• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مملکت اے مملکت… 

ہم اخباری بوڑھوں کو یقین نہیں آتا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے۔ ہم اپنی عمر بھر کی عادتوں سے مجبور ہیں ۔نئے دور کی اپنی جہات ہیں اور اپنے معیار۔اس لیے روزانہ کشمکش جاری رہتی ہے ہمارا فرسودہ ذہن ہمیں باور کرواتا ہے کہ جب تک سب کچھ نظم و ضبط، قانون، اصول، قواعد کے تحت نہیں ہوگا دنیا آگے نہیں بڑھے گی۔ ہمیں یقین نہیں آتا کہ اب قواعد نہیں فوائد کو سبقت حاصل ہے ۔ایک الجھن ہمیں یہ بھی ہے کہ اکثریت کی بات ماننی چاہیےاور ہم اپنی رو میں اسی امر پر برسوں سے زور دیتے آ رہے ہیں۔ الیکشنوں میں بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ جسے حلقے کی اکثریت ووٹ دے اس کو منتخب قرار دیا جائے۔ ہمارے ذہنوں میں نصابی کتابوں فلسفیوں اسکالرز اور خود پارلیمنٹ کی والدہ ماجدہ برطانوی پارلیمنٹ کی نشریات نے بھی یہ بات بٹھا دی کہ جدھر اکثریت ہو فیصلہ وہی ہونا چاہیے ۔پارلی منٹ کی یہ ماں اتنی سینئر ہونے کے باوجود اسکے معزز ارکان اب بھی بینچوں پر بیٹھتے ہیں اپنے بازو پھیلا سکتے ہیں نہ ٹانگیں۔نہ بیٹھے بیٹھے اِدھر اُدھر گھوم سکتے ہیں۔ یہ اسمبلی 1707 میں قائم کی گئی تھی۔ہماری اسمبلی بلڈنگ 1971 کے بعد بنی جہاں ہر معزز رکن اسمبلی کیلئے الگ الگ قیمتی کرسی ہے جسے وہ جس سمت میں چاہے گھما سکتا ہے وہاں اب اکثریت کے اصول اور مثبت انتخابی نتائج سے بات بہت آگے جا چکی ہے بہت سے نئے فلسفے آ چکے ہیں مگر ہم بوڑھوں کے دلوں سے اکثریت کا احترام نکلتا ہی نہیں ۔دل مانتا ہی نہیں کہ اکثریت کی کسوٹی کو پیش نظر رکھ کر تجزیے کے معروضی نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ ہم اخباری بوڑھوں کی خام خیالی یہ بھی ہے کہ جمہوریت کی مضبوط بنیاد منظم قومی سیاسی جماعتیں ہیں۔ جمہوری اقدار سیاسی جماعتوں کی مرکزی مجالس عاملہ کی آغوش میں پلتی ہیں حالانکہ عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا ۔ہمیں بھی نظر آ رہا ہے کہ برسوں سے قومی سیاسی جماعتیں مرکزی مجالس عاملہ۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹیوں کے تکلفات چھوڑ کر اب کچن کمیٹیوں سے پارٹیاں چلا رہی ہیں ۔ ہمیں ہمارے بزرگوں نے باور کروایا تھا اور ہم آگے یہی یقین دلاتے تھے کہ سیاسی کارکن ہی سیاسی پارٹیوں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ انکی قربانیوں سے حقیقی انقلاب آتا ہے۔ سیاسی کارکنوں کے کندھوں پر بیٹھ کر ہی سیاسی سربراہ ایوان صدر یا ایوان وزیراعظم کے مکین بنتے ہیں۔ عوام کی نبض پر انگلیاں بھی سیاسی پارٹیوں کے سربراہ اپنے ملک بھر میں پھیلے کارکنوں کے ذریعے رکھتے ہیں۔ کیونکہ کارکن گلی کوچوں فٹ پاتھوں کچی آبادیوں سے ہوتے ہیں وہ عام لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس لیے انہیں عوام کے دکھ درد کا احساس ہوتا ہے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کےکامیاب تجربے نے بھی اس وہم کو دور کر دیا تھا مگر ہم نے ا سے حقیقت نہیں مانا۔ اب معزز ارکان اسمبلی سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹ کے محتاج نہیں ہیں اور نہ ہی وہ سیاسی کارکنوں کی انتخابی مہم کے ذریعے الیکشن جیتتے ہیں اور نہ ہی سیاسی کارکنوں کے کندھوں پر چڑھ کر ایوان وزیراعظم میں داخل ہوتے ہیں۔ اس زمانے کے انداز بدل گئے مگر ہماری جبلتوں کو جو ڈیٹا فراہم کیا گیا ہے وہاں اب بھی ۔ووٹ کو عزت دو۔ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں یا، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔کے اقوال زریں جھلملاتے ہیں۔