پہلے تو اس خبر نے بہت ملال دیا کہ حکومت اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ آج کل کے دور میں اقتصادیات ہی بنیادی حقیقت ہیں اور اقتصادی اہداف حاصل نہ ہوں تو سارے شعبے متاثر ہوتے ہیں۔لیکن کچھ گھنٹوں بعد ہی ایک خبر نے نہال کر دیا جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بند ،ایران اور ہم مفاہمت کی یادداشت پر راضی ہو گئے ہیں ۔کل دستخط ہو سکتے ہیں صدر ٹرمپ نے گزشتہ چند ماہ میں اپنا اعتبار خود کھو دیا ہے۔ ان پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن جب ٹی وی چینلوں پر ایرانی وزیر خارجہ کی پٹی چلی تو خوشی دو چند ہو گئی کہ اس یادداشت کے بعد دنیا میں سکون آ جائے گا ۔قیمتیں کم ہوں گی ۔اسٹاک ایکسچینج مارکیٹیں مندی سے نکل آئیں گی۔ پھر ہمارے وزیراعظم جناب شہباز شریف کی ہفتے کی صبح جنیوا روانگی کی خبر بھی آگئی۔ یقیناََ اپنا جہاز لے کر جائیں گے اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے ملک کے چیف ایگزیکٹو کے جہاز کا خرچہ کتنا ہوتا ہوگا ۔کیا وہ عام کمرشل فلائٹ سے اپنی ٹیم لے کر نہیں جا سکتے۔ کیا اس کا خرچہ کم نہیں ہوگا؟ لیکن انبساط کے عالم میں کفایت شعاری کون سوچتا ہے۔ پاکستان کی مصالحتی کوششیں رنگ لا رہی ہیں یا ایران کی کامیاب پالیسیوں نے امریکہ جیسی سپر طاقت کو جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پھر بھی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ تل ابیب سے نیتن یاہو پھر نہ کوئی رکاوٹ ڈال دیں۔ ٹرمپ کی انگلیاں پھر کی پیڈپر حرکت میں آجائیں۔ تاریخ عالم نے کسی ذمہ دار ملک کے سربراہ کو اس طرح اپنے موقف تبدیل کرتے نہیں دیکھا۔پوری دنیا اس علاقائی جنگ سے سخت پریشان ہے۔ تیل کی سپلائی رکی ہوئی ہے بنیادی ضرورت کی اشیاء مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔
آپ جب یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو امید یہی ہونی چاہیے کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہوں۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز بھی ہیں۔ اس کا انتخاب اسی لیے شاید کیا گیا ہو کہ یادداشت کو اب اقوام متحدہ کی توثیق بھی حاصل ہوگی جو ایران کا مطالبہ تھا۔ بظاہر تو ایران کی مزاحمت نتیجہ خیز ہوئی ہے اور اس نے یہ راؤنڈ جیت لیا ۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہووں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ کراچی میں گرمی کی شدت ہے۔ بچے آج بات کریں گے ۔امریکہ ایران مفاہمت پر،پاکستان کے بجٹ پر، اقتصادی سروے کے خدشات پر ۔اپنی اولادوں سے ہفتے میں ایک بار ضرور کھل کر بات کریں۔ ان کے ذہنوں میں تڑپتے سوالات کے جواب ضرور دیں۔ ان دنوں سماج میں جو نفسا نفسی ہے آپس میں دوریاں ہیں سب سے زیادہ خطرناک امر حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے ہیں۔ بے اعتباری ہے۔ ایک ریاست کے استحکام کیلئے یہ سب سے سنگین موڑ ہوتاہے آپس میں بھروسہ اس حدتک ختم ہو گیا ہے کہ حکمران سچ بھی بول رہے ہوں تو واہگہ سے گوادر تک اکثریت اسے تسلیم نہیں کرتی ہے ۔ملک کے حقیقی مالکوں عوام اور حکمرانوں میں جب یہ مسافت ہو تو معاشرے آگے نہیں بڑھتے ۔ان دنوں ہماری دونوں حساس وحدتوں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں یہ دوریاں تصادم میں بدل رہی ہیں ۔1985سے ہمارے سیاسی رہنماؤں اور حکومتوں نے عوام سے جس لاتعلقی کو اختیار کیا تھا ۔