• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم آپ کو مکمل صوبہ دیں گے۔ ہم آپ کو موٹروے دیں گے۔ہم آپ کیلئے ہسپتال بنائیں گے لیکن گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا مطالبہ ہے ہمیں انٹرنیٹ دو۔

حسین ترین وادیاں جھیلیں سرسبز پہاڑ معیاری شاہراہیں۔ پاکستان میں سیاحت کیلئے سب سے زیادہ پرکشش بلتستان پورے پاکستان کی معیشت کو استحکام دے سکتا ہے ۔انتخابی موسم میں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی یلغار رہی۔گلگت بلتستان میں انتخابات کیلئےجو جوش و خروش نظر آرہا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گلگت کے نوجوانوں میں اپنے حق رائے دہی کے استعمال کیلئے کتنا اشتیاق ہے۔ حقیقی جمہوریت سے کتنا عشق ہے۔ 10 انتظامی اضلاع کا رقبہ بہت ہے ۔ آبادی نسبتاََ کم۔ زیادہ تر لوگ دیہی پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں ۔آبادی قریباً صرف 18لاکھ۔ زمین 72496 مربع کلومیٹر ووٹر سات لاکھ۔زیادہ تر نوجوان۔ فی کلومیٹر آبادی صرف 23 افراد۔

گلگت بلتستان عالمی طور پر مسلمہ متنازع وادی کشمیر کا حصہ شمار ہوتا ہے اگرچہ گلگت بلتستان والے اپنے آپ کو ایک الگ صوبہ کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔بھارت کی وزارت خارجہ نے ان انتخابات پر اپنا احتجاج عالمی سطح پر ریکارڈ کروا دیا ہے ان کا دعویٰ ہے کہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہے لیکن بھارت سفارتی طور پر تنہا ہو گیا ہے۔ اس لیے اس پر کوئی تائید نہیں ملی۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان کے 2026 ءکے انتخابات پاکستانیوں کیلئے انتہائی اہم ہیں اور حکومت پاکستان کیلئے بڑا چیلنج سیاسی بھی، سماجی، اقتصادی ،اخلاقی اور سفارتی بھی ہے۔ میرے خیال میں گلگت بلتستان اسمبلی کیلئےیہ چوتھے عام انتخابات ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کی طرح یہاں بھی یہ روایت ڈالی گئی کہ اسلام آباد میں جس پارٹی کی حکومت ہو یہاں بھی اسی کو برسر اقتدار ہونا چاہیے۔ اس طرح یہاں کی حکمرانی میں اسلام آباد کا دخل زیادہ رہتا ہےاصل حکمرانی اسلام آباد میں بیٹھے وزیر امور کشمیر کی ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان کو شمالی علاقوں کے نام کی جگہ اپنا نام پی پی پی کے 2009 ءسے 2015ءکے دور میں ملا۔ اس کا سہرا بجا طور پر صدر آصف علی زرداری کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ ان کے ہی دور صدارت میں سرحد کو خیبر پختون خوا کا نام ملا ۔نام تو پی پی پی پی والے خوبصورت دے دیتے ہیں لیکن نام کیساتھ علاقے کی شان اور حالت بھی بدلنی چاہیے۔

انتخابی مہم میں بہت دعوے کیے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان والے ان تینوں پارٹیوں کا تجربہ کر چکے ہیں ۔ہر انتخابی مہم میں دعوے بہت بلند بانگ کیے گئے لیکن عملاً وہ کام نہیں کیے گئے۔یہاں روزگار کے مواقع بہت کم ہیں ۔سرکاری نوکریاں 55 ہزار کے قریب ہیں۔ غربت پہلے سے بڑھ رہی ہے انتہائی غربت نے زیادہ تر دیہی اضلاع دیامر، استور اور غزر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں غربت کی شرح 68 فیصد سے 91فیصد تک شمار کی جاتی ہے۔ضرورت41 ہزار ہنر مندوں کی ہے مگر تربیتی ادارے صرف 13238تیار کر پاتے ہیں۔ صرف 32فیصد 68فیصد کی کمی رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی حکمرانی اسی بےپروائی سے چلتی ہے لیکن گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر جیسےحساس علاقوں پر دنیا بھر کی نظریں رہتی ہیں خاص طور پر بھارت تو ان دونوں علاقوں میں کسی نا انصافی پر احتجاج کی تلاش میں رہتا ہے ۔اسلئے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادتوں کو ان مقامات پر اچھی حکمرانی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔جب پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر حق رائے دہی سے محرومی پر احتجاج کرتا ہے اور دنیا اس کی آواز میں آواز ملاتی ہے تو پاکستان کے ذمہ دار ارباب کو یہ بنیادی حقیقت سمجھنی چاہیے کہ وہ ان دو وحدتوں میں مثالی جمہوریت قائم کریں۔ یہاں کے لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے خصوصی کوششیں کریں۔ مقامی قیادتوں کو ابھرنے اور اپنے عوام کی خدمت کا موقع دیا جائے ۔پہلے یہ خیال رکھا جاتا تھا کہ آزاد کشمیر میں صرف مقامی سیاسی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیں لیکن 1971ء کے بعد پی پی پی نے یہاں اپنی حکومت قائم کر کے راستہ کھول دیا کہ اب پورے ملک کی سیاسی جماعتیں یہاں سیاست کرنے لگی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری خود جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون اپنے سپریم لیڈر میاں نواز شریف کو بھی خوابگاہ سے نکال کر میدان میں لے آئی ہے۔ انہوں نے اپنے اسلام آباد سے نکالے جانے کا رونا گلگت بلتستان میں رویا ہے۔ پی ٹی آئی کے جلسے بھی ہو رہے ہیں ان کے لیڈروں کو گلگت بلتستان جانے سے روکا بھی جا رہا ہے ۔جون 2026ءمیں پاکستان کی فروری 2024ء دہرائی جا رہی ہے۔

