تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق "فرسٹ ورلڈ" یعنی امیر ملکوں کی فہرست میں برطانیہ، آسٹریلیا کے بعد مختلف اقسام کے جرائم میں دوسرے نمبر پر آتا ہے، آسٹریلیا چونکہ مغربی ممالک میں شامل نہیں اس لیے مغربی ممالک اور امریکہ کے حوالے سے برطانیہ میں رہنے والے لوگوں کے کار چوری، نقب زنی، جنسی وارداتیں ،تشدد اور ڈاکہ زنی سے متعلق جرائم کا شکار ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ مختلف جرائم کے شکار افراد کے حوالے سے ہالینڈ کی وزارت انصاف کی طرف سے شائع ہونے والے اس بین الاقوامی سروے کے اعداد و شمارِ ’’غریب‘‘ اور جرائم برطانیہ کی لیبر حکومت کیلئے بہت پریشان کن نظر آتے ہیں۔
اس سروے میں 17بڑے صنعتی ممالک کے تقریباً 35ہزار افراد سے مختلف جرائم کے متعلق ذاتی تجربات پر سوالات کیے گئے حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا کے بعد برطانیہ سر فہرست تھا جبکہ فن لینڈ، سوئیزر لینڈ اور جاپان جرائم سے بہت حد تک محفوظ ممالک کی صف میں نظر آئے ۔ترقی یافتہ ممالک میں برطانیہ کی جرائم کی فہرست میں اس خراب پوزیشن کی کوئی واضع وجوہات نظر نہیں آتیں۔ جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے پرتشدد جرائم میں اضافہ ہوا ہے یہ طے ہے کہ برطانیہ میں سزاؤں کی نرم پالیسی کو اس خراب حالت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ پرتگال کے سوا برطانیہ ان ممالک کی لسٹ میں سب سے اوپر آتا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو جیلوں میں بھیجا جاتا ہے ۔ اس طرح نقب زنی کی وارداتوں کی بڑھتی ہوئی شرح کا ذمہ دار بے احتیاطی کو بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ برطانوی گھروں میں کسی بھی امیر ملک کے مقابلے میں زیادہ حفاظت خصوصی تالے اور چوروں سے ہوشیار کرنے والے الارم لگے ہوئے ہیں جگہ جگہ نقب زنی کے خلاف پولیس کی تشہیری مہم اپنا کام کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق متعلق نفسیات دان ان جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کا ذمہ دار عوام میں جلد اور راتوں رات امیر بننے کی خواہشات کو ٹھہراتے ہیں۔ اس طرح دیگر عوامل میں معاشرتی ٹوٹ پھوٹ، غیر یقینی مستقبل، نقل و حرکت میں اضافہ اور شہری آبادیوں کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ شامل ہے۔
ادھر حکومتی پارٹی کے ایک اہم وزیر نے کہا ہے کہ بار بار ہونے والے ان جرائم کے پیچھے تقریباً ایک لاکھ افراد کا ہاتھ ہے۔ حکومت کی طرف سے عادی نقب زنوں کی روک تھام کے لیے پہلے ہی زیادہ سخت سزاؤں پر مشتمل قانون سازی کی گئی ہے۔ اسی طرح منشیات کے عادی افراد کے لیے جو ایک تہائی سے زیادہ جرائم کے براہ راست ذمہ دار ہیں کو اسپیشل ڈرگ کورٹ کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ ایک جائزے کے مطابق ایک پولیس آفیسر کو پیٹرولنگ کے حلقے میں دیکھ بال کرتے ہوئے اوسطاً 18 ہزار افراد، 75 ہزار گھر، 185 پارک، 77میل لمبی سڑکیں اور تقریباً 10 سکول آتے ہیں اس طرح پولیس کے لیے کسی مجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں ہوم آفس کے ایک اندازے کے مطابق لندن کی سڑکوں پر پٹرولنگ کرنے والے ایک پولیس کانسٹیبل کے لیے آٹھ سال میں ایک دفعہ یہ امکان ہوتا ہے کہ وہ عین نقب زنی کے وقت اس علاقے میں 100 گز کے فاصلے پر کہیں موجود ہو جبکہ اس نقب زن کو گرفتار کرنا یا نہ کرنا ایک الگ سوال ہے چنانچہ اکثر و بیشتر اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ پولیس کی کم نفری کے باوجود یہ کس طرح ممکن ہے کہ عوام کو پولیس کی موجودگی کا احساس دلایا جائے پولیس ایسوسی ایشن کے خیال میں دو پولیس آفیسروں کو اکٹھے پٹرول کرنے کے بجائے علیحدہ علیحدہ ڈیوٹی دینی چاہیے حکومتی وزراء کی رائے میں عوام کے مطالبات کے مطابق پولیس کی زیادہ تعداد کو پٹرولنگ ڈیوٹی پر لایا جا سکتا ہے اگر انہیں پولیس اسٹیشنوں میں مختلف فارم بھرنے اور عدالتوں کے چکر لگانے سے وقت میسر آ جائے اور کیسوں کی پیروی کے لیے زیادہ وقت نہ صرف کرنا پڑے۔
ماہرین کے خیال میں پولیس نظام کو زیادہ فہم و فراست رکھنے والے دانشور افسروں کی شدید ضرورت ہے اور پولیس کے لیے کی جانے والی آئندہ بھرتی میں باصلاحیت افراد کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں وسائل سے بڑھ کرکرشماتی اقدامات نہیں کر سکتی۔ یاد رہے کہ صرف لندن میں روزانہ 200 سے زیادہ افراد سٹریٹ کرائم کا نشانہ بنتے ہیں اور جیلوں میں ان دنوں ریکارڈ تعداد 69500 ہے اور ہر ماہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ راہ زنی کی وارداتوں اور واقعات نے لندن کو دوسرا نیویارک بنا دیا ہے اور مگنگ جرائم میں لندن دنیا کا دارالحکومت بن چکا ہے۔
میں دلیلوں سے بات کرتا ہوں
آپ آیات پر اتر آئے ہیں