• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر زرداری کی حکومت سازش کے تحت ختم نہ کی گئی ہوتی تو دیامر بھاشا ڈیم بن چکا ہوتا، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی حکومت سازش کے تحت ختم نہ کی گئی ہوتی تو دیامر بھاشا ڈیم بن چکا ہوتا۔

دیامر میں انتخابی جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نےمطالبہ کیا کہ وفاق پی ایس ڈی پی سے پہلے دیامر بھاشا ڈیم مکمل کرے پھر دوسرے ترقیاتی کام شروع کرے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں ہم نے یہ کیا وہ کیا، صدر آصف زرداری سی پیک نہیں لاتے تو یہ کیسے اورنج ٹرین بناتے؟

پی پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ صدر زرداری کی حکومت سازش کے تحت ختم نہ کی گئی ہوتی تو دیامر بھاشا ڈیم بن چکا ہوتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے اس وقت دیامر بھاشا ڈیم سے اہم کوئی اور منصوبہ نہیں، وزیراعظم اس پروجیکٹ کے لیے شہباز اسپیڈ دکھائیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی صرف گلگت بلتستان کے عوام کی طرف دیکھ رہی ہے، جی بی کے عوام 7 جون کو اپنی طاقت دکھائیں گے، صدر نے اس خطے کو شناخت دی، یہاں پر جیالا وزیراعظم منتخب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسی وقت ترقی کرے گا جب جی بی ترقی کرے گا، 18ویں ترمیم میں صوبوں کو جو اختیار دیا گیا وہ گلگت بلتستان کےلیے بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایک قیدی ہے، جو کہتا تھا اس نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا، تم نے کس چیز کا کہا تھا؟ مشرف کے بعد ایک ایسے مرد حر کی حکومت آئی جس میں ہمت تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے کہ اس نے فوجی اڈے بند کرائے، اس مرد حر نے لات مار کر تمام بیسز بند کیے اور مہمانوں کو خدا حافظ کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تیسری بڑی کامیابی ہے کہ اس نے دوسرے ملک کی بیسز کو بند کیا، آج خطے میں جنگ کا ماحول اور حالات مشکل ہیں۔

قومی خبریں سے مزید