کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران مدعی مقدمہ نے عدالت کے روبرو 164 کا بیان قلمبند کروادیا۔
بیان بند کمرے میں ڈیڑھ گھنٹے ریکارڈ کیا گیا، جس میں مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ میں شیر شاہ کسی کام سے گیا تھا، واپس آیا تو دیکھا جائے وقوعہ پر رش تھا۔ میں نے جاکر جب دیکھا تو وہاں لاش پڑی ہوئی تھی۔
اس دوران وکیل صفائی نے سوال کیا کہ کیا پولیس نے آپ سے زبردستی مقدمہ کروایا ہے؟ جس پر مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ نہیں میں بطور پاکستانی اپنا فرض سمجھتا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ پولیس تو مقدمہ درج نہیں کر رہی تھی، ایک ماہ تک رلایا گیا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ایمبولینس اور پولیس موبائل موجود تھی۔ ہم لاش کو بغدادی تھانے لے کر چلے گئے۔ میں بھی وہاں چلا گیا پولیس افسر نے لاش کا معائنہ کیا۔
اپنے بیان میں اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹراؤزر کی سیدھی جیب سے ایک ڈبیا نکلی، جس پر لکھا تھا کہ انمول عرف میڈم پنکی ڈان نام ہی کافی ہے۔ ڈبیا پر شیر اور دیگر نشان بھی موجود تھے۔ پتا چلا کہ یہ نشے کا عادی ہے اور نشہ کرنے کی وجہ سے اس کا انتقال ہوا ہے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ مقدمہ میں ڈبیا کا رنگ وغیرہ مینشن نہیں کیا گیا۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ یہ فرسٹ انفارمیشن ہوتی ہے، وہ تمام باتیں چالان میں لکھی جائیں گی۔
عدالت نے مدعی کے بیان کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنادیا۔