• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو ہزار اکیس کے ریاستی انتخابات میں ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس ٹی ایم سی نے 294 کی ریاستی اسمبلی میں 213 سیٹیں حاصل کی تھیں جبکہ مودی کی بی جے پی کا اتحاد محض 77سیٹوں تک محدود رہ گیا تھا مگر 2026 ءکے حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے مغربی بنگال میں 206نشستیں حاصل کرتےہوئے ممتا بینرجی کی پارٹی TMC کو محض 81 سیٹوں تک محدود کر دیا ہے حتیٰ کہ وہ اپنے روایتی حلقہ بھوانی پور میں بی جے پی کے سویندو ادھیکاری سے پندرہ ہزار کے مارجن سے شکست کھا گئیں۔ان کی شکست اور بی جے پی کی جیت پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں کی گئی ہیں یہاں تک کہا گیا ہے کہ بی جے پی نے انڈین الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر جعلی ووٹوں کی تنسیخ کے نام پر ایک کروڑ ووٹ ختم کر دیے اگرچہ یہ تعداد بھی درست نہیں ۔ہٹائے گئے جعلی ووٹوں کی تعداد ایک کروڑ نہیں ساڑھے 77 لاکھ تھی پہلے سات کروڑ ساٹھ لاکھ دس ہزار ووٹوں کا اندراج ہوا تھا جو درستی کے بعد چھ کروڑ بیاسی لاکھ اٹھاون ہزار رہ گئے ان میں ایسٹ بنگال کے تارکین وطن کو جعلی طور پر اپنے سیاسی مقاصد کیلئے پناہ دیتے ہوئے ناجائز طور پر ووٹ بنوا دیے گئے، مرے ہوئے لوگوں کے اچھے خاصے ووٹ بدستورچل رہے تھے اسی نوع کی حیلہ سازیاں اور غلط اندراج مختلف حلقہ جات میں پائے گئے اور یہ سب حکومت نہیں، طاقتور انڈین الیکشن کمیشن کے نگرانی میں ہوا۔ ویسٹ بنگال کی سیاست سے جس طرح ممتا بینرجی اور انکی ترنمول کانگریس کا خاتمہ ہوا ہے درویش کو نہیں لگتا کہ یہ دوبارہ کبھی اٹھ سکیں گے۔ بےروزگاری، بدعنوانی، غنڈہ گردی اور تشدد کی سیاست کے علاوہ اس کی بہت سی وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں۔ کولکتہ جیسےترقی یافتہ شہر میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جس نوع کی غنڈہ گردی ہوئی اس نوع کے واقعات کی فہرست پیش کی جا سکتی ہے۔وقف ایکٹ یا مسلم ووٹ سے کب تک اپنی کوتاہیوں کو ڈھانپا جا سکتا تھا ؟کئی لوگ حیدرآباد کے معروف مسلم لیڈر اسد الدین اویسی کا نام لے کر عجیب و غریب نوعیت کے اعتراضات اٹھاتے ہوئے خواہ مخواہ کا جعلی پراپیگنڈا کر رہے ہیں حالانکہ یہ سب عذرِ گناہ بدتراز گناہ والی کاوشیں ہیں، اسدالدین اویسی نے جو کچھ کیا، بنگال اور بنگالی مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں کیا، انھوں نے بنگلہ مسلمانوں کو انڈین نیشنل دھارے کے ساتھ جوڑ دیا جبکہ کچھ لوگوں نے عقیدے کی بِنا پرانہیں کو مزید "نکو "بنانے اور مروانے کی ٹھانی تھی۔ اس سلسلے میں ایک اوربنگالی مسلم لیڈر ہمایوں قدیرکا نام منفی طور پر لیا جا رہا ہے حالانکہ وہ ہم سب کی طرف سے شکرو سپاس کے مستحق ہیں۔