• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویسے تو کسی بھی جمہوری ملک میں آئین ہی اصل میثاق ہوتا ہے اور اسکی موجودگی میں کسی دوسرے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہئے مگر ہماری بدقسمتی رہی کی ہم نے جو حشر1973کے متفقہ آئین کا ان 50برسوں میں کیا اور ابھی مزید اسکو جمہوری سے ہائبرڈ کرنے کے درپے ہیں اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی ’میثاق جمہوریت‘ کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت بادی النظر میں سنجیدہ نہیں لگتی۔ تاہم اس دعوت کا خیر مقدم کرنا چاہیے مگر اس کیلئے خود انکو اور ان کے اتحادیوں کو دل کشادہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہرحال ایسا کوئی معاہدہ، میثاق ملک کی سب سے بڑی جماعت کے بانی سے بات کیے بغیر ممکن نہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی اپنے رویے میں لچک لانی ہوگی۔

پاکستان کا نام آج دنیا میں ایک بہترین ثالث کے طور پر لیا جارہا ہے خاص طور پر دو ایسے ممالک کے درمیان جنگ بندی کروانا اور پھر ’امن معاہدہ‘ کی جانب تاریخی قدم۔ تو اگر ہم دو ملکوں میں معاہدہ کروا سکتے ہیں تو اپنے ہی لوگوں کے درمیان کوئی ’میثاق‘ کیوں نہیں کرسکتے۔ وزیراعظم ابتدا کریں اور مذاکرات کا آغاز کریں اور اگر اپوزیشن اپنے رہنما سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنا چاہتی ہے تو اس کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو تو حکومت پہل کرے۔ ان اقدامات سے حکومتیں کمزور نہیں مضبوط ہوتی ہیں۔ ہماری ’قومی سیاست‘ بڑی تیزی سے کمزور ہوتی جارہی ہے جسکی اپنی ایک تاریخ ہے کہ کس طرح قومی سیاسی جماعتوں کو صوبوں تک محدود کردیا گیا خود مسلم لیگ اور پی پی پی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اس طرح اب پی ٹی آئی کےساتھ بھی وہی روش اختیار کی جا رہی ہے۔ بائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگی تو وہ دوبارہ قومی سیاسی جماعت نہ بن سکی اور اس میں شامل بلوچ، پشتون سیاستدان قومی سیاست سے دور ہوتے چلے گئے۔ آج عوامی نیشنل پارٹی پشتونوں کی جماعت بن کر رہ گئی ہے جبکہ بلوچ سیاستدانوں نے جو جماعتیں تشکیل دیں ان پر بھی قومی سے زیادہ صوبائی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔

اب اگر مسلم لیگ (ن) پنجاب، پی پی پی کو سندھ، پی ٹی آئی کو کے پی اور بلوچستان کو قوم پرستی کی سیاست کی طرف دھکیل دیا جائے گا تو اس سے بڑا سیاسی بحران اور کیا ہوگا اور اگر ہم اس بحران کو نہیں دیکھ پا رہےتو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو گی۔ اس لیے کسی ’میثاق جمہوریت‘ سے پہلے ہمیں ’میثاق سیاست‘ کی جانب بڑھنا ہو گا۔

آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور بلوچستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور یہ ایک قومی سیاسی سوچ کے متقاضی ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے الگ معاملات ہیں مگر دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ تاریخ نے بہرحال ثابت کیا ہے کہ ’پابندیاں‘ مسائل میں اضافہ ہی کرتی ہیں حل نہیں دیتیں۔

سندھ اور پنجاب کے معاملات مختلف نوعیت کے ہیں مگر ایک بات بہت واضح ہے کہ ہمارے ملک میں الیکشن شفاف نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر مسائل کھڑے ہوتے ہیں اور الیکشن میں دھاندلی اور نتائج بدلنے، اقتدار منتخب نمائندوں کو نہ دینے کی بھی پوری تاریخ ہے اور آج بھی ہمیں دراصل اسی بحران نے گھیرا ہوا ہے۔ لہٰذا اگر ہمیں قومی سیاست کی طرف واپس آنا ہے تو کچھ بنیادی سیاسی اصولوں کو تسلیم کرنا پڑے گا جس کیلئے نہ صرف ایک ’میثاق‘ کی ضرورت ہے بلکہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے نتائج کو تسلیم کرنے کی ہمت بھی پیدا کرنی ہو گی۔

پاکستان میں پچھلے 50برسوں میں تین تاریخی دستاویزات پر دستخط ہوئے جو ملک کو قومی سیاست کی طرف لے جانےمیں مددگار کل بھی تھےاور آج بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ (1) 1973کا آئین ۔ (2) میثاق جمہوریت 2006ء اور (3) 18ویں آئینی ترمیم۔ ان میں کم از کم 1973 کا آئین اور 18ویں ترمیم ایسی دستاویزات ہیں جو ملک کی تمام منتخب سیاسی جماعتوں کے دستخط سے سامنے آئیں اور اگر انہیں متنازع بنا دیا جائےتو ظاہر ہے ’قومی سیاسی بحران‘ تو پیدا ہو گا۔ویسے تو کسی بھی جمہوری ملک میں ’آئین‘ کی موجودگی میں کسی دوسرے میثاق کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ آئین سے بڑا میثاق جمہوریت ہو نہیں سکتا۔ لہٰذا اگر ہم صرف 1973کے آئین کو ہی مان لیں صرف زبانی نہیں عملی طور پر تو بہت سے بحرانوں سے ہم باہر آ سکتے ہیں۔ مگر کسی آمر کی طرح بعض سیاسی لوگ بھی اس کو صرف ’کاغذ‘ کے چند ٹکڑے سمجھیںگے،اعلیٰ عدلیہ ہر غیر آئینی حکومت کوغیر آئینی تحفظ دیتی رہے گی تو پھر ایسے آئین کی روح ہی باقی نہیں رہے گی، 1973ءکے آئین کیساتھ یہی ہوا ہے۔2006کا میثاق جمہوریت اسلئے بھی ضروری تھا کہ نہ صرف ایک آمر نے آئین کو معطل کیا بلکہ اعلیٰ عدلیہ نے اُسے آئین میں ترمیم کا بھی اختیار دیدیا اور یوں اُسکو وہ طاقت دیدی گئی کہ اُس نے 2002ءمیں دونوں بڑی جماعتوں یعنی مسلم لیگ اور پی پی پی کے رہنما نواز شریف اور بے نظیر بھٹو شہید کو انتخابی سیاست سے باہر کر دیا اس وقت ان دونوں رہنمائوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ وقت کی مقتدرہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے ایک دوسرے کیخلاف۔

بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد میثاق جمہوریت کی ابتدا تو اچھی ہوئی جب مسلم لیگ اور پی پی پی نے اتحادی حکومت بنائی مگر یہ ’ہنی مون‘ جلد ہی ختم ہو گیا تاہم اسکے نتیجے میں پہلی بار اقتدار کی منتقلی پُرامن انداز میں پانچ سال بعد ہوئی۔ تاہم آئین کو مضبوط کرنے کے بجائے ہم نے کمزور کردیا ورنہ اگر میثاق جمہوریت کو آئینی تحفظ دیدیا جاتا تو آج میثاق کرنیوالی جماعتیں ہائبرڈ نظام کا حصہ نہ ہوتیں۔

جو کل نواز شریف اور بینظیر کیساتھ ہوا وہی آج عمران کیساتھ ہو رہا ہے تو کیا اس پر جشن منایا جائے یا تاریخ سے سبق سیکھا جائے۔ اگر 1985ءمیں نواز شریف کو پی پی پی کوختم کرنےکیلئے اور 2018ءمیں عمران خان کو مسلم لیگ اور پی پی پی کو ختم کرنے کیلئے لایا گیا تو نقصان تو سیاست کا ہوا۔ استعمال تو سب ایک دوسرے کیخلاف ہوئے اور یوں سیاست ’قومی‘ سے صوبائی ہوگئی۔

آج اگر ملک کو ’قومی سیاسی‘ بحران سے نکالنا ہے تو ان تینوں بڑی سیاسی حقیقتوں کو ایک میز پر آنا پڑے گا۔ اب مشکل یہ ہے کہ مینڈیٹ عمران کے پاس ہے، حکومت شہباز کے پاس۔ نئے ’میثاق جمہوریت‘ کی ابتدا نئے انتخابات سے کیوں نا ہو۔

تازہ ترین