• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان کے عروج و زوال کی داستان جسے حالات حاضرہ کے دیگر ہم موضوعات کے سبب موقوف کرنا پڑا،آج اس سلسلے کو وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں چھوڑا تھا۔جب طالبان نے ہرات پر قبضہ کیا تو کابل میں پاکستان مخالف احتجاج شروع ہوگیا، مظاہرین نے پاکستانی سفارتخانے پر حملہ کردیا،صدر برہان الدین ربانی نے لگی لپٹی رکھے بغیر صورتحال کا ذمہ دارپاکستان کو قرار دیتے ہوئے کہہ دیا کہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی اسلام آباد سے کی جا رہی ہے۔ملا عمر نے مستقبل کا لائحہ عمل متعین کرنے کیلئے 20مارچ 1996ء کو قندھار میں علما ء کا سب سے بڑا مشاورتی اجلاس بلایا جس میں 1200سے زائد علما نے شرکت کی ۔کابل میں پاکستانی سفیر قاضی ہمایوں اور آئی ایس آئی کے افسر کرنل امام بھی اس موقع پر صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے موجود تھے ۔اس شورائی اجلاس میں ملا عمر کوامیر المومنین قرار دیدیا گیا ۔

افغانستان میں ایک نیا منظر نامہ متشکل ہورہا تھا چنانچہ سکیورٹی حکام نے گلبدین حکمتیار ،جنرل عبدالرشید دوستم اور ہزارہ کمیونٹی کی نمائندگی کرنیوالی حزب وحدت پارٹی کے سربراہ کو اسلام آباد بلایا،ان وار لارڈز کو صدر فاروق لغاری اور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے ملوایا گیا۔ملاقات کا مقصد تویہ تھا کہ طالبان کا ان وار لارڈز سے اتحاد کروایا جائے اور یہ سب ملکر کابل پر حملہ کریں مگر طالبان نے اسلام آباد آنے اور ان سب کیساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا۔روس ،ایران ،بھارت سب کے افغانستان میں اپنے مہرے موجود تھے ۔روس بگرام ایئر پورٹ کی تعمیر نو میں مصروف تھا،ایران شیعہ کمیونٹی کومدد فراہم کر رہا تھا جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کا انحصار طالبان پر تھا۔

آج افغان طالبان ناخلف اولاد کی طرح سوال کرتے ہیں کہ پاکستان نے ہمارے لئے کیا کیا؟احمد رشید نے اپنی کتاب ’’طالبان‘‘کے صفحہ نمبر 70پر لکھا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب طالبان کو اسلحہ فراہم کر رہے تھے۔پاکستان نے قندھار ایئر پورٹ کی تعمیر نوکرنے ،طالبان کی فضائیہ کو ضروری اسپیئر پارٹس فراہم کرنے ،غذائی اجناس ،ایندھن اور اسلحہ پہنچانے کے علاوہ ایک نیا ٹیلیفون اور وائرلیس سسٹم مہیا کیا ۔دوسری طرف سعودی عرب ،ایندھن ،پیسے اور پک اپ گاڑیاں دے رہا تھا۔

پاکستان کو افغانستان میں شدید مشکلات کا سامنا تھا ،ایک طرف طالبان ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے تھے اور کسی سے اتحادکرنے کو تیار نہ تھے تو دوسری گلبدین حکمت یار نے مئی 1996ء میں سرپرائز دیدیا۔برہان الدین ربانی نے حکمت یار کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ اور اسکی حزب اسلامی کو 9وزارتیں دینے کی پیشکش کی جو اس نے قبول کرلی ۔برہان الدین ربانی نے دیگر جہادی کمانڈروں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی تاکہ طالبان کا ملکر مقابلہ کیا جا سکے۔سعودی انٹیلی جنس چیف ترکی الفیصل نے جولائی 1996ء میں اسلام آباد اور قندھار کا دورہ کیا تاکہ کابل فتح کرنے کیلئے نئی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ اس دورے کے چند ہفتوں بعد ہی طالبان نے جارحانہ پیشقدمی کا آغاز کردیا مگر اس بار انکی منزل کابل نہیں بلکہ جلال آباد تھا۔

