• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بات وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی ایک حالیہ ٹی وی گفتگو سے شروع ہوتی اور اس تان تک پہنچتی ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں ہی نہیں، ترقی یافتہ ترین ممالک کیلئے بھی یہ بات ناگزیر ہوچکی ہے کہ وہ حتی الامکان اپنے مقامی وسائل بروئے کار لائیں۔ ان کے مطابق شہباز حکومت عوام پر بوجھ کم سے کم رکھنے کی پالیسی کیلئےتدابیر بروئے کار لارہی ہے۔درپیش حالات میں یہ خواہش ضرور سر ابھارتی ہے کہ دوست ملک چین کے انقلاب کے دنوں میں جس طرح ہر قابل ذکر شخص اپنے طور طریق سے بالا تر مخلوق کی بجائے عام چینی نظر آتا تھا اسی طرح وطن عزیز کی موجودہ اشرافیہ تاریخ پر اپنے نقوش اور آنے والی نسل کیلئے رہنما مثالیں چھوڑے۔ایران جنگ کرہ ارض کوکئی تباہ کن ہچکولے دے چکی ہے۔ اور آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی ادارے یہ پیش گوئیاں کررہے ہیں کہ مہنگائی ( یا معاشی زبوں حالی) کے جس سیلاب نے پسے ہوئے طبقوں کی زندگی اجیرن کردی ہے اس پر بند باندھنے میں وقت لگے گا۔ یہ ا حساس نمایاں ہورہا ہےکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اپنے عوام کو ریلیف دینے سے لے کر مقامی ضروریات کے مطابق سبسڈی ،راشن بندی اور دیگر اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

آج دنیا کو جن بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں غذائی قلت، توانائی کا بحران، کھاد اور زرعی پیداوار کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی سپلائی زنجیر کی غیر یقینی صورت حال بھی شامل ہے۔ مختلف عالمی ادارے خبردار کررہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں خوراک اور توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک اب اپنے مقامی وسائل کی طرف واپس لوٹ رہے ہیںاور متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔ انڈونیشیا نے اپنے مقامی پام آئل کو بائیو ڈیزل میں شامل کرکے ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کرنے کی پالیسی اختیار کی ۔ چین نے اپنے مقامی کوئلے کو جدید صنعتی طریقوں سے استعمال کرتے ہوئے کھاد اور یوریا کی پیداوار میں اضافہ کیا۔ دوسرے ممالک بھی اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئےمقامی ذرائع کے استعمال کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ہم پاکستانیوں کو بھی توانائی کے حصول سے لیکر آبی مسائل حل کرنے کے ان منصوبوں کی طرف سرگرمی سے آنا ہوگا جن پر برسوں سے باتیں ہوتی رہی ہیں اور جن کے کاغذات گرد آلود ہوچکے ہیں۔ پاکستان کیلئے اقوام متحدہ،یونیسف اور دوسرے اداروں کی وہ رپورٹیں انتہائی تشویش وفکر مندی کے پہلو رکھتی ہیں جن میں پانی کی بڑھتی کمیابی، غذائی خطرات اور40فیصد بچوں کے غذائی قلت کا شکار ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسل کی صحت، تعلیم، مستقبل سے جڑا ہوا

سوال بھی ہے۔پچھلے دنوں کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے زرعی ترقی پر زور دیا جانا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی زمین، پانی، نوجوان آبادی، معدنی وسائل اور زرعی صلاحیت ہے۔ زراعت کے ساتھ کئی صنعتیں بھی جڑی ہوئی ہیں ہمارے معاشی ماہرین منصوبہ بندی کے تحت جدید دور کے تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے درست سمت میں پیش رفت جاری رکھیں گے تو ہم جلد اچھے نتائج کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان نہ صرف اپنی آبادی کی زرعی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ہے بلکہ افغانستان کی غذائی ضروریات سے صرف نظر کرنا بھی اسلام آباد کیلئے عملی طور پر ممکن نہیں۔ کتنی ہی پابندیاں لگادی جائیں، غذائی اشیا افغانستان ضرور جائیں گی اس پہلو کو نظر انداز کر کے جو منصوبہ بندی ہوگی، اس سے بدنظمی اور افراتفری پیدا ہوگی۔ حالیہ ایران جنگ کے تناظر میں خلیجی ممالک کیلئے اشیائےخورو نوش کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان کیلئےاپنے ان برادر ملکوں کیلئے اشیائے خورونوش کی فراہمی سے لاتعلق رہنا کسی صورت ممکن نہیں ۔ اس لئے اس ضمن میں وزیر اعظم کی طرف سے واضح ہدایات دی جاچکی ہیں۔ اس باب میں یہ توواضح ہے کہ ہمارے پاس نئی فصلوں کیلئے مناسب مقدار میں کھاد موجود ہے۔ وسطی ایشیا میں بھی وافر کھاد موجود ہے۔ مگر ہمارے لئے اس کی امپورٹ ناگزیر اس لئے نہیں کہ آئرن برادر کہلانے والے ملک چین نے اپنے دیسی کوئلے سے کھاد تیار کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ جب کہ ہمارے پاس کئی مقامات پر کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں ۔تھر کے کوئلے سےہم پہلے سے ہی بجلی حاصل کر رہےہیں ۔اب کھاد سازی میں بھی اسے استعمال کریں گے۔ اس کوئلے کو سائنسی طریقے سےگیس میں منتقل کرکے دوسرے فوائد بھی حاصل کئے جاسکیں گے۔ ہمارے ہاں صرف کراچی میں ہزاروںٹن کچرا یومیہ تیار ہوتا ہے جسے یورپ میں اب ’’ذریعہ دولت ‘‘کے طور پر دیکھاجارہاہے۔ اس کچرے سے بائیو گیس، کھاد اور بجلی تیار کرکے ہم اپنے کئی مسائل حل کرسکتے اور زرمبادلہ بچا سکتے ہیں۔ سورج کی شعاعوں، سمندری ودریائی لہروں، ہوا کی صورت میں قدرت نے ہم پر اپنی نعمتوں کے دروازے واکررکھے ہیں۔ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی کاوشوں میں تیزی لاکر ہم اپنی اور پڑوسی ملکوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہونگے۔ سمندری پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کے سائنسی طریقوں سے فائدہ اٹھاکر فوری آبی ضرورتیں پوری کرسکتے اور جدید طریقوں سے زراعت کو ترقی دے کر نہ صرف اپنی بلکہ ہمسایہ ملکوں، دوست ملکوں اور دیگر ضرورت مند ملکوں کی بھی غذائی ضروریات پوری کرسکتے ہیں،اس پر مستزاد کہ ماحولیاتی کیفیات میں بہتری کا اہتمام بھی کرسکتے ہیں۔پاکستان غریب ملک نہیں، ایسا ملک ہے جو اپنے وسائل کے استعمال کا منتظر ہے۔ جس دن ہم نے اپنے وسائل کو صحیح معنوں میں پہچان لیا اس دن سے نہ دوسروں کے دروازوں پر بار بار دستک دینی پڑے گی نہ وزیر خزانہ کو عوام سے کم بوجھ ڈالنے کی حکمت عملی کا وعدہ کرنا پڑے گا بلکہ آبادی کے پسے ہوئے طبقات کیلئے آسائش کی صورتیں خود سامنے آجائیں گی۔

تازہ ترین