• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شمشال میں عید ہر سال اسی عقیدت، محبت، سادگی اور اشتراک عمل کے جذبے سے منائی جاتی ہوگی جس کے ساتھ اس برس منائی گئی۔ مگرہم تک اس کا آنکھوں دیکھا حال اس بناپر پہنچ گیا کہ فرنود عالم وہاں گئے ہوئے تھے۔ یوں ایک ایسی بستی اچانک ہمارے سامنے آگئی جو بلند پہاڑوں اورطویل فاصلوں کے باعث ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ شمشال کا شمار پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع وادی ہنزہ کے آخری آباد حصوں میں ہوتا ہے۔ اس مقام سے عید الاضحیٰ کے دن کی سرگرمیوں پرمبنی روداد تعاون، نظم، مساوات اور اجتماعی زندگی کی ایسی روایات کا مرقع ہے جوہمیں اپنے اردگرد کے معاشرے کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا محسوس ہوتا ہے۔ گلمت galmat کے مقام پر نماز عید الاضحی کے فوراً بعد ایک اجتماعی نظام متحرک ہوگیا۔ میدان میں چادریں بچھا دی گئیں اور آس پاس کے گھروں سے لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کی میسر اشیا لے آئے۔ مکھن، ملائی، پنیر، روٹی، پراٹھے، مال ملیدے، پھل چن دئیے گئے۔یہ کوئی رسمی انتظام نہیں تھا۔خود بخود پیدا ہونے والا سماجی عمل تھا جس میں ہر فرد شامل تھا۔ ناشتہ ہوا ۔سب نے ایک دوسرے سے حال احوال کہے، گلے ملے اور گھروں کی طرف روانہ ہوگئے۔ دوسری طرف نماز عید کے فوراً بعد قریبی میدان میں شروع ہونے والے جانوروں کے ذبیحے سے لیکر گوشت کے حصے بنانے تک کا عمل منظم انداز میں جاری رہا۔ دوپہر تقریباً تین بجے تک ہرگھر میں قربانی کا گوشت پہنچ چکا تھا۔ گوشت کی تقسیم گھروں کی تعداد کے مطابق مساوی مقدار میں ہوئی۔ ایک گھر کے حساب میں اگر پانچ کلو گوشت آیا تو ہرگھر میں پانچ پانچ کلو کے حساب سے گوشت پہنچادیا گیا، چاہے کسی گھر کی طرف سے کئی قربانیاں کی گئی ہوں یا ایک بھی قربانی نہ کی گئی ہو۔ شمشال کی اس روایت میں مذہبی فریضے کی ادائیگی کے ساتھ گوشت کی تقسیم کا مقامی ضرورتوں سے ہم آہنگ ایسا طریقہ بھی نمایاں ہوا کہ ضرورت مند تک اس کا حصہ اس طرح پہنچے جس میں وہ خود کو الگ یا کم تر محسوس نہ کرے۔

یہ پورا منظر نامہ ایسے سماجی طریق کار کی نشاندہی کرتا محسوس ہوتا ہے جس میں عید کی نماز اور سنت قربانی کی ادائیگی کے فوراً بعد کاروبار زندگی، ملاقاتوں، عیادتوں، تعزیتوں، بچوں اور بڑوں کی خبرگیری سمیت ایک مربوط نظام خودبخود فعال ہوجاتا ہے۔ یہاں نہ کوئی بڑی انتظامی مشینری تھی، نہ کوئی پیچیدہ منصوبہ بندی۔مگر ہر کام وقت پر اور منظم انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔ یہ امر نمایاں ہوا کہ معاشرے کے اندر اعتماد، تعاون اور اجتماعی شعور موجود ہوتو بڑے بڑے انتظامی کام آسان ہوجاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے تمام علاقوں کی صورت حال ایک جیسی نہیں۔ بعض علاقوں میں تعلیمی سہولتیں کم ہیں، بعض مقامات پر معاشی حالات بچوں کو کم عمری میں کام کاج پرمجبور کرتے ہیں ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ بعض مخصوص علاقوں اور برادریوں نے تعلیم ،تنظیم اور اجتماعی تعاون کے میدان میں نمایاں کام کیا ہے، شمشال اور گردونواح کے علاقےاسی ذیل میں آتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ فطری طور پر سامنے آتا ہے کہ ایک دور افتادہ علاقے کی پہاڑی کمیونٹی اپنے محدود وسائل کے باوجود تعلیم، تنظیم اور اجتماعی ذمہ داری کے میدان میں مثال قائم کر سکتی ہے تو وہ وجہ تلاش کرنی اور اس کے تدارک کی تدبیر کی جانی چاہئے جس کے باعث دوسرا علاقہ پیچھے رہ گیا۔ قومی ترقی درحقیقت مقامی ترقیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ محلے منظم ہونگے تو شہر بھی منظم ہونگے اور ملک مضبوط ہوگا۔ ایک مضبوط قوم صرف بڑے نعروں کی مرہون منت نہیں ہوتی۔ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی مثبت عادتوں،منظم اداروں اور تعلیم یافتہ شہریوں سے عبارت پاتی ہے۔یہاں سے تعلیم، بالخصوص خواتین کی تعلیم کی ضرورت نمایاں ہوتی ہے۔ مشہور مثل کے مطابق ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تمام چیزوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے جنہیں انسانوں اور سماجوں کی بھرپور نشوونما کا حصہ کہا جاتا ہے۔ ان میں کھیل، اسکاؤٹنگ، گرلز گائیڈز،شہری دفاع کی تنظیموں اور ان کے ساتھ جڑی فرسٹ ایڈ اور آگ پر فوری قابوپانےکی تربیتیں بھی آجاتی ہیں۔ ہمارے جن بلند برف پوش پہاڑوں کے علاقوں میں کوہ پیماؤں اور مہم جو سیاحوں کی آمدورفت رہتی ہے وہاں ان کی حفاطت کے دیگر انتظامات کے ساتھ اسکاؤٹنگ پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ان علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد اپنے اسکاؤٹ ہونے پر فخر کرتی اور مشکلات میں گھرے لوگوں کی مدد کیلئے ہر لمحہ مستعد رہتی ہے۔شمشال کی پہاڑی وادی سے آنے والی مذکورہ سادہ سی روداد ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت صرف ان کے وسائل میں نہیں، ان لوگوں میں ہوتی ہے جو ایک دوسرے کاہاتھ تھامے رکھتے ہیں۔ شاید ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں چھوٹے پیمانے پر ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کریں جولوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ ہر مسئلے کا حل اسلام آباد ، صوبائی دارالحکومتوں یا بڑے سرکاری اداروں سے نہیں آتا۔شمشال سے آنے والا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ مضبوط معاشرے اچانک وجود میں نہیں آتے۔ وہ برسوں کی تربیت، اعتماد،مشترکہ اقدار اور اجتماعی ذمہ داری کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں، محلوں، اسکولوں اور کمیونٹی اداروں میں انہی اقدار کو فروغ دیں تو بہت سے مسائل کا حل خود ہمارے درمیان سے سامنے آنا شروع ہوجائے گا۔ آنے والے برسوں میں ہمیں صرف معاشی ترقی کے اشاریوں پر نہیں،اپنی سماجی صحت پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے محلوں میں باہمی اعتماد بڑھ رہا ہے؟ کیا ہماری نئی نسل خدمت اور ذمہ داری کا شعور حاصل کررہی ہے؟ اور کیا ہمارے مقامی ادارے لوگوں کو قریب لانے کا موجب بن رہے ہیں۔ یہی وہ سوالات ہیں جو کسی بھی معاشرے کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل محلے، گاؤں، یونین کو نسل اور مقامی کمیونٹی کی سطح پر تلاش کیا جاسکتا ہے۔ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ معاشرہ صرف حقوق مانگنے سے نہیں، ذمہ داریاں ادا کرنے سے بھی مضبوط ہوتا ہے۔

تازہ ترین