معروف صحافی اور مصنف احمد رشید اپنی کتاب ’’طالبان ‘‘کے صفحہ نمبر 73پر لکھتے ہیں کہ جلا ل آباد شوریٰ کے سربراہ حاجی عبدالقدیر کے سرنڈر کا بندوبست پاکستان اور سعودی عرب نے کیا۔افغان ذرائع کے مطابق حاجی عبدالقدیر کو ہتھیار ڈالنے کے عوض 10ملین ڈالر نقد اداکئے گئے اوراسکے علاوہ یہ ضمانت بھی دی گئی کہ پاکستان میں اسکے بینک اکائونٹ فریز نہیں کئےجائینگے۔جلال آباد کے گورنر حاجی عبدالقدیر ڈیل کے مطابق فرار ہوکر پاکستان آگئے۔انکی جگہ قائم مقام گورنر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے والے محمود کو محافظوں سمیت مار دیا گیا اور یوںملا بورجان کی قیادت میں طالبان کا لشکر جلال آباد پر قابض ہوگیا۔دنیا کے تمام فاتحین کی کامیابی کا راز تیز تر پیشقدمی اور دشمن کی توقعات سے پہلے منزل پر پہنچ کر دھاوا بول دینے میں پوشیدہ ہے،طالبان بھی یہ راز پا چکے تھے ۔اگلے چند روز میں انہوں نے ننگر ہار،لغمان اور کنہڑ کے صوبے فتح کرلئے اور پھر24ستمبر 1996ء کو کابل سے 45 کلو میٹر دور سروبی کے شہر پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔جلد ہی بگرام ایئر پورٹ طالبان کے قبضے میں تھا، اور پھر26ستمبر 1996ء کی شام طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے کیونکہ احمد شاہ مسعود کی فوج نے حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے مضبوط گڑھ پنجشیر کی طرف پسپا ہونے کو ترجیح دی۔مگردارالحکومت فتح کرنے کے باوجود طالبان چین سے نہیں بیٹھ سکتے تھے کیونکہ ایک طرف وادی پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کی طرف سے مزاحمت کا سامنا تھا تو دوسری طرف مزار شریف میں جنرل رشید دوستم کی شکل میں بہت بڑا خطرہ تھا ،طالبان خود پشتون تھے اور انہیں ازبک ،تاجک اور ہزارہ کمیونٹی کی تائید و حمایت حاصل نہ تھی۔اگرچہ شیعہ کمیونٹی کے نزدیک حضرت علی ؓکا مزار عراق کے شہر نجف میں ہے مگر سنی مسلمانوں کا موقف ہے کہ حضرت علی ؓ افغانستان کے شہر مزارشریف میں دفن ہیں۔افغانستان کے شمالی صوبہ جوزجان میں مزدور کے طور پر زندگی بسر کرنیوالے عبدالرشید دوستم، جنہوں نے ایک عام آدمی سے وار لارڈ اور پھر فیلڈ مارشل تک کا سفر طے کیا،نے روسی افواج کی واپسی کے بعد اپنے علاقے کو بدامنی سے بچائے رکھا ،جب افغانستان کے دیگر علاقے انارکی کی لپیٹ میں تھے تو یہاں تعلیمی ادارے کام کر رہے تھے ،بلخ یونیورسٹی میں 1800طلبہ و طالبات زیر تعلیم تھے ،دوستم نے یہاں ’’بلخ ایئر لائن ‘‘سروس شروع کی۔مزارشریف علم وفن اور تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہوا کرتا تھا ۔دوستم دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنانے میں ہرگز تامل نہ کرتا تھا ۔طالبان نے اسے دوست بنانے کی کوشش کی مگر جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو مئی 1997ء میں مزارشریف کو فتح کرنے کیلئے لشکر بھیج دیا گیا۔

تازہ ترین