غربت کی شدت تو پورے پاکستان میں ہی تشویشناک ہے۔ 100میں سے 45پاکستانی خط غربت سے نیچے ہیں ۔عالمی اداروں کے مطابق ہر سال 26لاکھ مزید غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں ۔لیکن گلگت میں غربت اور بے روزگاری انتہائی شدت کی ہے ۔اپنے مخصوص زمینی حالات کی وجہ سےزیادہ تکلیف دہ ہے ۔یہاں تعلیم یافتہ نوجوان ہیں مگر نوکریاں نہیں ہیں ۔کیونکہ صنعتی پھیلاؤ نہیں ہو سکا ۔خام مال موجود ہے پھل ہیں ان سے متعلقہ فیکٹریاں لگ سکتی ہیں۔ ٹیکس کی بھی چھوٹ ہے لیکن کوئی بڑی صنعت نہیں لگ سکی۔ ہنر مندی کی تربیت میں خواتین کی شرکت صرف 25 فیصد ہے۔

2009 ءسے 2015ءتک پی پی کی حکومت رہی۔ صدر زرداری نے گلگت بلتستان کو اپنی حکومت اور اپنے اختیارات دینے کے فرمان پر دستخط بھی کیےلیکن یہاں کے لوگ کہتے ہیں اختیارات پھر بھی اسلام آباد کے پاس ہی رہے۔ گلگت بلتستان کو مالی معاملات کیلئے زیادہ انحصار وفاق پر ہی کرنا پڑتا ہے۔ وفاق کی گرانٹ 80 ارب روپے کے نزدیک ہے۔ تینوں پارٹیاں صرف الیکشن کے دنوں میں سرگرم ہوتی ہیں حالانکہ گلگت بلتستان کی خصوصی زمینی حیثیت کا تقاضا یہ ہے کہ بڑی سیاسی پارٹیاں اس علاقے کو اسکی ضرورت کے مطابق مضبوط معیشت دینے کیلئے سال بھر خصوصی پروجیکٹ بنائیں۔ ماہرین معیشت سے مشورے کریں سب سے زیادہ قوی امکانات سیاحت کی صنعت میں ہیں اس میں تربیت سے بے روزگار نوجوانوں کو مستحکم روزگار مل سکتا ہے ۔

سیاحت کو ایک باقاعدہ انڈسٹری کے طور پر چلایا جائے۔ 2015 سے 2020 تک پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت رہی۔ شاہراہ قراقرم کو سی پیک کے تحت اپ گریڈ کیا گیا۔ 2020سے 2025ءتک پی ٹی آئی نے مختلف سیاسی گروپوں اور آزاد امیدواروں کیساتھ مل کر حکومت بنائی عبوری صوبے کی حیثیت دینے کا اعلان کیا۔ اب پی ایم ایل این کہہ رہی ہے زمین تمہاری موٹروے ہم دیں گے ۔پی پی پی کا وعدہ ہے صوبہ تمہارا باقاعدگی ہم دیں گے ۔پی ٹی آئی کہتی ہے ہم پہلے ہسپتال بنائیں گے لیکن نوجوان کہتے ہیں ہمیں کھلا انٹرنیٹ دے دو۔ اس وقت 4 ہزار فری لانسر سالانہ چار ارب روپے کما رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی سہولت مزید ہوگی تو فری لانسر بڑھ سکتے ہیں اور ہم پہاڑوں میں رہتے ہوئے ڈالر کما کر دیں گے۔

تازہ ترین