• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کا دور معلومات کا نہیں بلکہ ردعمل کا دور ہے۔ خبر پوری نہیں ہوتی کہ فیصلہ آ چکا ہوتا ہے، اور تحقیق مکمل نہیں ہوتی کہ معاشرہ کسی کو ہیرو یا ولن بنا چکا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار کی آزادی دی ہے، مگر اسی آزادی نے ایک ایسی غیر رسمی عدالت بھی قائم کر دی ہے جہاں نہ ثبوت کی سختی ہے، نہ قانونی اصولوں کی پابندی، اور نہ ہی صبر کی گنجائش۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ممبر صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ سے متعلق مختلف دعوے اور بحثیں سامنے آئیں۔ دونوں شخصیات کو ایک عوامی تنازع میں گھسیٹا گیا، جہاں اصل حقائق کم اور قیاس آرائیاں زیادہ تھیں۔ ایک طبقہ فوراً دفاع میں نکل آیا اور دوسرا فوراً حملہ آور ہو گیا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سچ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور تاثر حقیقت بن جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب"وائرل ہونا"ہی سچائی کا متبادل بن چکا ہے۔یہ رویہ نیا نہیں، لیکن اب اس کی رفتار اور شدت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے اکثر جذبات میں آ کر ایسے فیصلے کرجاتے ہیں جن کی قیمت بعد میں پورے نظامِ انصاف اور افراد کو چکانی پڑتی ہے۔

قدیم یونان میں سقراط کو نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے الزام میں موت کی سزا دی گئی۔ بعد میں یہی شخص انسانی تاریخ میں فلسفے اور فکر کی علامت بن گیا۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ہجوم کا فیصلہ ہمیشہ حقیقت نہیں ہوتا۔اسی طرح آج کے دور میں جب کوئی معاملہ سوشل میڈیا پر آتا ہے تو لوگ فوری طور پر اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق فریق بن جاتے ہیں۔ نہ مکمل ریکارڈ دیکھا جاتا ہے، نہ عدالتی عمل کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہی صورتحال ہمیں علی ظفر اور میشا شفیع کے کیس میں بھی نظر آتی ہے۔2018 میں میشا شفیع نے علی ظفر پر الزامات عائد کیے، جس کے بعد یہ معاملہ عدالت میں گیا اور برسوں تک چلتا رہا۔ بعد ازاں لاہور کی عدالت نے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا جس میں الزامات ثابت نہ ہو سکے اور عدالت نے قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ دیا۔ اس پورے عمل نے یہ سوال مزید واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر قائم ہونے والی رائے اور عدالت میں ثابت ہونے والے حقائق اکثر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں انصاف اور سوشل میڈیا انصاف دو مختلف دنیاوں کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

عدالتیں شواہد، گواہوں اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا جذبات، ہمدردی اور نفرت کے مطابق رائے قائم کرتا ہے۔اسی طرح میڈیا اور شوبز کی دنیا میں بھی ہم بار بار یہی منظر دیکھتے ہیں کہ ایک خبر آتی ہے، ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے، اور پھر کردار کشی یا اندھی حمایت کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات اصل حقیقت برسوں بعد سامنے آتی ہے، مگر اس وقت تک کسی کی ساکھ، کیریئر اور ذہنی سکون بہت حد تک متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔یہ صرف مشہور شخصیات کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی رویہ ہے۔ آج اگر کوئی ممبر صوبائی اسمبلی یا کوئی عام شہری کسی تنازع میں آ جائے تو سوشل میڈیا خود کو تفتیشی ادارہ، جج اور جلاد تینوں کے کردار میں لے آتا ہے۔ ثاقب چدھڑ اور مومنہ جیسے معاملات اسی رویے کی مثال ہیں کہ کس طرح بغیر مکمل تصدیق کے افراد کو بحث کا مرکز بنا دیا جاتا ہے۔

اس پورے ماحول میں حکومتی سطح پر بھی یہ بات اہمیت اختیار کرجاتی ہے کہ کسی بھی الزام یا شکایت کی صورت میں ادارہ جاتی تحقیقات کو ہی بنیاد بنایا جائے۔ اس تناظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ مؤقف قابل ذکر ہے کہ ہر معاملے میں میرٹ اور شفافیت کے مطابق مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے قانونی و ادارہ جاتی عمل کو مکمل ہونا چاہیے۔ یہ طرزِ فکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر بھی انصاف کا معیار ثبوت اور میرٹ ہونا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا کا دباؤ یا عوامی شور۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایک”رائے کی معیشت“میںجی رہے ہیں،جہاں حقیقت سے زیادہ مقبولیت اہم ہو چکی ہے۔ جس کے پاس زیادہ فالوورز ہیں، اس کی بات زیادہ سچ سمجھی جاتی ہے۔ اور جسکی آواز کمزور ہو، وہ اکثر ہجوم کے شور میں دب جاتا ہے۔

دراصل اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہم بطور معاشرہ یہ اصول تسلیم کریں کہ ہر الزام سچ نہیں ہوتا، ہر دفاع جھوٹ نہیں ہوتا اور ہر وائرل خبر مکمل حقیقت نہیں ہوتی۔تاریخ بار بار ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ہجوم کی رائے وقتی ہوتی ہے مگر اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے سوشل میڈیا کو انصاف کی عدالت سمجھنا جاری رکھا تو آنیوالے وقت میں ہر شخص اس غیر رسمی نظام کے رحم و کرم پر ہوگا۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں سچ تحقیق سے ثابت ہو، یا ایسا جہاں سچ ٹرینڈ سے طے ہو؟کیونکہ تاریخ ہمیشہ یہ یاد رکھتی ہے کہ قومیں صرف فیصلوں سے نہیں، بلکہ ان فیصلوں کے طریقہ کار سے پہچانی جاتی ہیں۔

تازہ ترین