آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
زمانہ ء جاہلیت کے قبائلی نظام میں یہ منقولہ زبانِ زدِ عام تھا کہ نفرت زندہ رہنے کا جواز بخشتی ہے(Hatared gives a reason to live) یہی وجہ ہے کہ قبیلے کے نوجوانوں کو نفرت اور انتقام کے جذبے کے تحت پروان چڑھایا جاتا تھا۔ اور ان کے بزرگ انہیں ان کے دشمنوں کے نام ازبر کرانے اور ان میں جوشِ انتقام ابھارنے کے لئے خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ اسی سبب سے ان معاشروں میں دشمنی اور انتقام کا سلسلہ نسل درنسل چلتا تھا۔ جس میں نہ صرف کئی قیمتی جانیںضائع ہوتی تھیں بلکہ معاشرے میں عدم برداشت چڑچڑا پن اور بات بات پر قتل و غارت کا رواج عام ہوتا تھا۔انسانوں کے اس منفی طرزِ فکر و عمل نے صدیوں تک انسانی معاشروں کو امن اور خوشحالی سے محروم رکھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہذب معاشروں نے انسانی فطرت کے اس منفی جذبے کے خلاف جد وجہد کی اور نفرت و انتقام کی بجائے محبت، عفو و درگزر اور تحمل و برداشت کو اپنایا اور اپنی نئی نسل کو دشمنوں کی بجائے ، دوستوں کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ کیونکہ دشمنی انسان کو مایوس اور کمزور کرتی ہے جبکہ دوستی اسے امیدِ نو اور طاقت عطا کرتی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک ہمیں ہمارے دوستوں کی بجائے صرف دشمنوں کے بارے میں ہی بتایا جاتا ہے جس سے یوں لگتا ہے کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے اور اس بھرے جہاں

میں ہمارا دوست کوئی بھی نہیں۔ ہمارے دشمنوں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے۔ہمارے ہمسایہ ممالک میں بھی اکثریت ہمارے دشمنوں کی ہے ، دنیا کی تمام بڑی طاقتیں ہماری دشمن ہیں۔ اور تو اور ہمیں اپنے ملک کے تمام ادارے بھی ملک دشمن لگتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں سیاستدان اور سیاستدانوں کی نظر میں اسٹیبلشمنٹ مشکوک ہے ۔ یہاں تک کہ اختلافِ رائے کو سب سے بڑی ملک دشمنی قرار دے دیا گیا ہے ۔ اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تو نا قابلِ معافی دشمنی کا مظہر ہے قومی سطح پر ان منفی رویّوں نے ہمیں بحیثیت قوم سب سے بڑا نقصان یہ پہنچایا ہے کہ ہم خود کو اکیلے ، بے بس اور کمزور سمجھنے لگے ہیں۔ ہر معاملے میں کنفیوژن اورسازشی تھیوری نے ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں نا امیدی اور بے یقینی کے بھنور میں دھکیل دیا ہے اور ردّ عمل کے طور پر ہمارے مزاجوں میں غصّہ اور چڑ چڑا پن پیدا کر دیا ہے جس کا مظاہرہ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں ملتا ہے۔ سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک ، دوسروں کو راستہ نہ دینا، بات بات پر لڑنے مرنے کیلئے تیار رہنا، دلیل کی بجائے طاقت کا استعمال ، چہروں پر مسکراہٹ کی بجائے ہر وقت تنائو کی کیفیت یہ وہ علامتیں ہیں جو کسی بھی معاشرے کی اخلاقی زبوں حالی کو ظاہر کرتی ہیں۔
یہ حقیقت مسلّمہ ہے کہ ایک انسان سب سے پیار تو کرسکتا ہے لیکن سب سے جنگ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ وہ جنگ ہے جس میں شکست پہلے سے طے ہوتی ہے جو لوگ قوم کے نوجوانوں کے دلوں میں دوسروں کے لئے محبت کی بجائے نفرت اور انتقام کے جذبات ابھارتے ہیں وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اس طریقے سے وہ قوم کی خدمت نہیں ا کرتے ہیں، نفرت اور انتقام ایک آگ ہے اور آگ کسی کو جلانے میں اپنے اور پرائے کی تمیز نہیں کر تی ۔جو آگ ہم دوسروں کے لئے جلاتے ہیں اس میں ہمیں خود بھی جلنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نفرت ، دشمنی اور انتقام کی آگ جو ہم نے دوسروں کے لئے جلائی تھی اس میں ہمارا اپنا معاشرہ جل کر راکھ ہوتا جا رہا ہے ۔
