• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طوطے کی غنڈہ گردی، گاڑیوں پر حملے کرکے شہریوں کا لاکھوں کا نقصان کردیا

کولاج فوٹو: سوشل میڈیا
کولاج فوٹو: سوشل میڈیا

اسکاٹ لینڈ کے ایک رہائشی علاقے میں ان دنوں ایک مفرور طوطا شہریوں کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ ننھے طوطے پر الزام ہے کہ وہ کھڑی گاڑیوں کے ربڑ کے حصوں کو اپنی چونچ سے کتر دیتا ہے، جس کی وجہ سے اب تک شہریوں کا ہزاروں ڈالرز (لاکھوں روپے) کا نقصان ہو چکا ہے۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ طوطا فروری سے علاقے میں گھوم رہا ہے، جو گاڑیوں کے وائپرز اور کھڑکیوں کی ربڑ کی سیلز کو نوچ ڈالتا ہے۔ تنگ آ کر اب کئی شہریوں نے اپنی گاڑیوں کو استعمال نہ ہونے کی صورت میں ترپالوں سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔

ایک مقامی خاتون نے میڈیا کو بتایا، ’یہاں ہمارے علاقے میں اب طوطے کا نام بھی اچھے لفظوں میں نہیں لیا جاتا، اس ننھے میاں نے گاڑیوں کا کباڑہ کر کے یہاں تباہی مچا رکھی ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ طوطا کبھی کبھار چند ہفتوں کے لیے غائب ہو جاتا ہے اور لوگ سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ شاید بلا ٹل گئی، لیکن اگلے ہی دن محلے سے آواز آتی ہے کہ ’وہ لوٹ آیا ہے!‘

وائلڈ لائف ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ پرندہ گاڑیوں کے ربڑ پر ہی کیوں حملے کر رہا ہے، تاہم اس کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں; یا تو گاڑی کے شیشے میں اپنا عکس دیکھ کر وہ اسے اپنا حریف سمجھتا ہے اور اپنے علاقے کا دفاع کر رہا ہے، یا اسے ربڑ میں موجود مخصوص معدنیات یا چربی کی طلب ہوتی ہے، اور یا پھر وہ صرف بوریت دور کرنے کے لیے کھیل کھیل رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نسل کے طوطے اسکاٹ لینڈ میں عام نہیں پائے جاتے، اس لیے امکان یہی ہے کہ یہ کسی کا پالتو طوطا تھا جو اُڑ گیا یا اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔

دلچسپ و عجیب سے مزید