انڈین ریاست ویسٹ بنگال ہو، بہاریا آسام مسلم امیگریشن ایشو کو ہمارے ہاں کبھی ریئلیٹی کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمارے لوگوں پر یہ واضح ہے کہ پارٹیشن میں جس طرح ویسٹ بنگال سے نقل مکانی ہوئی یا ہندو مسلم اختلاف کی جو دیواریںاستوار ہوئیں، مابعد بنگلہ دیش سے انہی لوگوں کی انڈین ریاستوں میں مراجعت کی کاوشیں ہی غیر قانونی امیگریشن کا باعث ثابت ہوئیں۔ بہار کی طرح آسام کے انتخابی نتائج کو اسی تناظر میں پرکھا جانا چاہیے۔ ہم لوگ یہ تو کہہ دیتےہیں کہ ہندوتوا کے تحت مسلم مینارٹی کو دبایا جا رہا ہے لیکن انڈین نیشنل کانگریس کا رول آج بھی مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کی قدیمی اپروچ پر چل رہا ہے۔ اس کا ادراک ان ریاستی انتخابات میں کانگریس کی طرف سے کھڑے کیے گئے نمائندوں کی فہرست سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ آسام میں کانگریس کے 19 نمائندے ریاستی اسمبلی میں پہنچے ہیں اور ان میں 18مسلمان ہیں۔ اسی طرح کیرالہ اسمبلی میں جو 35 کانگریسی ممبران پہنچے ہیں ان میں سے 30 مسلمان ہیں ۔واضح رہے کہ کیرالہ نہ صرف ایک خوشحال ریاست ہے بلکہ ایجوکیشن کے لحاظ سے ہنڈرڈ پرسنٹ لٹریسی ریٹ رکھتی ہے، یہاں کمیونسٹ پارٹی آف کیرالہ کی حکمرانی چلی آ رہی تھی جسے شکست دے کر کانگریسی الائنس یو ڈی ایف نے حکومت بنائی، جس کا بڑا شیئر انڈین یونین مسلم لیگ کیرالہ کو دیا گیا ہے،اس پر آسام کے مسلمان نیتا بدرالدین اجمل نے پھبتی کسی کہ آج کی کانگریس در حقیقت مسلم لیگ بن چکی ہے۔ اس کے باوجود کیرالہ میں بی جے پی کی ہار اس لیے نہیں کہی جا سکتی کہ یہاں پہلے سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت چلی آ رہی تھی جو مودی سرکار کیلئے سر درد بنی ہوئی تھی۔ حالیہ انڈین ریاستی انتخابات میں راہول گاندھی کی انڈین نیشنل کانگریس یا ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس نے جو کچھ کھویا ہے وہ تو واضح ہے، مگراصل صفایا انڈیا میں کمیونسٹ پارٹیوں کا ہوا ہے ویسٹ بنگال میں ان کی اچھی خاصی طاقت رہی ہے یہی حال کیرالہ اور تامل ناڈو میں بھی تھا جس سے نہ صرف یہ کہ وہ پوری طرح ہاتھ دھو بیٹھی ہیں بلکہ مستقبل میں دوبارہ ان کی اٹھان بھی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ان ریاستی انتخابات میں سب سے دلچسپ کامیابی تامل ناڈو میں پاپولر اداکار جوزف وجے کی گردانی جا رہی ہے یہ وہ بیدار مغز شخص ہے جس نے محض دو برس کی انتھک جدوجہد سے تامل ناڈو کی دونوں بڑی پارٹیوں کو ناک آؤٹ کر ڈالا ہے عوام بالخصوص نوجوان نسل دیوانہ وار اس کی طرف لپکی ہے اور اس نے بھی ان کی امیدوں کا پوری طرح پاس و لحاظ کیا ہے سب کو اپنے ساتھ جوڑا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تامل ناڈو میں مسیحی ووٹ محض چھ فیصدہے لیکن ایک مسیحی جواں سال آرٹسٹ نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی حکومت بنائی ہے۔ چیف منسٹر منتخب ہونے کے بعد اس نے جو اولین احکامات جاری کیے ہیں ان ٹین کمانڈمینٹس کا تامل ناڈو میں خوب چرچا ہے۔ جو لوگ بھارت میں ہندتواکے لتے لیتےنہیں تھکتے جوزف وجے کی جیت ان اعتراضات کا جواب اور بھارتی جمہوریت کی ایک مثال ہے۔

تازہ ترین