نیتن یاہو کی حملہ آور فوج نے خود مختار لبنان کی حدود میں 29میل فتح کر کے لیطانی دریا بھی عبور کر لیا ہے۔ صدیوں سے رہنے والے لبنانی بے دخل کر دیے گئے ہیں کسی ایک اسلامی ملک نے بھی اس پر موثر احتجاج نہیں کیا ۔ نیتن یاہو نے یہ بھی فاتحانہ اعلان کیا ہے کہ اب غزہ پٹی کا 70 فیصد ہمارے اختیار میں ہے ۔دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک کس طرح تمام ملکوں عالمی اداروں کو بے بس بنائے ہوئے ہے۔
آج سے 1314سال قبل712عیسوی میں جب کوئی مصنوعی ذہانت نہیں تھی، فون واٹس ایپ ای میل سیٹلائٹ فون اور نہ ہی ڈرون اور میزائل۔ اس وقت ایک مسلمان بیٹی کی فریاد عراق کے شہر واسط میں حجاج بن یوسف تک پہنچی تو فوراً محمد بن قاسم کو اپنے لشکر کیساتھ اس بیٹی کو باحفاظت چھڑوانے کیلئے بھیجا گیا۔ آج 2026ءمیں اے آئی، ڈرون ،میزائل، تیز رفتار طیاروں، ٹرینوں ،بسوں کے دور میں اور جب سوشل میڈیا ٹی وی چینلوں پر ہر لحظہ غزہ اور لبنان سے بچوں عورتوں کی فریادیں ،جیلوں میں قیدیوں سے بربریت براہ راست 56 اسلامی ملکوں کے دارالحکومتوں میں بادشاہوں، صدور، سپہ سالاروں، وزرائے خارجہ کی آنکھوں اور کانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ کوئی حجاج بن یوسف اپنی آئینی انسانی اسلامی ذمہ داری خیال نہیں کرتا۔ ان کے پاس بےکراں دولت ہے،بے حساب فوجیں ہیں، دفاعی معاہدے ہیں۔ کوئی غزہ میں کسی بیٹی کی مدد پر غور نہیں کر رہا ہے ۔کوئی لبنان میں غاصب اسرائیلی فوج کی پیش قدمی روکنے کیلئے فوجی ایکشن تو اپنی جگہ ببانگ دہل مذمت بھی نہیں کر رہا ۔بلکہ مسلمان ملکوں کے سربراہ وزرائے خارجہ بھاگے بھاگے ہنسی خوشی و اشنگٹن پہنچ رہے ہیں جوقابض اسرائیل کا سب سے بڑا پالن ہار ہے ۔
امریکی صدر مظلوم مسلمانوں کےظالم سربراہوں سے کہہ رہے ہیں۔ ایک مسلم ملک ایران سے امن معاہدہ اسی صورت میں ہوگا کہ آپ لوگ ابراہیم ایکارڈ میں شامل ہوں، اسرائیل کو تسلیم کریں۔ امریکی صدر کو جواب تو اچھا اور کرارا ملا ہے کہ اسرائیل کو اسی وقت تسلیم کیا جائے گا جب فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار مملکت کی مکمل حیثیت دے دی جائیگی ۔
اسرائیل نے جس طرح دنیا کو اپنے اسلحے اور چنگیزی ذہنیت سے بے بس کیا ہے اسی طرح بہت تباہ و برباد ہونے والے اپنے رہبر معظم سمیت 40 کے قریب اعلیٰ عہدے داروں کو کھو دینے کے باوجود ایران نے اپنی حکمت عملی سے دنیا کی سب سے بڑی فوجی ،سیاسی، معاشی، سفارتی طاقت امریکہ کو بے بس کر دیا ہے۔ امریکی عوام پشیمان ہیں کہ ہم نے کس باؤلے کے ہاتھ میں اپنی باگ ڈور دے دی ہے جو واشنگٹن کی آنکھ سے نہیں دنیا کے معاملات کو اسرائیل کی عینک سے دیکھ رہا ہے۔ ممکن ہے آپ جب یہ سطور پڑھ رہے ہوں ۔ٹرمپ نے ایران کے ارسال کردہ 14 نکات میں سے 12 کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہو ۔پھر ایران یہ مطالبہ کر رہا ہو کہ ان نکات کی ضمانت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے دلوائی جائے۔ ایران کی اب تک سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے 47 سال کی مزاحمت کے بعد امریکہ کو ناقابل اعتبار قرار دلوا دیا ہے۔ بظاہر تو ایران اپنے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے امریکہ کا ہدف ٹھہرا ہے اور بعض سنجیدہ عالمی حلقے اس سے اتفاق بھی کرتے ہیں۔ لیکن ایران سے امریکہ کی اصل دشمنی ایران کی اسرائیل دشمنی کے باعث ہے۔ تاریخ نے دیکھا ہے کہ جتنے میزائل اور ڈرون ایران کے اسرائیل پر گرے ہیں اتنے کسی اور اسلامی ملک نے نہیں پھینکے ۔
