• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کے سیاسی خاندانوں میں ہلاکتوں پر پنکی کی گرفتاری ہوئی

اسلام آباد (عمر چیمہ) سندھ کے سیاسی خاندانوں میں ہلاکتوں پر انمول عرف پنکی گرفتار، ہلاک ہونے والے افراد کی جانب سے پنکی کے نیٹ ورک کی سپلائی کردہ منشیات کے استعمال کا شبہ۔ تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع سے دی نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق، منشیات کی سرغنہ (ڈرگ کوئین) انمول عرف پنکی کو سندھ کے سیاست دانوں کے خاندانوں میں متعدد ہلاکتوں کی رپورٹ کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شبہ ہے کہ ان ہلاک ہونے والے افراد نے پنکی کے نیٹ ورک کی سپلائی کردہ منشیات کا استعمال کیا تھا۔ ان ہلاکتوں کی شکایات سامنے آنے کے بعد یہ کارروائی ایک سول انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے کی گئی۔ دو حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس پنکی کے کلائنٹس (گاہکوں) کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس میں ارکانِ اسمبلی کے بچے، متعدد خود ارکانِ اسمبلی، بیوروکریٹس، اداکار اور اداکارائیں، اور میڈیا سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔ اس پیش رفت سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کے فون سے برآمد ہونے والے وائس میسجز انتہائی دھماکہ خیز ہیں جو سب کچھ ظاہر کر دینے والے ہیں۔ اس کا نیٹ ورک لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں تک پھیلا ہوا تھا۔ اگرچہ وہ کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے راڈار پر تھی، لیکن اس وقت تک اسے گرفتار کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی جب تک کہ اس منشیات نے سیاسی اشرافیہ کے خاندانوں میں تباہی نہیں مچا دی۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان ہلاکتوں سے متاثرہ ایک خاندان نے اس لعنت کو پھیلانے والوں کے خلاف خود جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ عہدیدار نے سیاسی خاندانوں میں موت کے ایسے تین واقعات کا ذکر کیا جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ منشیات کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ دی نیوز متاثرہ خاندانوں کی تفصیلات کو (ان کی پرائیویسی کے پیشِ نظر) روک رہا ہے۔ 31 سالہ خاتون پنکی، جو اس وقت حالیہ برسوں میں پاکستان کی منشیات کے خلاف ہونے والی سب سے بڑی اور اہم ترین تحقیقات کا مرکز بنی ہوئی ہے، کو پولیس نے کوکین کی تیاری اور اس کی سپلائی کے نیٹ ورک کا آپریشنل ہیڈ قرار دیا ہے۔  تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ اس کے پہلے شوہر نے، جو ایک وکیل ہے اور اب مبینہ طور پر ملائیشیا میں مقیم ہے، اسے کوکین تیار کرنے کے کام پر لگایا۔ رپورٹ کے مطابق، اس کے فون کے فارنزک معائنے سے 869 رابطوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور 3 کروڑ (30 ملین) روپے مالیت کے لین دین کا سراغ ملا ہے۔ دورانِ تفتیش، پنکی نے الزام لگایا کہ احسن نامی ایک عہدیدار نے اس سے 5 کروڑ (50 ملین) روپے بٹورے اور اس کے علاوہ وہ اس سے ڈھائی سے تین ملین (25 سے 30 لاکھ) روپے ماہانہ وصول کرتا تھا۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کے دوسرے شوہر، جو کہ ایک حاضر سروس ڈی ایس پی ہیں، نے اسی کے پیسوں سے دو بنگلے خریدے۔ اس کے علاوہ، 9 مئی کو بغدادی کے علاقے میں منشیات کے ایک عادی شخص کی ہلاکت پر پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ اب ایک جے آئی ٹی اس نیٹ ورک کے مالیاتی ڈھانچے اور اسے حاصل ادارہ جاتی پشت پناہی کے نظام کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید