اس دنیا میں ہر کام کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ ایک بستر پہ پڑا ، کمزور ٹانگوں والا آدمی اگر کسی موٹیویشنل اسپیکر کا خطاب سنکر میراتھون میں بھاگنے کا ارادہ کر لے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ ہمارا طرزِ فکر بالکل یہی ہے ۔ کسی کا چہرہ اگر سرخ دیکھیں تو اپنے چہرے پر تھپڑ مارنا شروع کر دیں ۔ ایک لطیفہ یاد آتا ہے ۔ ایک مرتبہ کسی خاتون کی ای میل آئی کہ میں نے اپنے بیٹے کو ٹیپو سلطان بنانے کا ارادہ کر لیا ہے ۔ یعنی محترمہ اُمت مسلمہ کیلئے ایک نئے ٹیپو سلطان کی تیاری کا بیڑہ اٹھا چکی تھیں ۔ انہیں جواب دیا کہ اپنے بیٹے پر رحم کریں ۔ امت کو تو نیا ٹیپو ملے نہ ملے، آپ ایک بچے کو تباہ کر دیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیپو سلطان ایک بہت بڑے فاتح سپہ سالار حیدر علی کا فرزند تھا ۔ اس کے جینز اور تھے ۔ اس کے حالات اور تھے۔
آج جس زمانے میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں ، اس میں ایک سپہ سالار بھی اپنے فرزند کو اپنا جانشین نامزد نہیں کر سکتا ، خواہ وہ کتنا ہی قابل ہو ۔ ہر بچے کی نفسیات بھی مختلف ہوتی ہے ۔ بعض بچوں کو خود بہت سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے، کجا یہ کہ آپ امت کی ذمہ داری اس پہ ڈال دیں۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے ، جو مصنوعی تنفس پہ چل رہا ہے ۔ زرِ مبادلہ کے نام پر آپ کے پاس چین کے پیسے ہیں اور سعودی عرب کے ۔ کچھ آکسیجن آئی ایم ایف کی طرف سے آتی ہے تو یہ جسد سانس لیتاہے ۔ یکایک مگر کچھ ایسے حکمران ہمیں نصیب ہوئے ہیں ، جوراتوں رات یورپ سے مقابلے کے آرزومند ہیں۔
کسی نے یکایک ریڑھیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کوئی ٹریفک ضابطوںکی خلاف ورزیوں پہ اتنے بڑے چالان نافذ کرنے لگا کہ موقع پر ہی کئی شخص زندگی کی بازی ہار گئے۔
بڑی خوفناک وڈیوز زیرِ گردش ہیں کہ ریڑھیوں والے اپنی ریڑھیوں سے چمٹ گئے مگر ان ریڑھیوں کو کچل کے توڑ دیا گیا ۔ ایک محنت کش خاتون نے اپنی ریڑھی چھیننے والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ کم از کم اس پر نصب بیٹری تو دے دو ۔ چھیننے والوں کے دل مگر پتھر کے ہیں ۔ انہیں اوپر سے حکم ہے۔
اوپر سے حکم دینے والوں کو پتہ ہی نہیں کہ ملک کی معاشی صورتِ حال اس وقت کیا ہے ۔ ایسے ہی ایک وزیرِ اعلیٰ نے ایک دن برآمدات بڑھانے سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا : پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے قیمتی دماغ ہیں۔ ہم اپنے قیمتی دماغ برآمد کریں گے ۔ حاضرینِ مجلس نے یہاں تک تو سنا ۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ساری دنیا اپنے قیمتی دماغوں کو باہر جانے سے روکتی ہے ۔ کسی ملک سے اگر قیمتی دماغ نکل جائیں یعنی برین ڈرین ہو جائے تو یقینی بات ہے کہ آپ دوسری قوموں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
حکمران طبقے کو یہ اندازہ تک نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں کسان کس بری طرح تباہ ہوئے ۔ آپ کا پورا ملک اس وقت ایک ایسی منڈی بن چکا ہے ، جس میں آپ صارف کو زبردستی بجلی استعمال کراکے کیپیسٹی چارجز کے نام پر مہنگا ترین بل وصول کرتےہیں ۔بڑی بڑی کمپنیاں یہ ملک چھو ڑکر بھاگ رہی ہیں کیونکہ اتنی مہنگی توانائی میں کارخانے چلانا فیزیبل ہی نہیں رہا ۔ اشرافیہ یاتو شوگر ملوں کی مالک ہے یا بجلی گھروں کی ،باقی جورہ گئی ، وہ ہائوسنگ سوسائٹیوں کی ۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ لوگ اس ملک سے نکل کر بھاگ رہے ہیں اور انہیں زبردستی جہازوں سے نیچے اتارا جا رہا ہے ۔
حکمرانوں کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ وہ یورپ کی ایک چیز دیکھ کر اسے نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ ممکن ہی نہیں ۔یہ وہی بات ہو گئی کہ آپ بستر پہ پڑے شخص کو میراتھون میں بھگانے کا ارادہ کر لیں ۔ سوشل میڈیا کی ایک مزاحیہ تصویر یادآتی ہے ۔ ایک شیر سویاہوا تھا اور ایک بندر ہاتھ میں ڈنڈا لے کر اس کے سرہانے کھڑا تھا ۔ کیپشن میں لکھا تھا کہ پتہ نہیں یہ بندر کس موٹیویشنل اسپیکر کا خطاب سن کر شیر کی مرمت کا ارادہ کر بیٹھا ہے۔
جس ملک کے حالات اتنے خراب ہوں ،سب سے پہلے آپ یہ کوشش نہیں کرتے کہ مارکیٹیں جلدی بند کرا دیں۔ یہ تو بسترِ مرگ پہ پڑے انسان کی آکسیجن چھیننے کی کوشش ہے ۔ پہلے آپ نوکریاں تو پیدا کریں ۔ کارخانے لگانے میں سہولت کاری کریں ۔ وہ وقت دو عشروں بعد آئے گا ، جب مارکیٹیں شام ڈھلے بند کی جا سکیں گی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں پرانے حکومتی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے ، وہیں میٹرو جیسے نئے ادارے تشکیل دیے جا رہے ہیں ۔ پی آئی اے بیچ دی گئی۔ صوبے اپنی ایئر لائن بنانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں سیاسی مخالفین کے گھروں میں پولیس گھسانے کانتیجہ یہ ہے کہ اب راہ چلتے لوگوں پہ کیسز ڈال کر ان سے تاوان حاصل کیا جا رہا ہے ۔ الیکشن بے معنی ہو چکے ۔ ایک طرف ملک عالمی سیاسی مسائل ، جیسا کہ ایران امریکہ اسرائیل تنازع حل کروا رہا ہے ۔ دوسری طرف آئی ایم ایف سے چھٹکارا ممکن نہیں ۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی اپریل میں خود فرماچکے کہ گزشتہ چند برسوں میں 100ارب ڈالر منی لانڈرنگ کر کے ملک سے باہر لے جائے گئے ۔ سب جانتے ہیں کہ کس کی دبئی میں کتنی جائیدادیں ہیں ۔ ملک چونکہ چین اور سعودی عرب کے پاکستان میں رکھوائے گئے زرِ مبادلہ پہ منحصر ہے ؛چنانچہ ہماری خارجہ پالیسی اسیر ہے ۔ افسر شاہی کو خوش رکھنے کے لئے اللے تللے اسی طرح جاری ہیں۔
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتےتھے کہ ہاں
رنگ لاوئے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اس ملک کی تاریخ میں جس وزیرِ اعلیٰ نے سب سے زیادہ شاندار ترقیاتی کام کرائے ، اس کا نام ہے پرویز الٰہی ۔ قومی امنگوں کے مقابل کھڑے ہونے کا انجام مگر یہ ہے کہ قاف لیگ کا نام بھی کسی کو یاد نہیں ۔ ہمارا کام تھا سمجھانا، اَگّے تیرے بھاگ لچھیے۔