اگر واقعی ہمارے صرف دشمن ہی دشمن ہیں تو یہ لمحہ ء فکریہ ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ ہم کیوں اپنے دوستوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کر سکے؟ کیا اس میں ہماری کوئی اپنی خامی تو نہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے فکرو عمل اور رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی دوستیوں اور دشمنیوں کا از سرِ نو تعیّن کرنا ہوگا۔ سچ تو ہے کہ انسان اس وقت اپنا سب سے بڑا دشمن خو د بن جا تا ہے جب وہ اپنی زندگی میں صحیح اور غلط کی حقیقی ترجیحات واضح نہیں کر سکتا۔ اس سلسلے میں ہمارا زاویۂ فکر بھی بڑی حدتک اثر انداز ہوتا ہے مثلاََ دنیا میں دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلق کے بارے میں دو عالمگیر نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ ہر انسان کو اچھا سمجھا جائے جب تک وہ اپنے آپ کو بُرا ثابت نہ کردے جبکہ دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ ہر انسان بُرا ہے جب تک وہ اپنے آپ کو اچھا ثابت نہ کردے ۔ پہلے نظرئیے کے حامل افراد زندگی میں مثبت نقطہ نظر کے حامل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے نظریے والے افراد منفی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔ مثبت نظرئیے کے حامل افراد رجائیت پسند، پر امیداور پر عزم ہوتے ہیں جب وہ دوسرے لوگوں کو اچھا سمجھتے ہوئے ان سے تعلق بناتے ہیں تو وہ خوشی کے جذبات میں سرشار ہوتے ہیں اور انکے اس مثبت طرزِ عمل سے بعض اوقات ان کے دشمن بھی ان کے دوست بن جاتے ہیں ۔ جبکہ دوسری قسم کے لوگ قنوطیت پسند، پژمردہ ، پریشان اور وسوسوں سے بھرے رہتے ہیں۔ وہ کسی پر اعتماد نہیں کرتے ، شک و شبہ اور ریاست ان کی شخصیت کا خاصہ بن جاتا ہے۔وہ دوسروں کی خوبیوں کی بجائے صرف خامیوں کو سامنے رکھتے ہیں ایسے منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کے دوست بھی بالآخر ان کے دشمن کا روپ دھار لیتے ہیں۔
ہمیں انفرادی اور قومی سطح پر اپنے کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ہمیں بغیر سوچے سمجھے دوسروں کو دشمن قرار دینے کے خوفناک نتائج کو نظر میں رکھنا چاہئے۔ اگر ہم دوسروں کے بارے میں مثبت روئیے اپنانا شروع کردیں اور انہیں اپنا دوست سمجھنے لگیں تو ہمارے پچاس فیصد دشمن ویسے ہی ختم ہو جائیں گے ۔ جن افراد یا اقوام کے ساتھ ہمارے حقیقی مسائل موجود ہیں ۔ انہیں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل کرنے سے ہمارے دوستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یاد رکھیے ہم جنھیں پسند نہیں کرتے انہیں بھی اسی دنیا میں زندہ رہنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ پھر ہمارے ایسے روئیے کہ ہم اپنے نا پسندیدہ لوگوں یا اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں ۔ غیر فطری اور غیر حقیقی روئیے ہیںجو خود ہماری بقاء کے لئے خطرہ ہیں۔ ہمیں اپنی ریاست کو سیکورٹی ریاست یا دشمنوں میں گھِری ہوئی ریاست بنانے کی بجائے دوستانہ جذبات سے بھری ہوئی ریاست بنانا چاہئے تاکہ ہمارے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہو کیونکہ وہ قومیں یا افراد ہی حقیقی معنوں میں مستحکم ، پر سکون اور خوشحال ہوتے ہیں جو دوستوں میں گھِرے ہوتے ہیں۔