• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی ایرانی خارگ جزیرے میں دلچسپی کیوں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کا ذکر کیے جانے کے بعد اس جزیرے کی اہمیت ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ امریکی افواج قریب مستقبل میں خارگ جزیرے پر قبضہ کر سکتی ہیں، تاہم بعد میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے مجوزہ حملوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

خارگ جزیرہ کیوں اہم ہے؟

خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اسے اکثر ممنوع جزیرہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سخت فوجی نگرانی اور سیکیورٹی انتظامات موجود ہیں۔

یہ جزیرہ ایران کی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات کو سنبھالتا ہے اور ہر سال لگ بھگ 950 ملین بیرل خام تیل یہاں سے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

خارگ جزیرہ ایرانی بندرگاہ بوشہر پورٹ سے تقریباً 55 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع ہے جبکہ ایرانی سر زمین سے اس کا فاصلہ تقریباً 28 کلو میٹر ہے۔

جغرافیائی برتری

صرف 8 کلومیٹر لمبے اور 4 سے 5 کلومیٹر چوڑے اس جزیرے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کے اطراف موجود گہرے سمندری پانی ہیں۔

یہ قدرتی گہرائی دنیا کے بڑے آئل ٹینکروں کو محفوظ انداز میں لنگر انداز ہونے اور تیل لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، یہاں سے زیادہ تر خام تیل ایشیائی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، جبکہ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔

امریکا کے لیے خارگ کیوں اہم؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خارگ جزیرے کی سرگرمیاں متاثر ہو جائیں تو ایران کی تیل برآمدات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جس سے تہران کی آمدنی اور اقتصادی صلاحیت متاثر ہو گی۔

اسی وجہ سے بعض امریکی پالیسی ساز اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں، ٹرمپ نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا ہمیشہ ان کی ترجیح رہا ہے۔

ممکنہ خطرات

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خارگ جزیرے پر کسی بھی امریکی حملے کو ایران انتہائی اشتعال انگیز اقدام تصور کرے گا، اس کے جواب میں تہران خلیجی ممالک کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مزید برآں! عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی غیر یقینی صورتِ حال کا شکار عالمی معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خارگ جزیرہ محض ایک چھوٹا سا جزیرہ نہیں بلکہ ایران کی توانائی کی شہ رگ ہے اور اس کے مستقبل سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید