جون کی شدید گرمی میں جہاں عالمی سطح پر صورت حال گرم ہے،دنیا جنگ کے ماحول سے پریشان ہے، ملک میں بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے،28ویں آئینی ترامیم کی باز گشت گونج رہی ہے، جس کی وجہ سے حکمراں جماعت مسلم لیگ کو اپنی اتحادی جماعت پی پی کی مخالفت کا سامنا ہے، ساتھ ہی 18ویں ترمیم کے بعض نکات پر بھی بحث جاری ہے ، جس میں صوبوں کو ملنے والے اختیارات سے وفاق کو اپنی کم زوری کا احساس ہورہا ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 18ویں ترمیم پر اسکی اصل روح کے مطابق عمل کر لیا جاتا تو آج انتظامی یونٹ کے قیام کا مطالبہ زور نہیں پکڑتا،شہری حکومتوں کو بااختیار بنادیا جاتا تو مسائل کے حل میں بہت زیادہ مدد مل سکتی تھی،مگر ہمارے سیاسی رہنمائوں اور اکابرین نے اس ترمیم کی صرف ذاتی سود مند والی شقوں کو ہی اپنے لئے منتخب کیا،دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں اور ان کے سر براہان جس قدر طاقت ور ہوتے ہیں اس پر کسی نے غور نہیں کیا۔ ملک کا سب سے بڑا معاشی حب کراچی اس وقت جن حالات سے دوچار ہے وہ ہمارے حکمرانوں کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہے، جہاں نہ پانی ہے،نہ بجلی اور گیس ہے،سڑکیں کھنڈرات بنی ہوئی ہیں۔پاکستان میں موجودہ صوبوں کی وسیع آبادی اور جغرافیائی پھیلاؤ کے پیشِ نظر نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بیٹھ کر کروڑوں عوام کے مسائل حل کرنا ممکن نہیں،معاشی ماہرین ، سیاسی مبصرین اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دے رہے ہیں۔چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر عوامی شکایات کے فوری ازالہ، بہتر حکمرانی اور عوام کی انتظامی دفاتر تک رسائی میں آسانی ہو سکے گی۔ چھوٹے صوبے معاشی خوشحالی اور تیز تر فیصلہ سازی کی کلید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان مطالبات پر اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ، اس کا اندازہ چند ماہ میں ہوجائے گا۔
دوسری طرف عالمی منظر نامہ پر اگر نظرڈالی جائے تو امریکا، ایران جنگ میں جہاں پاکستان کا ثالثی کردار دنیا بھر کی توجہ بنا ہوا ہے، وہیں امریکا کی حمایت سے اسرائیل نے لبنان پر بھر پور جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے،اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرتے ہوئے تاریخی الشقیف قلعے پر اپنا پرچم لہرا دیا،یہ قلعہ لبنان کے نمایاں تاریخی و ثقافتی مقامات میں شمار ہوتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے اہم قلعوں میں سے ایک ہے۔مگر دنیا اس جارحیت پر خاموش ہے، اقوام متحدہ کا عالمی کردار تو اب عملی طور پر ختم ہوچکا ہے،اب وقت آگیا ہے کہ ایشیائی اور اسلامی ممالک اقوام متحدہ کی از سر نو تشکیل کا مطالبہ کریں یا اپنی الگ اقوام متحدہ قائم کریں۔پچھلے78برسوں میں کشمیر اور فلسطین میں لاکھوں بے گناہ افراد بھارتی اور اسرائیلی جارحیت ،ومظالم کے نتیجے میں شہید ہوچکے ہیں،ہزاروں کشمیری اور فلسطینی اس وقت بھی بھارت اور اسرائیل کے عقوبت خانوں میں موجود ہیں جن پر ان ملکوں کے مظالم جاری ہیں،دنیا کی مذمت سے بھی ظالموں کو ندامت نہیں ہورہی ہے،ان حالات میں ایران کیخلاف ایک منظم انداز میں چڑھائی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس موثر آواز کو بھی خاموش کردیا جائے،مگر ایران کی مزاحمت نے امریکا جیسی سپر طاقت کو ناکوں چنے چبوادئیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں رسوا کرایا شاید زندگی میں کبھی امریکیوں نے یہ سوچا بھی نہیں ہوگا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے درست کہا ہے کہ ایران نے جارح امریکا کو ایسا تھپڑ رسید کیا ہے کہ امریکا کو اب خطے میں شرارتوں اور فوجی اڈوں کے قیام کے لیے محفوظ پناہ گاہ حاصل نہیں ہو گی،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمان ممالک کے حکمراں خواب خرگوش سے باہر نکل آئیں، عرب بادشاہ اپنے محلات میں آرام سے بیٹھنے کے بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو صرف ایک ماہ میں دنیا سے اسرائیل، امریکا اور بھارت کی دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔امریکا ایک بار پھر مشرق وسطی میں آگ بھڑ کانے کی دھمکیاں دے رہا ہے جس کا مقصد اسلامی ملکوں کو آپس میں لڑواکر ان کو معاشی طور پر کم زور کرنا ہے۔ امریکی صدر اپنی ناکام سیاست اور جنونی کیفیت کی وجہ سے دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں، ایران پر اس کی سلامتی اور وقار کے حوالے سے امریکی دبائو حیرت انگیز ہے، امریکا دنیا میں امن کے لئے سب سے پہلے اپنے خطر ناک ہتھیار ختم کرنے کا اعلان کرے تو دوسرے ممالک بھی اس قسم کے اقدام کے لئے راضی ہوسکتے ہیں۔ امریکا کی جانب سےا براہیمی معاہدہ کیلئے دبائو ڈالنا غیر مناسب ہے، جبکہ حقیقت میں ابراہیمی معاہدے کو 2020میں طے کرتے وقت معاہدے کے تناظر میں فلسطین حقیقی فریق تھا، جسے اس معاہدے میں کسی طرح کی رائے دہی کے لیے شاملنہیں کیا گیا ۔ فلسطین نے اس معاہدے کی سخت مخالفت کی تھی۔ فلسطین کی مخالفت کی بنیادی وجہ اسرائیل عرب تعلقات کا قیام تھا کہ عرب ممالک اپنے مسلم بھائی فلسطین کے دشمن اسرائیل کے ساتھ بھائی چارہ بڑھا رہے ہیں۔ اس لئے جب تک فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے تمام اسلامی ملکوں کو اس معاہدے سے دور رہنا چاہئے۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، ازلی دشمن بھارت پچھلے سال مئی کی عبرتناک شکست سے بوکھلا یا ہوا ہےاس لئے ہمیں خود کو بھارتی جارحیت کے لئے تیار رکھنا ہوگا۔
حرف آخرنامور دانشور، نثر نگار، معروف صحافی، اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیر الطاف حسن قریشی کیلئے جن کی وفات سے ہم ایک عظیم محب وطن پاکستانی سے محروم ہوگئے۔ادب، صحافت پر ان کے گہرے نقوش نئی نسل کیلئے ایک مثال ہے، بلاشبہ الطاف حسن قریشی نے صحافت میں اپنا منفر د مقام اور شناخت بنائی۔ اللّٰہ ان کی مغفرت فرمائے۔