ایک رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں بھی ہارٹ اٹیک کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق 40 سال سے کم عمر افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح 15 فیصد تک پہنچ چکی ہے، غیر صحت مند طرزِ زندگی، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، ناقص غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی اس بڑھتے ہوئے رجحان کی اہم وجوہات ہیں، دل کے مریضوں کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے، جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہارٹ اٹیک کے 15 سے 20 فیصد مریضوں کی عمر 40 سال سے کم ہوتی ہے، جبکہ متعدد مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جدید آلات سے (ایک ہائی اسٹریٹ آئی اسکین) جس میں تھری ڈی پکچرز سے آنکھوں کے اندرونی ٹشوز اور اعضا کا معائنہ کیا جاتا ہے، اس قسم کے اسکین سے کسی شخص میں ہارٹ اٹیک یا اسٹروک کے آئندہ دس برس میں امکانات کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز اور معمول کے طبی معائنے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر نوجوان نسل نے اپنی روزمرہ عادات میں مثبت تبدیلیاں نہ کیں تو مستقبل میں ہارٹ اٹیک ایک سنگین سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