ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ کاغذ پر جنگ بندی اور زمینی حقائق میں اس کی بار بار خلاف ورزیوں نے موجودہ صورتحال کے تضادات کو واضح کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک اعتماد سازی کے لیے حقیقی اور سنجیدہ نیت موجود نہیں ہوگی، ایران کا ردعمل اسی انداز میں جاری رہے گا۔
قالیباف کے مطابق جنگ بندی سے متعلق معاہدوں اور عملی صورتِ حال کے درمیان فرق خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے، اور موجودہ طرزِ عمل اس عدم اعتماد کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٖٹ کے اسپیکر نے کہا کہ بحری ناکہ بندی کو دشمن کی ایک اور شکست میں بدل دیں گے، مفاہمتی یادداشت سے متعلق ٹرمپ کے بیانات متفقہ نکات کے برعکس تھے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ واضح ہے کہ امریکا نہ جنگ بندی چاہتا ہے اور نہ ہی مذاکرات کا خواہاں ہے، ہمارا مقصد جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن و استحکام کا قیام ہے، ہمیں مخالف فریق پر بھروسہ نہیں۔