• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد کشمیر میں شرپسند بھارتی آلہ کار بن کر خرابی کرتے ہیں تو نمٹا جائے گا، رانا ثناء

وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کا کسی جماعت سے تعلق نہیں، وہ الیکشن میں حصہ لینے کو تیار نہیں، شرپسند بھارت کے آلہ کاربن کرخرابی کرتے ہیں تو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب میں رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی 2023ء میں سامنے آئی، مطالبہ تھا گندم پر سبسڈی اور بجلی کی پیداواری قیمت، تب مظفر آباد میں دھرنا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت 30 ارب کا پیکیج دیا گیا، 10 ارب بجلی منصوبے کےلیے دیے گئے، آزاد کشمیر میں 3 روپے یونٹ بجلی دی جارہی ہے جبکہ باقی ملک میں 48 روپے ہے۔

ن لیگی سینیٹر نے مزید کہا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے 2 دیرینہ مطالبات پورے کیے تو یہ شکریہ کہنے کے بجائے مزید 38 مطالبات لے آئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی 2 دن ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی، اس میں سے 37 پرحکومت نے ان سے تحریری معاہدہ کیا۔

رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ ان کا ایک مطالبہ تھا کہ مہاجرین کی نشست ختم کردی جائے، مہاجرین سیٹوں کے ممبران کو وزیر نہ بنایا جائے، ہم نے انہیں کہا سیٹیں ختم کرنا انتظامی اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کا کسی جماعت سے تعلق نہیں، یہ لوگ الیکشن میں حصہ لینے کو تیار ہی نہیں ہیں، انہیں کہا کہ مہاجرین کو حق رائے دہی سے کیسے محروم کیا جائے؟ اس پر کہا گیا کہ کمیٹی بنادیں، ہمیں بھی لوگوں کو مطمئن کرنا ہے۔

ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ اب دانستہ طور پر انہوں نے 9 جون کا لانگ مارچ کا الٹی میٹم دیا، انہیں جنوری میں معلوم تھا کہ 4 اگست سے پہلے انتخابات ہونے ہیں،ان کا پلان تھا کہ الیکشن نہ ہونے دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہم دوبارہ ان سے مذاکرات کرنے گئے، انہیں ایک ایک بات کا حساب دیا، ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے کہا حلف نامے سے یہ چیزیں نکالیں کہ کشمیرکا پاکستان کیساتھ الحاق کیا جائے گا۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں کہا کہ ریفرنڈم میں یہ سوال رکھ دیتے ہیں، تو کہا گیا کہ ریفرنڈم منظور نہیں، ہم نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا کہا تو انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں کو نہیں مانتے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے معاملہ قانون ساز اسمبلی کو بھیجنے پر انکار کیا، آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ اسمبلی اس معاملے پر قانون سازی نہیں کرسکتی، سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ایگزیکٹو فیصلے سے یہ سیٹیں ختم نہیں کی جاسکتیں۔

ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ ہم 9 جون کو مظفر آباد آئیں گے، ان لوگوں نے وہاں پر فائرنگ کی، وہ لشکرکشی کررہے ہیں، بھارت کے چینلز سب خبریں دے رہے ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ بتارہے ہیں کہ بھارت کے سندور ٹو آپریشن کا کیا چل رہا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمے داری پوری کررہے ہیں، شرپسند بھارت کے آلہ کاربن کر خرابی کرتے ہیں تو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، پاکستان کے لوگوں نے کشمیر کی آزادی کےلیے قربانیاں دی ہیں، کشمیر کی آزادی کی بنیاد ہی الحاق پاکستان تھی، پاکستان ہر قیمت پر آزاد کشمیر کا تحفظ کرے گا۔

قومی خبریں سے مزید