چینی فلاسفرکنفیوشس کہتا ہے’’ایک ہزار میل کا سفر بھی پہلے قدم ہی سے شروع ہوتا ہے ‘‘ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں تشدد ،جارحیت ، اور آمریت کے طریقوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا اور اگر حل ہوا بھی تو وہ دیر پا ثابت نہ ہو سکا۔پاک و ہند کے عوام کی اکثریت یہ محسوس کرتی ہے کہ آدھی صدی سے زائد مسلسل ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے اور سرد و گرم جنگ سے نہ تو بھارت کو کچھ حاصل ہوا اور نہ ہی پاکستان کو کچھ فائدہ پہنچ سکا۔ دونوں ملکوں کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ کشیدگی کے ہوتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے مابین زندگی کے ہر شعبے میں تعاون محال ہو کر رہ گیا ہے، دونوں ملکوں میں دولت وقت توانائی ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے پر ضائع کیے جا رہے ہیں۔ اس سے یہ ضرور ہوا ہے کہ دونوں ملکوں خصوصاََ بھارت میں کچھ ایسے عناصر پیدا ہو گئے ہیں جن کا روزگارکشیدگی اور دوسرے مسائل کو جوں کا توں رکھنے سے ہی جاری رہ سکتا ہے ورنہ بھارت اور پاکستان کے عوام کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ عوام کی غالب اکثریت پاک و ہند کے درمیان مفاہمت اور دوستی چاہتی ہے اور تمام حل طلب مسائل جمہوری طور طریقوں اور پُرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہشمند ہے جسے اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس خواہش کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا اور پاکستان و بھارت امن ومفاہمت کی طرف پیش قدمی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے یا کر دیے جائیں گے کہ نہ صرف ان دونوں ملکوں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا مفاد اسی میں ہے کہ اس پورے خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جائے، لگ بھگ ڈیڑھ ارب کی آبادی والے اس خطے میں سکون اور امن کا مطلب ہے دنیا بھر میں امن و چین اور اس امن و چین کو یقینی بنانےکیلئے پاک و ہند کے مابین مفاہمت شرط اولین ہے۔ پاکستان اور بھارت برسوں سے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے بجائے بات چیت اور مکالمے کی ایک ایسی ڈگر تلاش کریں جو از خود جاری رہ سکے کہ پاک و ہند کی ساری تاریخ ناکام مذاکرات سے عبارت ہے۔ دوستی کا سوال توٹھہرا ایک طرف سوچنے کی بات یہ ہے کہ آیا ہم باہمی دشمنی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ میرے حساب سے اس وقت دونوں ملکوں میںعوام کی آمد و رفت کو ممکن بناناسب سے اہم معاملہ ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے رائے عامہ میں تبدیلی کے مواقع پیدا ہونگے دونوں ملکوں میں شکوک و شبہات اس قدر پھیلا دیے گئے ہیں کہ گزشتہ 80 برس سے ہم محض ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ ہی کرتے آئے ہیں جبکہ پاک و ہند دوستی نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔ دونوں ملکوں کی حکومتیں جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی ہیں اور اپنے آپ کو عوامی حکومتیں سمجھتی ہیں انہیں مسائل کو حل کر نے کی سعی کرنی چاہیے ۔ پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے والے اور بھارت سے دوستی کے خواہاں شہباز شریف نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا تھاکہ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے سنہری موقع ہے ،مسائل کے حل کا بہترین موقع ہے۔ میں ایسی کئی مثالیں پیش کر سکتا ہوں جب حریفوں نے یا ایک دوسرے کے مخالفین نے ہمارے مسائل سے بھی زیادہ مشکل مسائل کو حل کیا ۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب واجپائی بھارت کے وزیر خارجہ تھے تب پاک بھارت کے درمیان تعلقات اگرچہ بہت اچھے نہیں تو اچھے ضرور تھے پھر جب واجپائی بحیثیت وزیراعظم بس کے ذریعے لاہور پہنچے تو کارگل کا حادثہ پیش آگیا۔ یہ پرویز مشرف کا پیدا کیا ہوا تھا نواز شریف کو وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اس کا علم نہ تھا یہی وجہ ہے کہ نواز شریف سول امور میں مقتدرہ کی مداخلت پر کبھی خوش نہیں ہوئے ،وہ اس کی سول امورمیں جا بے جا مداخلت پر ہمیشہ نکتہ چینی کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کارگل پر کمیشن بنانے کی بات بھی کی تھی اور یہ بمبئی حملوں پر بھی کہا تھا کہ میں اس بارے میں مشترکہ تحقیقات کرنے کے حق میں ہوں یقیناً اس مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔ ادھر میں پاکستان کے ارباب اختیارسے درخواست کروں گا کہ وہ ایٹمی دھمکیوں کی بجائے بھارت سے دوستی کیلئے ہاتھ بڑھائیں۔یہاں میں یہ بات اور نقطہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ میاں نواز شریف کے بعد کسی حکمران میں اتنی سوجھ بوجھ نہیں کہ وہ برصغیر میں بڑھتی ہوئی خاک و خون کی آندھی کا تدارک کر سکے۔ میں یہ بات پوری دیانت داری سے کہتا ہوں کہ پاک بھارت دوستی کے اس ٹوٹے ہوئے سلسلے کو وہیں سے جوڑا جائے جسے اعلان لاہور کہتے ہیں اور جو نواز شریف کے مرہون منت ہے کسی عارف نے کیا پر مغز بات کہی ہے کہ ’’جن حقیقتوں کا سامنا جرات اور صاف گوئی کے ساتھ نہ کیا جائے وہ پلٹ کر ہماری ہی پشت پر وار کر بیٹھتی ہیں‘‘اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نظریے پر شہباز شریف پورے اترتے ہیں یا نہیں۔
میں دشمن کی طرفداری کی خاطر
بسا اوقات خود سے بھی لڑا ہوں