اسرائیل ہم سب کے نزدیک قابل نفرت اس لیے ہے کہ اس نے 56 لاکھ فلسطینیوں سے ان کے زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے ۔1948 میں اسرائیل کے قیام سے لیکر اب تک نظر ڈالیں کہ فلسطینیوں کو انکی اپنی سرزمین سے دربدر کر کے اسرائیل کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں نے اپنے پاؤں کیسے جمائے ہیں۔ لیلیٰ خالد جیسی مجاہداؤں نے اپنی جان پر کھیل کر امریکی مسافر جہاز ہائی جیک کر کے فلسطین کا مسئلہ اجاگر کیا۔ یاسر عرفات یاد آتے ہیں۔ مجھے اس عالمی مجاہد سے ایک بار لاہور ،ایک بار لاڑکانہ میں ملنےہاتھ ملانے کا شرف حاصل ہوا۔ کیا بصیرت تھی اور کیا ہاتھ کی گرفت وہ بالآخر طویل جدوجہد کے بعد اوسلومعاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے جس پر دستخط وائٹ ہاؤس میں 13ستمبر 1993ءکو ہوئے۔ اسرائیل نے فلسطینی تنظیم آزادی کو تسلیم کیا فلسطین نے اسرائیل کو ۔مگر یہ وہ سحر نہیں تھی جس کا انتظار تھا۔ یہ اجالا یکسر داغ داغ تھا ۔اس لیے آج تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی فلسطینی بربریت کا شکار ہیں۔ ویسٹ بینک مشرقی یرو شلم غزہ پٹی کے 6022 مربع میل پر مشتمل یہ ریاست فلسطین محض ایک بے اختیار بلدیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی ریاست کیسے خود مختار ہو سکتی ہے جسے اپنی سرحدوں پر کنٹرول ہو نہ اپنی درآمدات برآمدات پر ،جس کی اپنی بری فوج ہو نہ فضائی اور نہ ہی بحریہ۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین کی فضائی حدود کا تحفظ بھی اسرائیلی فضائیہ کے سپرد کیا گیا وہی غزہ پر بمباری کر رہی ہے۔
فلسطینی دنیا کی ذہین ترین قوموں میں سے ہیں ۔ شرح خواندگی 97فیصد ۔فنون لطیفہ، موسیقی، فکر تخلیقی ادب سے لگاؤ ۔دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے ہیں ۔ اعلیٰ عربی ادب ناول افسانہ نظم میں فلسطینی ہی پیش پیش ہیں۔ یہ انبیاء کی سرزمین رہی ہے جہاں اب شیطانوں کا راج ہے۔ فلسطین کا دارالحکومت فلسطینیوں کے نزدیک ہمیشہ یروشلم رہا ہے لیکن اوسلو معاہدے کے تحت عارضی طور پر پانچ سال کیلئے ویسٹ بینک میں رام اللہ شہر /آبادی 43800/ حتمی فیصلہ ہونے تک انتظامی صدر مقام بنایا گیا ۔محمود عباس صدر فلسطینی ریاست وہیں بیٹھتے ہیں۔
1948 ءسے اب تک اسرائیل نے 2 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کیا ہے ۔ہزاروں فلسطینی اسرائیل کے عقوبت خانوں میں تاریخ کا بدترین ٹارچر برداشت کر رہے ہیں۔ ان پر جنسی تشدد بھی کیا جا رہا ہے عالمی عدالتیں اقوام متحدہ کے فیصلے، اپیلیں سب بے نتیجہ رہی ہیں۔ اسرائیلی حکومتیں یکے بعد دیگرے ایک مسلسل منصوبے کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی کرتی آرہی ہیں کیونکہ انہیں ہمیشہ سپر طاقت امریکہ کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ دولت مند عرب ممالک امریکہ کی خوشنودی میں فلسطینیوں کی حالت زار سے نظریں چراتے رہے ہیں۔ غزہ دو سال سے مسلسل اسرائیلی بربریت کی عملی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ 72 ہزار سے زیادہ اہل غزہ مارے گئے ہیں۔ جن میں بچے اور عورتیں سب سے زیادہ ہیں ۔78 سے 92 فیصد گھر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ غزہ میں کل 36 ہسپتال تھے ان میں سے صرف 13 فعال ہیں اور وہ بھی جزوی طور پر بہت سی میڈیکل سہولتوں سے محروم ۔غزہ میں سات سے زیادہ یونیورسٹیاں تھیں ان میں سے 195بلڈنگیں برباد کر دی گئی ہیں۔ عرب قوم کی ایک ذہین نسل باضابطہ طور پر ختم کی جا رہی ہے۔ آس پاس کے عرب بادشاہ ولی عہد مسلط کردہ حکمران اپنے محلات میں آرام سے یہ مناظر دیکھ رہے ہیں۔