی اتحاد ’’ سیٹو‘‘ اور ’’ سینٹو‘‘ کا حصہ تھا مگر اس نے چین کے ساتھ تعلقات کے دروازے بند نہیں کئے ۔ یہی ابتدائی حکمت عملی بعد میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیاد بنی ۔1960ء میں پاکستان نے خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو وفاقی کابینہ میں اہم مقام رکھتے تھے۔1962ء کی چین بھارت سرحدی جنگ نے جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست کو یکسر بدل دیا۔ اس وقت پاکستان نے یہ اندازہ لگالیا کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے اور اس میں چین کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔ اسی دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں بھارتی وفد کی سرکردگی سردار سورن سنگھ اور پاکستانی وفد کی قیادت زیڈ اے بھٹوکر رہے تھے۔ امریکہ کی طرف سے شروع کرائے گئے یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک تو نہیں پہنچ سکے مگر جنوبی ایشیائی سیاست کے نئے رخ واضح ہونے لگے۔ 1963ء میں پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی معاہدہ طے پایا جو دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگ میل ثابت ہوا ۔اس معاہدے نے پاکستان اور چین کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا اور ایسے امکانات نمایاں ہوئے جن سے آگے چل کر دونوں ممالک اسٹرٹیجک شراکت کی طرف بڑھتے نظر آئے ۔

پاکستان کی پوری تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مملکت خدادادعلاقائی وعالمی امن کے مفاد کیلئے ہر ممکنہ کاوش میں نمایاں رہی۔اسی تناظر میںپاک چین تعلقات کا سب سے اہم اور عالمی سیاست پر اثر انداز ہونے والا مرحلہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں سامنے آیا۔ 1971ء میں امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں تھے مگر پس پردہ مختلف ممالک اور غیر رسمی چینلز کے ذریعے محدود رابطے جاری تھے۔ پاکستان ان رابطوں میں مرکزی کردار کے طور پر ابھرا اور اس نے اعتماد سازی کے عمل کو مہمیز دی۔ اس عمل میں امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجرکے پاکستان کے راستے چین جانے اور وہاں اہم ملاقاتیں کرنے کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ہنری کسنجر 9جولائی کو پاکستان آئے تھے چین میں ان کے قیام کی مدت ایک سے دو دن بتائی جاتی ہے۔ انکے بیجنگ جانے، واپس آنے اور امریکہ واپس جانے کی مدت 5تا6دن ہے۔امریکی نمائندے کی چینی وزیر اعظم چواین لائی سے مذکورہ ملاقات کے نتیجے میں صدر رچرڈ نکسن کا چین کا تاریخی دورہ ممکن ہوا جس نے عالمی طاقتوں کے توازن کو تبدیل کردیا۔سرد جنگ کے پس منظر میں اس دورے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا ۔اس پورے عمل کے دوران پاکستان کے خاموش کردار کو ایک فیصلہ کن پُل سمجھا جانا حقائق کے عین مطابق ہے۔ پاک چین تعلقات کی75ویں سالگرہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوستی صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ اعتماد، تسلسل اور آزمائشوں میں ثابت قدمی سے جنم لیتی ہے ۔اگر ماضی نے اس تعلق کو بار بار آزمایا ہے اور یہ تعلق ہر بار مستحکم ترہوکر سامنے آیا ہے تومستقبل بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاک چین تعلقات آنے والے برسوں میں مزید گہرے اور وسیع ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پاک چین تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر درست نشاندہی کی کہ پون صدی قبل ہمارے بانیان نے پاک چین تعلقات کی بنیاد رکھی، اس کے بعد ہم نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دنیا میں منفرد مثال کی حامل پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ زلزلے، سیلاب سمیت کسی بھی مشکل میں چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے، ہرآزمائش کے وقت چین نے ہمارا بے مثال ساتھ دیا ۔ اس حقیقت کو دنیا نے دیکھا ہے کہ بیجنگ اور اسلام آباد مشترکہ مقاصد اور سوچ کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئےہیں۔ ان کا یہ تعاون دونوں ملکوں کے عوام ہی کیلئے نہیں، پورے خطے کیلئے امن اور ترقی کی راہیں ہموار کرے گا۔

تازہ ترین