کراچی میں دو روز قبل واٹر پمپ کے قریب کیش وین سے 30 کروڑ کی ڈکیتی کا مقدمہ کمپنی کے سیکیورٹی انچارج کی مدعیت میں تھانا جوہر آباد میں درج کرلیا گیا، واردات میں کیش وین کا چیف کرو واجد علی ملوث نکلا۔
کیش وین سے 30 کروڑ کی ڈکیتی کا مقدمہ سیکیورٹی انچارج غلام مرتضی کی مدعیت میں تھانا جوہر آباد میں درج کرلیا گیا، مدعی مقدمہ کے مطابق جمعے کی صبح طارق روڈ پر واقع دفتر سے اسٹاف 20 تھیلوں میں رقم لیکر نکلا تھا، چیف کرو واجد علی، اکاؤنٹنٹ نیاز علی، ڈرائیور وسیم اور گارڈ اختر حیسن کیش لیکر واٹر پمپ پہنچے تھے، صبح ساڑھے 9 بجے اطلاع ملی کہ وین کے ساتھ واردات پیش آئی ہے۔
مدعی کا مقدمے میں بتانا ہے کہ اپنی پرائیوٹ گاڑی میں موقع پر پہنچا، گاڑد اختر حسین سے واقعے کی تفصیلات لیں، گاڑد اختر نے بتایا کہ ڈرائیور وسیم کو چیف کرو واجد علی نے گاڑی رکوا کر سامان لینے بھیجا تھا۔
واجد علی گاڑی سے اتر کر کسی سے فون پر بات کرنے لگا تھا، چند سیکنڈز بعد ڈبل کیبن سے چار ملزمان نکلے اور تین ملزمان کیش وین میں داخل ہوئے، ملزمان نے اکاؤنٹینٹ نیاز علی اور اختر حیسن کے ہاتھ باندھ کر رقم لوٹی، اس دوران واجد علی نے کیش وین کا پچھلا دروازہ بھی بند کردیا تھا۔
متن کے مطابق ملزمان نے تین منٹ سے کم وقت میں رقم منتقل کی، بعد میں چیف کرو نے گاڑی کا دروازہ لاک کردیا تھا، مشکل سے ہاتھوں کو کھول کر گاڑی کا دروازہ کھولا، باہر دیکھا تو نہ واجد علی تھا نہ دیگر ملزمان موجود تھے۔