یہ دیو مالائی خیال بھی اب ریزہ ریزہ ہو چکا ہے کہ اصل مسائل کا سامنا عوام کو ہے اور وہی اس کا حل بھی بتا سکتے ہیں۔ 1985 کے بعد کا ہر دور بار بار یہ واضح کرتا ہے کہ ملکوں کے اصل مسائل عالمی بینک جانتا ہے یا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ۔ وہی دور دراز کی ریاستوں کو میٹنگوں کے ذریعے رپورٹوں میںاصطلاحاتی زبان میں بتاتا ہے کہ آپ کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہونا چاہیے ۔ہمارے سرکاری محکمے بھی ان اداروں کی تحقیق پر ہی ایمان لاتے ہیں۔یہی ادارے ہمیں قابل ،لائق اور روشن خیال وزیر خزانہ بھی لا کر دیتے رہےہیں۔ ہر دور میں بالکل نئے نکورے ۔کبھی اس صوبے سے تعلق رکھنے والے کبھی اس صوبے سے۔ مگر زندگی کی بہاریں کسی غیر ملک میں گزارنیوالے اور جب قرضے کی قسط جاری ہوتی ہے تو پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ دنیا بھر کے اکنامسٹوں، ہمارے اپنے ماہرین معیشت نے ہمارے ذہنوں میں یہ فارمولے ڈال دیے تھے کہ مستحکم معیشت کا مطلب اکثریت کی خوشحالی ہے۔ غربت کی لکیر سے لوگوں کو اوپر لانا ہے۔چین ہمارے بعد آزاد ہوا۔ بہت غربت تھی ،بے روزگاری تھی۔ اس نے 80 فیصد سے زیادہ ہم وطنوں کو غربت کے جال سے باہر نکالا ۔وہ دنیا کی اولیں معیشت بن گیا۔ ہم اسکے سب سے پرانے دوست ہیں ہمسائے ہیں ہم نے ہی اسکی سفارتی تنہائی ختم کی ۔اسے انگلی پکڑ کر اقوام متحدہ میں لے گئے۔ ہمالہ سے بلند سمندروں سے گہری دوستی کہتے رہے مگر معیشت کیلئے رہنمائی واشنگٹن سے یا برسلز سے حاصل کی۔یہ بھی ہمارا زعم تھا کہ مینوفیکچرنگ معاشرے کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔ انڈسٹریلائزیشن سے روزگار کے دروازے کھلتے ہیں۔ مصنوعات کو برآمد کیا جاتا ہے برآمدات درآمدات سے زیادہ ہونی چاہئیں۔ ہم اپنے کالموں میں بھی یہی فلسفہ بگھارتے رہے۔کسی نے اگر ہمیں سمجھانے کی کوشش کی کہ زمانہ بہت آگے نکل گیا ہے اور یہ پرانے زمانے کی سوچیں ہیں تو ہم نے اس پر فرنگی ایجنٹ ہونے کا فتویٰ دے دیا ۔آج 2026 میں ہم اخباری بوڑھے بہت پیچھے رہ گئے ہیں حقیقی معنوں میں تو ازکار رفتہ اور متروک ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ہم ابھی یہی سمجھتے ہیں کہ ڈائیلاگ ضروری ہے ۔ مسئلہ ایران امریکہ جنگ ہو یا روس یوکرین ۔امریکی پالیسی۔ انڈیا پالیسی۔ افغان پالیسی۔ ہماری تیر بہدف تجویز یہی ہوتی ہے کہ قومی اسمبلی میں اس پر سیر حاصل بحث کی جائے۔ زمانہ ہم پر ہنستا ہے۔ اوپر والے ہمیں زبان حال سے بتاتے ہیں کہ بھلے لوگو ار کان اسمبلی ان مباحث کیلئے نہیں لائے جاتے نہ وہ اپنے کارکنوں اپنے لوگوں سے ان عالمی اور مقامی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں انہیں اسمبلیوں میں بعض فیصلوں پر مبارکباد کیلئے یا بعض قراردادوں پر اتفاق رائےکیلئے اہم قوانین کی تبدیلیوں کیلئے پالا پوسا جاتا ہے ان کی مراعات میں اسی توقع پر اضافہ کیا جاتا ہے ۔ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ساری پالیسیاں گلوبل ہوں یا لوکل وہ اب نیٹ پر دستیاب ہیں۔ نہ ملیں تو مصنوعی ذہانت سے رجوع کریں وہ تازہ ترین قوانین اور طریق کار بنا کر آپ کی نظروں کے سامنے رکھ دے گی جہاں تک خلقت شہر کے علاج ،تعلیم ،روزگار کے معاملات ہیں دسترخوان بچھانے ہیں تو قابل قدر فلاحی تنظیمیں موجود ہیں جنکے بجٹ اب ماشاءاللہ کروڑوں اربوں میں ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ہم اخباری بوڑھوں کو یہ بات گرہ میںباندھ لینی چاہیے ۔ اب ابن خلدون، غزالی، برٹرینڈ رسل، روسو ،سارتر، اقبال کا نہیں ایلون مسک ،مارک زکربرگ ،بل گیٹس کا دور ہے ۔سوچنے والے بوڑھے ہو جاتے ہیںجاگیردار سرمایہ دار سی ای او بوڑھے نہیں ہوتے۔

تازہ ترین