درویش روز اول سے ایران کے اسلامی انقلاب کا نہ صرف زبردست مداح رہا ہے بلکہ اس سے بھی کئی ہاتھ آگے، گویا انقلابیوں کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔بیڈ روم کی دیواروں پرآیت اللہ خمینی کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں ہوا کرتی تھیں حتیٰ کہ کالج جاتے ہوئے مضبوط گتے والی بڑی سی فائل پر اتنی ہی بڑی امام خمینی کی تصویر تھی، ان کا لٹریچر پڑھتا اور دوسروں کو بھی پڑھاتا۔ اسی رواروی میں ایرانیوں کے مسلک و عقائدسے بھی رغبت اتنی بڑھی کہ ایک دوست نے عید کارڈ بھیجا تو اس میں لکھا آپ تو پاکستانی سے زیادہ ایرانی ہیں۔ اس ذہنی ساخت کے پیچھے اسلام اور قرآن سے بے پایاں محبت و عقیدت تھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ اب گویا اسلام دنیا پر چھا جائیگاجسکی شروعات ایران کے عظیم الشان اسلامی انقلاب سے ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں ضیاءالحق اور افغانستان میں افغان مجاہدین بھی نفاذ شریعہ کی باتیں کر رہے تھے جبکہ حضرت امام خمینی نے تو اسلام کا ایسا تازہ ولولہ دیا ہے جو بے مثال ہے، کئی دفعہ تو یہ خیال بھی آیاکہ کہیں امام خمینی ہی امام مہدی تو نہیں ؟ ۔
امام سے یہ عقیدت انقلاب ایران سے پہلے شروع ہو چکی تھی جب امام خمینی فرانس میں مقیم تھے اور ان کے خطبات یا انٹرویوز مختلف صحافتی و اشاعتی ذرائع سے پڑھنے کو ملتے تھے ، خاص طور پر گورنمنٹ کالج لاہور کی لائبریری میں آئے ہوئے ایسے تمام میگزین ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھتا اور سر دھنتا بلکہ خوب بحثیں کرتا۔ وہ دن تو اچھی طرح یاد ہے جب شاہ ایران رضا شاہ پہلوی، شاہ پور بختیار کو حکومت سونپتے ہوئے علاج کے بہانے تہران سے فرار ہوئے، بہت خوشی تھی اور پھر فروری کا وہ دن جب حضرت امام خمینی کا پیرس سے آنے والا جہاز تہران کے آریا مہر ایئرپورٹ پر لینڈ کیا عجب سماں تھا گیارہ فروری 1979ءکی رات کو مارے خوشی کے سو ہی نہ پایا جنوں کی یہ حالت تھی کہ جب انقلاب کے فوری بعد امام خمینی کے انقلابیوں نےانتقامی جذبات سے مغلوب ہو کر شفاف مقدمے اور صفائی کا مناسب حق دیے بغیر شاہ کے وفاداروں کو مارنا شروع کیا... آیت اللہ خلخالی کے حکم سے ہر روز صبح انقلاب مخالفوں کو پھانسیوں پر لٹکایا جاتا، کالج میں میرے بہت سے دوست ادھر متوجہ کرواتے ہوئے کہتے کہ یہ کیساانقلاب ہے جو ہر صبح انسانوں کا ناشتہ کرتا ہے، اس پر بھی اس سفاکی کو ڈیفنڈ کرتے ہوئے طرح طرح کی توجیحات پیش کرنے لگتا۔وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے جب خود آیت اللہ خمینی کی ہدایت پر نوجوان اسلامی انقلابیوں نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولتے ہوئے امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا۔ پوری دنیا میں اسکے خلاف سخت آوازیں اٹھیں، برا مجھے بھی لگا مگر امام خمینی سے والہانہ عقیدت اتنی زیادہ تھی کہ اس عمل کو ڈیفینڈ کرتے ہوئے بے ڈھنگے دلائل دینا شروع کر دیئے۔ حالت یہ ہو گئی کہ ایک رات اپنے گاؤں کے ڈیرے کی بھری پنچایت کے سامنے اپنے محبوب دادا سے ہی تکرار شروع کر دی۔ میرے داداایران کیخلاف تھے اور سعودی عرب سے بوجہ مکہ مدینہ عقیدت رکھتے تھے اس پوتے نے یہاں تک بدتمیزی کر دی کہ اگر ایران نے سعودی عرب پر حملہ کردیا تو میں اس صورت میں بھی امام خمینی اور اسلامی انقلاب کی حمایت میں کھڑا ہوں گا کیونکہ امام خمینی کا زندہ انقلابی اسلام ہے جبکہ سعودیوں کا رسمی اسلام ہے۔ دادا جان بولے کہ اگر میں سعودی عرب کے بچاؤ میں کھڑا ہوا پایا گیا تو ؟جھٹ سے کہہ دیا آپ کھڑے ہوئے تو پھر بھی حملہ کر دوں گا کیونکہ یہ میرے دین و ایمان اور انقلاب اسلام کی بقا کا معاملہ ہے۔ انھوں نے بہت کہا کہ پتر ہم تو سعودی عرب کی طرف پاؤں تک نہیں کرتے، تم ادھر میزائل پھینکنے پر تیارہو یہ کونسا اسلامی انقلاب ہے؟ اس کا پس منظر یہ تھا کہ ان دنوں امام خمینی نے کھلے بندوں ،صاف شفاف لفظوں میں یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہم اپنے اسلامی انقلاب کو دیگر ممالک میں برآمد کریں گے۔ اس نوع کی آوازیں گونجتیں کہ اب ہر اسلامی ملک میں ایران جیسا اسلامی انقلاب آ کر رہے گا یہ جبر و ظلم کی امریکا نواز حکومتیں تہس نہس ہو جائیں گی۔ واضح اشارے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کی طرف ہوتے سعودیوں کو ارنا سے لے کر تمام ایرانی میڈیا،ایسے پیش کرتا جیسے یہ بہت ہی برے لوگ اور اسرائیل ہی کی طرح امریکی گماشتےہیں۔ شاہ خالد اورشاہ فہد کے بیہودہ کارٹون بنائے اور دکھائے جاتے ہر وہ شخص یا ملک برا لگتا جو امام خمینی یا اسلامی انقلاب ایران کے خلاف کوئی بات بھی کرتا حتیٰ کہ آیت اللہ شریعت مدار جیسی قد آورشخصیت نے اس عمل سےاختلاف کرتے ہوئے خمینی کو اس سیاست بازی اور منافرت سے منع کرنے کی جسارت کی توانہیں آیت اللہ مداری کہہ دیا گیا ، مصری صدر انور سادات نے شاہ ایران کو اپنے ملک میں پناہ دی تو اپنے کمرے میں ان کی تصویر لٹکا کر نیچے لکھ دیا کہ اب انورسادات کی باری ہے ۔انہی دنوں جب عراقی صدر صدام حسین نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کیا تو وہ دن کس قدر کربناک محسوس ہوا بخاری آڈیٹوریم کے سامنے والے بینچ پر بیٹھ کر اپنے تاثرات دردناک الفاظ و اسلوب میں لکھے یہ کہ ابھی انقلابِ اسلامی اتنا مضبوط نہیں ہوا لیکن امریکی سعودی سازش سے انقلاب کو کچلنے کا اہتمام کر دیا گیا ہے۔ ہمارے کلاس فیلو دو ایرانی لڑکے تھے جنکے ساتھ اچھا تعلق تھا پروفیسر جعفری صاحب اور پروفیسر رفیق محمد صاحب سے ہم لوگ عربی پڑھتے تھے لیکن یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ وہ دونوں نوجوان ایرانی ہوتے ہوئے اپنے عظیم انقلاب کے خلاف تھے۔