گزشتہ دو مضامین میں پاکستان میں اعضا کی پیوندکاری کے بحران، مختلف عالمی ماڈلز، قانونی رکاوٹوں اور ممکنہ اصلاحات کا جائزہ لیا تھا۔ آج اس بحث کو سمیٹتے ہوئے چند ایسے نکات پیش کرنا مقصود ہےجو اس مسئلے کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اعضاء کی پیوندکاری کے بحران سے نمٹنے کیلئےجہاں قانونی اصلاحات، غیر خونی رضاکارانہ عطیات اور پیرڈ کڈنی ایکسچینج جیسے جدید طریقوں کو اپنانا ضروری ہے، وہیں اس مسئلے کا دوسرا اہم پہلو متوفی ڈونیشن (Cadaveric Donation) کا فروغ اور ملکی طبی ڈھانچے کی بحالی ہے۔ دنیا کے بیشتر کامیاب ٹرانسپلانٹ نظام اسی اصول پر استوار ہیں کہ کسی شخص کے انتقال، بالخصوص برین ڈیتھ، کے بعد اسکے اعضاء دوسرے مریضوں کی جان بچانے کیلئے استعمال کئے جائیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں متوفی ڈونیشن کا نظام ابھی تک ابتدائی مراحل سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ اسکی بنیادی وجہ مذہبی، سماجی اور نفسیاتی غلط فہمیاں ہیں جو آج بھی عوامی شعورپر حاوی ہیں۔ قرآنِ کریم کی سورۂ المائدہ کی آیت 32ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘۔ اسلام ایک زندہ اور متحرک دین ہے جس نے ہر دور کے نئے مسائل کے حل کیلئے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ علمائے کرام، طبی ماہرین، فقہی ادارے اور قانون ساز مل بیٹھ کر اجتہاد کے ذریعے ایسا اتفاقِ رائے پیدا کریں جو ایک طرف اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو اور دوسری طرف ہزاروں مریضوں کیلئے زندگی کی امید بن سکے۔ اگر کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے اعضاء کئی انسانوں کی جان بچا سکتے ہوں تو اسے محض ایک طبی عمل نہیں بلکہ ایثار، انسان دوستی اور صدقۂ جاریہ کے عظیم عمل کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ اگر جمعہ کے خطبات، دینی مجالس اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جائے تو معاشرے میں موجود خدشات اور غلط فہمیاں بڑی حد تک دور کی جا سکتی ہیں۔ ترکی سمیت متعدد مسلم ممالک نے مذہبی قیادت اور طبی اداروں کے درمیان اعتماد پیدا کر کے اسی راستے پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً سولہ لاکھ افراد وفات پاتے ہیں۔ ان اموات میں اندازاً نو ہزار سے تیئس ہزار تک ایسے ممکنہ ڈونرز موجود ہوتے ہیں جن کے اعضاء دوسرے انسانوں کی جان بچانے کیلئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک متوفی ڈونر آٹھ افراد تک کی جان بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان میں ہر سال دسیوں ہزار پیوندکاریاں ممکن ہیں، لیکن متوفی اعضاء کے عطیات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ صرف گردوں کی پیوندکاری کے منتظر مریضوں کی تعداد پچیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسپین نے ’’آپٹ آؤٹ‘‘ نظام اور مضبوط طبی ڈھانچے کے ذریعے دنیا میں اعضاء کے عطیات کی سب سے بلند شرح حاصل کی ہے۔ اگر پاکستان بھی اسی نوعیت کا مؤثر نظام قائم کر لے تو انتظار کی موجودہ فہرستوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح گزشتہ چند برسوں میں متعدد تدریسی اسپتالوں میں ٹرانسپلانٹ پروگراموں کے محدود یا معطل ہونے کے باعث مریضوں کا بڑا بوجھ چند مخصوص اداروں پر منتقل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ نئے نیفرولوجسٹ، یورولوجسٹ اور ٹرانسپلانٹ سرجنوں کی عملی تربیت کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔ اگر پیوندکاری کا عمل صرف چند بڑے اداروں تک محدود رہیگا تو مستقبل میں اس شعبے کے ماہرین کہاں سے پیدا ہونگے؟پنجاب کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (PKLI)، آغا خان یونیورسٹی اسپتال اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (SIUT) جیسے ادارے ہمارے طبی نظام کے اہم ستون ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چھبیس کروڑ کی آبادی کیلئے کیا اس نوعیت کے چند ادارے کافی ہیں؟ یقیناً نہیں۔ لہٰذا ہر صوبے اور بڑے ڈویژنل ہیڈکوارٹر کی سطح پر ایسے مزید خود مختار ادارے قائم کیے جائیں یا پھر انہی کامیاب اداروں کے ماڈل کو ملک کے دیگر تدریسی اسپتالوں تک توسیع دی جائے۔ اس سے نہ صرف مریضوں کو سہولت ملے گی بلکہ ٹرانسپلانٹ میڈیسن سے وابستہ نوجوان ڈاکٹروں اور طبی عملے کی نئی نسل بھی تیار ہو سکے گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم وقتی انتظامات کے بجائے ایک جامع قومی ٹرانسپلانٹ پالیسی تشکیل دیں۔ پاکستان کیلئے بہترین راستہ کسی ایک ملک کی اندھی تقلید نہیں بلکہ ایک متوازن ’’پاکستانی ماڈل‘‘ ہے، جس میں متوفی ڈونیشن کو اولین ترجیح دی جائے، زندہ رشتہ داروں کے عطیات کی حوصلہ افزائی ہو، پیرڈ کڈنی ایکسچینج کو قانونی تحفظ حاصل ہو، زندہ اور متوفی ڈونرز کی مرکزی قومی رجسٹری قائم کی جائے اور ہوٹا (HOTA) کو ایک سخت ریگولیٹر کیساتھ ساتھ ایک فعال سہولت کار کے طور پر مضبوط بنایا جائے۔ پیرڈ کڈنی ایکسچینج ایک ایسا نظام ہے جس میں ناموافق ڈونر رکھنے والے مریض باہمی تبادلے کے ذریعے موزوں گردہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس طریقے سے بہتر میچنگ ممکن ہوتی ہے اور انتظار کی فہرست میں نمایاں کمی آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ ڈونرز کی کمی نہیں بلکہ مناسب قانون سازی، مؤثرانتظامی ڈھانچے، عوامی آگاہی اور طبی سہولیات کی کمی ہے۔ ہم ہر سال ایسے ہزاروں اعضاء دفن کر دیتے ہیں جو کئی انسانوں کو نئی زندگی دے سکتے ہیں۔