ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کو اس وقت بڑا دھچکا پہنچا جب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے دو ماہ میں پہلی بار براہِ راست اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی امن ڈیل کو قبول نہیں کرے گا جس میں لبنان اور اس کے اتحادی گروپ حزب اللّٰہ کو شامل نہ کیا جائے۔
اتوار کو اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حملہ کیا، حالانکہ امریکا نے گزشتہ ہفتے یقین دہانی کرائی تھی کہ جب تک حزب اللّٰہ شمالی اسرائیل پر حملے نہیں کرتی، اسرائیل لبنانی دارالحکومت کو نشانہ نہیں بنائے گا، اس حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی کارروائیاں دوبارہ دہرائی گئیں تو جواب مزید وسیع اور خطے میں تمام امریکی اور صہیونی اہداف تک پھیل جائے گا۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں، بشمول دارالحکومت تہران پر حملے کیے، اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کشیدگی بڑھانے سے منع کیا تھا، تاہم اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔
بعد ازاں ایران نے اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ کیا، جس کے بعد ایرانی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے خلاف موجودہ کارروائیاں ختم کی جا رہی ہیں، تاہم لبنان پر مزید حملوں کی صورت میں زیادہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے علاقائی اتحادیوں، خصوصاً حزب اللّٰہ کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا ہے، ایران سمجھتا ہے کہ اگر وہ حزب اللّٰہ کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا تو اس کے دیگر علاقائی اتحادی بھی کمزور ہو جائیں گے۔
مرکز برائے بین الاقوامی پالیسی کی سینئر فیلو کے مطابق ایران نے پہلے ہی واشنگٹن کو خبردار کر دیا تھا کہ بیروت پر حملہ اس کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا اور حالیہ میزائل حملوں کے ذریعے اس نے ثابت کر دیا کہ یہ محض دھمکی نہیں تھی۔
لبنان اس تنازع میں اس وقت براہِ راست شامل ہوا جب مارچ میں حزب اللّٰہ نے شمالی اسرائیل پر حملے کیے، حزب اللّٰہ کا مؤقف تھا کہ یہ حملے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
اس کے بعد لبنان میں دوبارہ شدید لڑائی شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران نے مکمل جنگ چھیڑنے کے بجائے ایک نئی سرخ لکیر متعین کی ہے، اس کا مقصد اسرائیل کو یہ پیغام دینا ہے کہ لبنان خصوصاً بیروت پر حملوں کی قیمت براہِ راست ایرانی ردعمل کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایک وسیع جنگ سے بچنا چاہتے ہیں اور ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کو ترجیح دے سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا خواہاں ہے، یہی اختلاف مستقبل کے مذاکرات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وقتی جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی ممکن ہے، لیکن مستقل امن کا حصول اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے، موجودہ صورتحال میں ایران، اسرائیل اور حزب اللّٰہ ایک دوسرے کی حدود آزما رہے ہیں جبکہ امریکا وسیع علاقائی جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