عید کے تیسرے روز خیال آیا کہ ذرا شہر کا چکر لگا کر عید کا لطف دوبالا کیا جائے۔ ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ ستھرا پنجاب منصوبے کے بارے میں جو بہت کچھ سن رکھا تھا، اسے خود جا کر دیکھنے کا تجسس جاگا کہ آیا واقعی یہ منصوبہ پورے شہر میں مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے یا اس کا دائرۂ کار صرف چند مخصوص سوسائٹیوں اور پوش علاقوں تک محدود ہے۔
اگرچہ اس مشاہدے میں کچھ پٹرول ضرور خرچ ہوا لیکن ذہن میں اٹھنے والے کئی سوالات کے جواب مل گئے ، میں نے خاص طور پر ان مقامات، چوکوں اور شاہراہوں کا رخ کیا جہاں دو تین سال پہلے عیدالاضحیٰ کے بعد آلائشوں، اوجڑیوں اور انتڑیوں کے ڈھیر لگ جایا کرتے تھے، آوارہ کتے اور بلیاں انہیں گھسیٹ کر سڑکوں اور فٹ پاتھوں تک لے آتے تھے جس سے نہ صرف منظر بدصورت ہو جاتا بلکہ فضا میں پھیلی شدید بدبو گرمی کی شدت کے ساتھ مزید ناقابلِ برداشت ہو جاتی تھی، جا بجا پھیلی گندگی کے باعث مختلف بیماریاں پھیل جاتیں۔ اس لئے بہت سے لوگ عید کے بعد غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کرتے تھے۔لیکن اس بار منظر یکسر مختلف تھا۔ لاہور نہایت صاف ستھرا، خوشبودار اور منظم محسوس ہوا، سڑکوں پر ستھرا پنجاب کی متحرک گاڑیاں اور صفائی کے عمدہ انتظامات دیکھ کر دل سے اس منصوبے کے معماروں، منتظمین اور خصوصاً ان محنت کش کارکنوں کے لیے دعائیں نکلتی رہیں جو شدید گرمی میں بھی اپنی ذمہ داریاں پوری دلجمعی سے ادا کر رہے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ جس شہر یا علاقے میں صفائی، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری کا فقدان ہو وہاں زندگی کا معیار بری طرح متاثر ہوتاہے، ایسی جگہ انسان خود کو کسی مہذب معاشرے کا حصہ محسوس کرنے کے بجائے ایک ایسی آبادی کا باسی سمجھتا ہے جہاں گندگی، بے ترتیبی اور عدم تحفظ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہوں۔ صفائی صرف خوبصورتی کا نام نہیں بلکہ صحتِ عامہ، ذہنی آسودگی اور بہتر طرزِ زندگی کی بنیاد بھی ہے۔
اس تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دل سے تعریف بنتی ہے کہ انہوں نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانےکیلئے ایک ایسا جامع منصوبہ متعارف کرایا جسکے نتائج محض کاغذی دعووں تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر جماعت سے تعلق رکھنے والا فرد اور شہری بھی اس تبدیلی کو محسوس کر رہا ہے کیونکہ ہر شخص اپنے محلے، گلی اور شہر کو صاف ستھرا اور صحت مند دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں بہت سے منصوبے شروع تو کیے جاتے ہیں لیکن ان کے اثرات عوام تک اس واضح انداز میں نہیں پہنچ پاتے جس طرح ’’ستھرا پنجاب‘‘کے نتائج نمایاں ہوئے ہیں،یقیناً اس کے پیچھے انتظامی کمٹمنٹ، مسلسل نگرانی، محنت کش عملے کی کاوشیں اور قیادت کا واضح وژن شامل ہے۔اس منصوبے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا۔ اصل اہمیت ترجیحات کے تعین، مستقل مزاجی، مؤثر نگرانی اور عملی کمٹمنٹ کی ہوتی ہے۔ جب نیت، منصوبہ بندی اور عمل درآمد ایک سمت میں چلیں تو وہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جنہیں کبھی محض خواب سمجھا جاتا تھا ۔
ایسا نہیں کہ ماضی میں پنجاب کے دل لاہور کی صفائی ستھرائی کیلئے کوششیں نہیں کی گئیں، مختلف ادوار میں متعدد منصوبے شروع ہوئے، وسائل بھی خرچ ہوئے اور انتظامی اقدامات بھی کیے گئے لیکن بات نہ بنی، ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ شاید ہمارے لوگ شہر کی صفائی کے حوالے سے معیاری کام کر ہی نہیں سکتے، اس لیے مہنگے داموں غیر ملکی کمپنیوں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، تاہم وجوہات کچھ بھی رہی ہوں البتہ ان تمام ناکام تجربات نے ہمارے دلوں میں ایک حسرت ضرور پیدا کر دی تھی کہ کاش ہمارے شہر بھی ترقی یافتہ ممالک کے شہروں کی طرح صاف ستھرے، منظم اور خوشگوار ہوں جہاں صفائی صرف ایک مہم نہیں بلکہ روزمرہ زندگی اور شہری ثقافت کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے صرف حکومتی اداروں اور صفائی کے عملے کی کوششیں ہی کافی نہیں بلکہ ہم سب کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے ۔ عام دنوں میں بھی گھریلو کچرے کو مناسب طریقے سے شاپرز یا تھیلوں میں بند کرکے مقررہ کوڑے دانوں میں رکھنا چاہیے تاکہ کاغذ، پلاسٹک اور تنکے ہوا میں اُڑ کر سڑکوں، فٹ پاتھوں اور خالی جگہوں پر نہ بکھریں، صفائی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔جب شہری شعور اور انتظامی نظام ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو شہر صرف صاف ہی نہیں رہتے بلکہ رہنے والوں کے لیے زیادہ صحت مند، خوبصورت اور خوشگوار بھی بن جاتے ہیں۔ جب تمام صوبے اس طرح صفائی کا نظام قائم کریں گے تو ہی ستھرا پاکستان بنے گا۔