اس نے پاک سرزمین پر فکری اور سیاسی انتشار کو اور زیادہ سنگین کر دیا ہے۔ لسانی نسلی اور صوبائی تعصبات میں شدت آ چکی ہے۔ ایسی شخصیات ادارے اور سیاسی تنظیمیں بہت کم رہ گئی ہیں۔ جنہیں غیر جانبدار کہا جا سکتا ہو اور جو متصادم فریقوں کو قریب لا سکیں۔ جن کی بات سنجیدگی سے سنی جائے۔ پھر ایسے حلقے زیادہ غالب آگئے ہیں جو برسوں سے کہتے آئے ہیں ریاست کو سخت ہونا چاہیے بعض بقراط تو یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ جب تک ہزاردو ہزارشر پسندوں کو تہ تیغ نہیں کیا جائے گا ۔ریاست کی رٹ قائم نہیں ہو سکتی۔
پاکستان میں سخت ریاست، لاٹھی گولی کی سرکاروں ، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے، لوگوں کو کئی کئی برس جیل میں رکھنے کے تجربے ہو چکے ہیں ۔اس کے باوجود اگر اقتصادی اہداف کے حصول میں ناکامی ہوتی ہے تو ماں جیسی ریاست کی طرف آنا ضروری ہے کیونکہ کوئی ریاست عوام کی شراکت کے بغیر ملک میں خوشحالی نہیں لا سکتی۔
ویسے تو یہ ماہرین معیشت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق کے بعد ارشاد فرمائیں کہ اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کب اور کیوں ہوتی ہے ۔کیا 1985 کے بعد سے ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات وقت کے تقاضوں کے مطابق رہی ہیں ۔حکومتیں سیاسی رہی ہوں یا فوجی جب آپ ہر طبقے کو اعتماد میں لے کر نہ چل رہے ہوں۔ عوام کی مشکلات پر سنجیدگی سے غور نہ کر رہے ہوں۔ جب تک خارجہ پالیسی، داخلہ پالیسی، دفاعی پالیسی، اقتصادی پالیسی کی سمت ایک نہ ہو۔ صوبوں کو اپنے اختیارات مکمل طور پر استعمال نہ کرنے دیے جائیں۔ صوبے بلدیاتی اداروں کو خود مختاری نہ دیں ۔ہر فرد کی جان و مال کی حفاظت نہ ہو۔ حکمران پارٹیاں اقتصادی ماہرین سے مشاورت نہ کریں ان کی تجاویز پر عمل درآمد نہ ہو رہا ہو۔ صنعت کار جو ہزاروں لوگوں کو روزگار دیتے ہیں ان کی تجاویز کو اہمیت نہ دی جائے۔ تو اقتصادی اہداف کیسے حاصل ہوں گے ۔عوام کو راحت دینے کا جب بھی کوئی وقت آئے تو حکمران یہ کہیں کہ آئی ایم ایف سے پوچھ کر بتائیں گے۔
پاکستان میں ایک طرف تو غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔قرضے جن حقیقی منصوبوں کیلئے حاصل کئےجاتے ہیں تو ان سے روزگار کے مواقع بڑھنے چاہئیں۔ غربت دور ہونی چاہیے۔ صنعتوں کا پھیلاؤ ہو۔ مینوفیکچرنگ ہو رہی ہو ۔برآمدات میں اضافہ ہو۔ لیکن قرضے تو فی الحال گزشتہ قرضوں کا صرف سود ادا کرنے میں صرف ہو جاتے ہیں ۔عالمی ادارے پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے 45فیصد بتاتے ہیں اور پاکستان حکومت کا سروے 28 فیصد کہہ رہا ہے۔ بجٹ پیش کر دیا گیا ہے اعداد و شمار ہمیشہ سچ بولتے ہیں لیکن اب تو بجٹ جمعہ کے جمعہ سامنے آ جاتا ہے ۔پٹرول مہنگائی کی ماں ہےجب اس میں ہی ردوبدل ہوگا تو پوری معیشت میں بھی رد و بدل ہوتا رہے گا ۔ہماری درخواست یہی ہے کہ ریاست کو بندہ پروری کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ اپنی ترجیحات کے تعین میں غربت کے خاتمے کو سر فہرست رکھیں۔ عالمی بینک نے50لاکھ نوجوانوں کے روزگار پر زور دیا تھا اس کا اہتمام کریں۔ پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے جتنے معدنی قدرتی وسائل بخشے ہیں اور محنت سے نہ گھبرانے والے جفا کش کروڑوں پاکستانی ۔ایسے میں اقتصادی اہداف کے حصول کی اگر واقعی کوشش کی جارہی ہوتو ناکامی ہو ہی نہیں سکتی۔