• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سری لنکا کے مسلمانوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ سری لنکا میں 10سے 12فیصد مسلمان ہیں، 70فیصد بدھسٹ ہیں اور 8 فیصد دیگر قومیں اور مذاہب کے پیرو کار ہیں۔ ملک کا سرکاری مذہب بدھ مت ہے۔ بدھ مت کی سری لنکن شناخت اور ثقافت میں گہری جڑیں ہیں۔ پاکستان کی طرح سری لنکا نے بھی تاجِ برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔ اس وقت سری لنکا کی کل آبادی دو کروڑ کے قریب ہے۔ کولمبو دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ نورالئی اور کینڈی خوبصورت ترین شہر شمار ہوتے ہیں۔ ان دو شہروں میں پوری دنیا سے سیاح آتے ہیں۔ اس وقت سری لنکا بھی بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ سری لنکن روپیہ پاکستانی کرنسی کے تقریباً برابر ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ اور پاکستانیوں کو سری لنکا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ترکوں کے بعد سری لنکن پاکستانیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

آج سے چالیس پچاس سال پہلے سری لنکا میں دینی مدارس، علمائے کرام اور حفاظِ قرآن نہ ہونے کے برابر تھے۔ 80 کی دہائی میں سری لنکا کے چند طلباء پاکستان میں دینی علوم و فنون اور قرآن پاک حفظ کرنے کی غرض سے آئے۔ انہوں نے جامعہ دارالعلوم حسینیہ شہداد پور سندھ اور کراچی کے جامعہ بنوریہ میں پڑھا۔ پھر واپس جا کر اپنے ہاں اسلامک سینٹر، مساجد اور دینی مدارس قائم کیے۔ اس وقت سری لنکا میں جامعہ دار العلوم حسینیہ شہداد پور سے قرآن پاک حفظ کرنے والے حفاظ کرام کی تعداد 300 سے زائد ہے۔ ما شاء اللہ ہر فاضل اور ہر حافظ نے اپنا دینی ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ ہر دینی مدرسے میں تقریباً ایک سو سے ایک ہزار تک طلباء و طالبات دینی و عصری علوم و فتون حاصل کرتے ہیں۔ سری لنکا کے مدارس میں دینی و عصری دونوں تعلیموں کا اہتمام ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سری لنکا کے اسلامک سینٹر، دینی مدارس اور تعلیمی ادارے بہت ہی شاندار عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ صاف ستھرا نورانی ماحول ہے۔ بچوں کی بہترین عمدہ تربیت کا انتظام ہے۔

سری لنکا کے مسلمان، علمائے کرام اور دینی مذہبی طبقہ بہت خوشحال اور مالدار ہے۔ یہاں کے مسلمان تجارت کرتے ہیں ۔ علمائے کرام، قراء حضرات بھی درس و تدریس کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی کاروبار بھی کرتے ہیں۔ اور تجارت میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت رکھی ہے۔ مانگنے اور چندہ کرنے کا رواج نہیں ہے۔ دینی مدارس کے طلباء بھی باقاعدہ فیس دیتے ہیں ۔ یوں مدارس کی بلڈ نگیں شاندار، ماحول صاف ستھرا، بچے اور استاذ خوشحال ہیں۔

پورے ملک میں نظم وضبط اور ڈسپلن کمال کا ہے۔ قانون کی عملداری ہے۔ ہر شخص ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ایک دوسرے کا احترام اور مذہبی رواداری ہے۔ فرقہ واریت کا نام ونشان نہیں ہے۔ تمام طبقات ، قومیں اور مکاتب سیاست میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ جمعیت علماء سری لنکا کا نیٹ ورک مضبوط ہے اور وہ سرکاری طور پر مسلمانوں کے مسائل حل کروانے میں کامیاب ہیں۔ ہر مذہب کا پیروکار اپنے عبادت خانے میں ہی مذہبی رسومات ادا کرتا ہے۔ پورے شہر میں ڈھنڈورا پیٹنے پر مکمل پابندی ہے۔ شہروں، دیہاتوں اور گلی محلے میں کہیں بھی لوگ شور شرابہ اور ہلڑ باری نہیں کرتے۔

مقامی مصنوعات کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ سری لنکن محبِ وطن قوم ہے۔ اپنے وطن کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا۔ اپنے ہی ملک کو برا بھلا کہنے کی عادت نہیں ہے۔ سری لنکا کی حکومت بھی عوام کو سہولیات پہنچانے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے میں رات دن لگی ہوئی نظر آتی ہے۔ سب سے بڑی بات امن و امان ہے۔ ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے۔ اور جہاں امن و سلامتی ہوتی ہے، وہاں معیشت کا پہیہ چلتا ہے، وزیٹر آتا ہے، دنیا بھر کے تاجر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس وقت سیر و سیاحت ایک مکمل انڈسٹری کا روپ دھار چکی ہے۔ کئی ممالک کی معیشتیں ’’سیاحت انڈسٹری‘‘ پر کھڑی ہیں۔ اوسلو، استنبول، میورخ، دبئی اور دیگر بیسیوں شہروں میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ سری لنکا کے علاقے ’’نورالئی‘‘ اور ’’کینڈی ‘‘ سیاحت کے لیے مشہور اور مقبول ہیں۔ ہم نے بھی دو دن یہاں گزارے۔ سارے غم دور ہو گئے۔ یوں لگا جیسے کسی جنت میں رہ رہے ہوں۔ ہم پاکستانی سری لنکا سے یہ چیزیں تو آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ نمبر ایک: نظم وضبط اور ڈسپلن۔ نمبر دو: صفائی ستھرائی۔ نمبر تین: ہر شخص ذمہ دار شہری بنے۔ نمبر چار: اپنے وطن سے بے پناہ محنت کرے۔ اپنے وطن کی برائیاں بیان کرنے کے بجائے اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالے۔

پاکستان کے دینی مدارس کے حل و عقد کو سری لنکا کے مدارس اور اسلامک سینٹر کا لازمی وزٹ کرنا چاہیے۔ ہم نے مجموعی طورپر سری لنکا میں 9 مصروف دن گزارے۔ اسلامک سینٹر،دینی مدراس و مساجد اور جامعات میں منعقد ہونے والی ایک درجن سے زائد تقریبوں میں شرکت کی ۔ ہم وفد کی صورت میں سری لنکا گئے تھے۔ وفد میں لاہور کی مشہور روحانی شخصیت شیخ الحدیث مفتی محمد حسن صاحب، جامعہ دارالعلوم حسینہ شہداد پور کے سربراہ مولانا قاری عبد الرشيد صاحب، مولانا قاری شقیق صاحب، قاری عبد الغفار صاحب، مولانا اسامہ صاحب اور کراچی سے بندہ ناچیز شامل تھا۔ وزٹ کے بعد پورے وفد کا اتفاق تھا کہ معاشرتی رویوں، سماحی اقدار، اخلاقیات اور معاشی لحاظ سے سری لنکا کا مذہبی طبقہ ہم سے کافی آگے نکل چکا ہے۔ حکمت و دانائی کی بات مومن کی گم شدہ متاع ہے، جہاں سے بھی ملے، اسے فوراً اپنا لینا چاہیے۔ مزید کام کی باتیں اگلی کسی نشست میں سہی!

تازہ ترین