• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیدائش سے لے کر موت تک ، اس دنیا میں جو کچھ بھی انسان سیکھتا ہے ، وہ دو چیزوںکا مرہون منت ہوتا ہے ۔ ایک stimulusاور دوسرا خیال۔ آپ ایک شیر خوار بچے کو پیار سے آواز دیتے ہیں۔ یہ آواز ایک stimulusہے۔گاڑی کا ایکسیڈنٹ بھی ایک stimulusہے ۔ ماں کی گودسے لے کر قبر کی آغوش تک، انسان کو زندگی میں کون کون سے stumulusپیش آنے ہیں ، یہ کوئی نہیں جانتا ۔

دنیا کا امیر ترین انسان بھی اپنی اولاد کو برے stimulusسے محفوظ نہیں رکھ سکتاکیونکہ وہ تقدیر کا حصہ ہوتا ہےاور تقدیر سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ ایک باپ اپنے خاندان کو سیرکیلئے ہوائی جہاز پہ کہیں لے کر جا رہاہے۔ حادثہ پیش آتا ہے اور اس حادثے میں اس کی اولاد میں سے صرف ایک نے زندہ بچناہے۔ کس قدر خوفناک stimulusہے ۔ کیتھولک چرچ سمیت، اس دنیامیں بے شمار لوگ اپنی اولاد کو مذہبی تعلیم کیلئے وقف کرتے ہیں اور وہاں پادری اس کا جنسی استحصال شروع کر دیتاہے ۔

دوسری چیز جو انسان کو کنٹرول کرتی ہے ، وہ خیال ہے ۔ دنیا کےا میرکبیر لوگ بھی اپنے دماغ میں پید اہونے والےخیالات کے ہاتھوں پریشان ہوتے ہیں ۔ دنیا بھر کی دولت موجود ہے لیکن سکون ایک پل نہیں ۔ کوئی مسلسل اپنے ہاتھ دھوتے رہنے پر مجبور ہے ۔ دنیا میں بے شمار لوگ مسلسل پیدا ہونے والے تکلیف دہ خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کیلئے انہیں کیمیکلز سے بنی ہوئی ادویات لینا پڑتی ہیں۔ انہیں ماہرینِ نفسیات کے سامنے اپنا دماغ کھول کر رکھنا پڑتا ہے ۔

خیالات اچھے بھی ہوتے ہیں ۔ اقبالؔ سے کسی نے کہا : کیاآپ واقعی مانتے ہیں کہ پیغمبراسلامؐ پہ قرآن نازل ہوا؟ اقبالؔ نے کہا : مجھ پر شعر پورے کا پورا نازل ہوتا ہے ۔کئی مرتبہ اچانک وہ قلم اٹھاتے اور پوری نظم لکھوا دیتے ۔ مرزا اسد اللہ غالبؔ نے کہا تھا : 

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں 

غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے

غالبؔ کا خیال یہ تھا کہ خیالات ان پر نازل ہوتے ہیں ۔ چلیں ، یہ تو ہو گئی بڑی خوشی کی بات کہ انسان پر ایسے خیالات نازل ہو رہے ہیں ،جن پر دوسرے داد دے رہے ہیں ۔آپ کی عزت ہورہی ہے ۔ خیالات ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ وہ ان خیالا ت کا سلسلہ منقطع کرنا چاہتے ہیں لیکن جس شے سے انہیں مذہبی عقیدت ہوتی ہے، اسی کے خلاف اذیت ناک خیالات ان کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔

ایک عام انسان میں اپنے خیالات کو کنٹرول کرنے کی کوئی طاقت نہیں ہوتی ۔ ایک غلام کی طرح یہ خیالات اس کی زندگی کنٹرول کرتے ہیں ۔ بعض اوقات انسان اچھا خاصا خوشگوار موڈ میں ہوتا ہے ، اچانک ایک عجیب خیال اس پہ نازل ہوتاہے ۔ فلاں شخص نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی تھی ۔ ہو سکتاہے ، اگلے چھ گھنٹے وہ اس شخص کے خلاف سوچنے میں صرف کرے ؛حالانکہ اس شخص کا اس وقت کہیں ذکر بھی نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کنٹرول نہیں کر سکتا بلکہ یہ خیالات اس کی زندگی کنٹرول کر رہے ہیں ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ وہ ایک غلام کی طرح ان خیالات کے بہائو میںبہتا چلا جا رہا ہے ۔دماغ کی واقعات کو جوڑنے اور ماضی کو یاد دلانے کی طاقت بڑی خوفناک ہے ۔ آپ ایک چھوٹا سا واقعہ بھی سنیں یا پڑھیں تو چالیس سال پہلے اپنے ساتھ بیتا ہوا واقعہ پوری قوت کے ساتھ آپ کو یاد آئے گا۔ آپ کو اداس کردے گا ۔

آج ایک انسان کی زندگی اس لیے بھی ایک خوفناک موڑ مڑ چکی ہے کہ اسمارٹ فون میں سوشل میڈیا سے مسلسل stimulusکی گولہ باری جاری رہتی ہے ۔ اپنے خیالات کو کنٹرول کرنا اس کے لیے ممکن نہیں رہا۔ کبھی آپ اپنے موبائل فون کو بند کرکے تنہائی میں کسی جگہ بیٹھیں اور تین گھنٹے بیٹھیں رہیں ۔آپ اپنے دماغ کا جائزہ لیں ۔اپنی سوچوں کا جائزہ لیں ۔ آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ موبائل فون ، یہ stimulus کے گولے ، یہ خیالات کے بم آپ کی زندگی کی کشتی کو مسلسل ہچکولوں کی زد میں رکھے ہوئے ہیں ۔ آپ کا لاشعور ہر وقت پوری طاقت سے حرکت میں ہے ۔ اگر آپ مذہب کے خلاف ہیں تو آپ کا دماغ سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے مذہب اور خدا کے خلاف دلائل سوچتا چلا جائے گا۔ پھر آپ کو جوابی دلائل بھی بہرحال سننا ہوں گے۔ آپ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ آپ کے دماغ کی قوت اتنی ہے کہ جیسے ایک چھوٹی سی کشتی ایک خوفناک طوفان کی زد میں ہو ۔

آپ کے دماغ پرمسلسل نازل ہونے والے خیالات کے دھارے دو طرف سے آتے ہیں ۔ ایک خدا کی طرف سے اور دوسرا شیطان کی طرف سے ۔ قرآن کہتاہے : نفس پہ ہم نے الہام کی اس کی بدکاری اوراس کی پرہیز گاری ۔الشمس 7۔ سورۃ یوسف میں لکھا ہےکہ جب یوسفؑ نے قیدی کو خواب کی تعبیربتا کر اسے کہا کہ بادشاہ کے سامنے بطور تعبیر بیان کرنے والے شخص کے میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اسے یہ بات بھلادی ۔ویسے بھی جب تک بادشاہ کو اس کا خواب تنگ نہ کر رہا ہوتا توایک تعبیر بتانے والے کی اس کی نظر میں بھلا کیا اہمیت ہوتی ۔

ذہن پہ خیالات کے نزول کے بارے میں ایک آیت ایسی ہے ، جسے پڑھ کر انسان اچھل پڑتا ہے ۔" بیشک پرہیزگاروں کوجب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آتا ہے تو وہ یاد کرتے ہیں پھر اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔" الاعراف 201۔ اس آیت کاصاف صاف مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے خیالات پہ نگران ہوتے ہیں اور اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ خیال شیطان کی طرف سے آیا ہے ۔ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ اس بارے میں دماغ کو سوچنے سے روک دیتے ہیں ۔ ایک عام شخص مگر اگلے چھ گھنٹے اس شیطانی خیال کے تحت سوچ بچار میں الجھا رہتاہے ۔غالبؔ ہی نے کہا تھا: 

رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں 

اگلے کالم تک آپ اور ہم اپنے اپنے خیالات کے سپرد!

تازہ ترین