• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا میں داخلے سے روکنے پر فیفا ریفری عمر ارتان نے خاموشی توڑ دی

امریکا میں داخلے سے روکے جانے کے معاملے پر فیفا ریفری عمر ارتان نے خاموشی توڑ دی، امریکی اخبار کو انٹرویو میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ریفری نے معاملے کی داستان سنادی۔

انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن حکام نے 11 گھنٹے تک مجھ سے پوچھ گچھ کی، طویل انٹرویو کے بعد بھی داخلے سے انکار کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ پوچھ گچھ کے بعد کئی گھنٹے حراستی سیل میں رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے رات بھر ایک کمرے میں بٹھا کر سوالات کیے، مجھ سے صومالی سیاست اور الشباب سے متعلق سوالات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے میرے پیشہ ورانہ کیریئر سے متعلق آن لائن معلومات بھی چیک کیں، فیفا دستاویزات اور کیریئر ریکارڈ دکھانے کے باوجود داخلے کی اجازت نہ ملی۔

عمر ارتان کا کہنا تھا کہ طویل پوچھ گچھ کے بعد حراست میں لے کر استنبول واپس بھیج دیا گیا، کئی گھنٹے حراستی سیل میں رکھنے کے بعد واپسی کی پرواز میں بٹھا دیا گیا۔ مجھ سے بار بار امریکا آنے کی وجہ پوچھی گئی۔

صومالی ریفری نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شرکت زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا، میں صرف اپنا خواب پورا کرنا چاہتا تھا۔ ورلڈ کپ میں ریفری کے فرائض انجام نہ دے سکنے پر بہت مایوس ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس درست ویزا اور تمام ضروری دستاویزات موجود تھیں، امریکی حکام کو اپنے تمام کاغذات اور فیفا دستاویزات دکھائیں۔

عمر ارتان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ریفری بننا تمام صومالی عوام کے لیے ایک علامت ہوتا، صومالیہ کے حالات کے باوجود کامیابی کا پیغام دینا چاہتا تھا۔ لگتا ہے امریکی حکام کو میرے ملک سے مسئلہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورلڈ کپ میں ریفری کرنا میرے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا، میں نے قطر اور یو اے ای میں فیفا کے کورسز مکمل کیے۔ میں نے ایک دہائی سے زائد عرصہ پیشہ ور ریفری کے طور پر خدمات انجام دی ہیں، ورلڈ کپ میں شرکت صرف میری نہیں بلکہ پورے صومالیہ کی کامیابی ہوتی۔

صومالی ریفری کا کہنا تھا کہ شدید مایوسی کے باوجود اپنے وطن واپس جا رہا ہوں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید