• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب بیوروکریسی: بزدار دور کی میوزیکل چیئرز سے مریم نواز کی نگرانی تک

انصار عباسی

اسلام آباد :…وزیر اعلیٰ مریم نواز کی حکومت کے دو سال سے زائد عرصہ مکمل ہونے پر پنجاب کی بیوروکریسی میں ایک نمایاں طور پر مختلف انتظامی کلچر دیکھنے میں آ رہا ہے، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی عثمان بزدار کی قیادت میں قائم حکومت سے واضح طور پر مختلف ہے۔ جہاں ماضی میں بار بار تبادلوں اور تعیناتیوں کا سلسلہ معمول بن چکا تھا، وہاں اب تسلسل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ بزدار حکومت کو بارہا ایسی بیوروکریسی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جسے اس وقت رولنگ اسٹون بیوروکریسی قرار دیا جاتا تھا، جہاں تبادلوں اور تقرریوں کا سلسلہ غیر معمولی رفتار سے جاری رہتا تھا اور یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ منافع بخش عہدے عملاً فروخت کیے جا رہے تھے۔ اس کے برعکس، موجودہ حکومت نے ایسی بیوروکریسی کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے جسے مسلسل تبادلوں کے بجائے کارکردگی کی نگرانی کے ذریعے ہمہ وقت متحرک رکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے دورِ حکومت (جس کا آغاز فروری 2024 میں ہوا) کے دوران چیف سیکریٹری کے عہدے پر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، جبکہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کے عہدے پر صرف ایک تبدیلی کی گئی۔ زاہد اختر زمان جنوری 2023 میں، یعنی مریم نواز کے دورِ حکومت سے قبل، چیف سیکریٹری پنجاب مقرر ہوئے تھے۔ وہ بدستور پنجاب کے اعلیٰ ترین انتظامی افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مریم نواز نے اس وقت کے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو بھی برقرار رکھا، جو تقریباً دو برس تک ان کے دور میں اسی عہدے پر فائز رہے۔ فروری 2026 میں ڈاکٹر عثمان انور کا تبادلہ وفاقی حکومت میں کر دیا گیا، جہاں انہیں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے مقرر کیا گیا۔ ان کی جگہ راؤ عبد الکریم کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا، جو اس سے قبل ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ساجد ظفر ڈال کو مارچ 2024 میں مریم نواز کی حکومت کے آغاز پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا پرنسپل سیکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ وہ آج بھی اسی عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس اگست 2018 سے اپریل 2022 تک عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں پنجاب میں چھ چیف سیکریٹری، چھ انسپکٹر جنرل پولیس اور وزیر اعلیٰ کے پانچ پرنسپل سیکریٹری تبدیل ہوئے۔ ان بار بار کی جانے والی تبدیلیوں پر انتظامی ماہرین، اپوزیشن جماعتوں، حتیٰ کہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ سول سرونٹس نے بھی تنقید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل ردوبدل سے پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر آتی ہے اور ادارہ جاتی احتساب کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ فرق فیلڈ انتظامیہ میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مریم نواز حکومت نے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، کمشنرز، ضلعی اور ڈویژنل سطح کے پولیس افسران اور دیگر فیلڈ افسران کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت ان کی تعیناتی برقرار رہنے کا انحصار سیاسی سرپرستی کے بجائے قابلِ پیمائش کارکردگی پر ہے۔ افسران کی باقاعدگی سے ان اہداف کے مطابق جانچ کی جاتی ہے جن میں قیمتوں پر کنٹرول، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، صفائی ستھرائی، تعلیم، صحت، ریونیو وصولی اور وزیر اعلیٰ کے فلیگ شپ منصوبوں پر عمل درآمد شامل ہیں۔ حکومت کے سینئر حکام کا اصرار ہے کہ اب تقرریاں اور تبادلے بنیادی طور پر کارکردگی اور انتظامی ضروریات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے سیاسی شخصیات یا دیگر بااثر حلقوں کی سفارشات قبول نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے، کیونکہ ان کے مطابق بیوروکریسی کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے سے انتظامی نظم و ضبط میں بہتری آئی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تقرریوں میں استحکام افسران کو منصوبوں کی ذمہ داری لینے اور نتائج کے لیے جواب دہ رہنے کا موقع دیتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ اپنی مدتِ تعیناتی کا بڑا حصہ نئی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہونے میں صرف کریں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت کے دوران بار بار تبادلے صوبائی انتظامیہ کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ضلعی پولیس افسران اور سیکریٹریٹ کے سینئر حکام کی بار بار تبدیلیوں کا ذکر کیا گیا، جن میں سے کئی افسران کا تبادلہ چھ ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی کر دیا گیا۔ اس کی سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی مثال ضلع بھکر کی تحصیل کلورکوٹ تھی، جہاں تقریباً ڈھائی برس کے دوران مبینہ طور پر 14 اسسٹنٹ کمشنرز تعینات ہوئے۔ صرف راولپنڈی ڈویژن میں ہی پی ٹی آئی حکومت کے تقریباً تین برسوں کے دوران چار کمشنرز، چھ ڈپٹی کمشنرز، چھ ریجنل پولیس افسران اور پانچ سٹی پولیس افسران تبدیل ہوئے۔ انتظامی ماہرین طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ اس قدر تیزی سے ہونے والے تبادلے حکمرانی کو نقصان پہنچاتے ہیں، کیونکہ اس سے ادارہ جاتی یادداشت متاثر ہوتی ہے، منصوبوں پر عمل درآمد کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور افسران کو نتائج کے لیے جواب دہ ٹھہرانا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی سول سروس پر ہونے والی مختلف مطالعات میں بھی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مختصر مدت کی تعیناتیاں انتظامی کارکردگی کو کمزور کرتی ہیں اور قلیل مدتی فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے بھی کارکردگی یا انتظامی ضروریات کی بنیاد پر بعض افسران کے تبادلے کیے ہیں، تاہم مجموعی رجحان وسیع پیمانے پر ردوبدل کے بجائے نمایاں تسلسل کا رہا ہے۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ تقابل حکمرانی کے دو مختلف انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ بزدار حکومت ایک ایسی بیوروکریسی کی علامت بن گئی تھی جو مسلسل حرکت میں رہتی تھی، جبکہ مریم نواز حکومت نے مستحکم مدتِ تعیناتی کو کے پی آئیز اور باقاعدہ نگرانی کے ذریعے کارکردگی پر مبنی احتساب کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ماڈل بالآخر بہتر حکمرانی فراہم کرتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ عوامی خدمات کی فراہمی میں آنے والی بہتری کی بنیاد پر ہوگا۔ تاہم فی الحال پنجاب کی بیوروکریسی بظاہر بار بار کے تبادلوں کے دور سے نکل کر ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں تسلسل، کارکردگی کی پیمائش اور انتظامی نظم و ضبط صوبائی حکومت کے طرزِ حکمرانی کی نمایاں خصوصیات بنتے جا رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید