• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ المیے سے کم نہیں ۔ جب عوامی ایکشن کمیٹی اور سیکورٹی فورسز ، جن کا خون ایک ہے، ایک دوسرے کیخلاف مورچہ زن ہوں تو اسے المیہ ہی کہا جائیگا۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ایشو (مہاجرین کی سیٹیں) کوئی اتنا بڑا ایشو ہی نہیں۔ یہ نہ ہوں تو کوئی قیامت نہیں آئے گی اور ہوں تو بھی کوئی قیامت نہیں آئے گی۔فریقین میں کسی کو احساس نہیں کہ ان کے ایک دوسرے کیخلاف مورچہ زن ہونے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جان قربان کرنے والوں کی روحیں تڑپ رہی ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کا رویہ یوں سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ لچک سے یکسر عاری ہے اور ہٹ دھرمی کا عنصر زیادہ نظر آتا ہے ۔ کمیٹی کے بیشتر مطالبات (مثلا آٹا باقی ملک کی نسبت آدھی قیمت پر مل رہا ہے ) اور بجلی کے ریٹ (باقی ملک کی نسبت انتہائی کم یعنی تین روپے فی یونٹ) منظور ہوچکے ہیں ۔ صرف مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے کا ایشو باقی رہتا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آخر اس میں کیا قباحت ہے کہ کشمیر اور پاکستان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے والوں کو اگر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں نمائندگی ملے۔ یہ بات درست ہے کہ ان سیٹیوں پر دھاندلی کی شکایت رہتی ہے اور عموماََ وفاقی حکومت انہیں اپنے حق میں استعمال کرتی ہے تو اس بری روش کے خاتمے کی کوشش ہونی چاہیے ، نہ کہ اس اچھی چیز کو ختم کردیا جائے لیکن اگر کشمیریوں کی اکثریت ان سیٹوں کا خاتمہ چاہتی ہے تو مجھے یا کسی اور کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ اسے حق و باطل کی جنگ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اور یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ ان کے خاتمے سے قیامت آجائے گی۔ تاہم ان کے خاتمے کا طریقہ لشکر کشی نہیں ۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ آنے والے انتخابات میں حصہ لیں اور اگر انہوں نے اکثریت حاصل کرلی تو آئین میں تبدیلی کرکےبغیر کسی کا خون بہائے ان کو ختم کردیں۔میں عوامی ایکشن کمیٹی کے وابستگان کو غدار سمجھتا ہوں اور نہ انڈین ایجنٹ۔ یقیناََ وہ پاکستان سے محبت کرنے والے کشمیری ہیں لیکن انہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وجہ جو بھی ہو ، ان کے احتجاج کو سرحد کے اس پار،کشمیر میں پاکستان کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کو یہ غلط پیغام جارہا ہے کہ کل پاکستان کے ساتھ الحاق کروگے تو اس صورتحال سے دوچار ہوگے ۔یہ خطہ پہلے سے عالمی اور علاقائی سازشوں کی زد میں ہے ۔ وہ سازشیں نہ پاکستان کے حق میں ہیں اور نہ کشمیریوں کے حق میں لیکن اس طرح کے تصادم کی صورتحال میں ان سازشوں کو کامیابی کا راستہ ملے گا ۔ پھر سب ہاتھ ملتے رہ جائیںگے لیکن موقع ہاتھ سے نکل چکا ہوگا ۔

عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق حکومت کی پالیسی بھی سمجھ میں نہیں آرہی ۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ وہ نوبت کیوں آنے دی گئی کہ یہ لوگ سڑکوں پر آگئے۔ حکومت کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کا ماحول ہی پیدا نہ ہونے دے کہ جس میں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں ۔سوال یہ ہے کہ اس کمیٹی کی تشکیل اور احتجاج سے قبل حکومت نے ان کےمطالبات کو کیوں منظور نہیں کیا ۔ پہلے لانگ مارچ کے بعد جب حکومتی ٹیم جس میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے رہنما شامل تھے ، کے جب ان کے ساتھ مذاکرات ہوئے تو 38 میں سے پینتیس مطالبات کو اسی وقت منظور کرلیا جس میں بجلی کی قیمت ، آٹے کی قیمت ، دو ایجوکیشن بورڈز کا قیام ، کابینہ کاسائز کم کرنا اور اسی نوع کے دیگر مطالبات شامل تھے ۔ بلکہ انہوں نے نوروپے فی یونٹ بجلی مانگی تھی جبکہ کمیٹی کی طرف سے انہیں تین روپے فی یونٹ بجلی دی گئی۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعد حکمران معاملے کو بھول گئے ۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ نوماہ کے دوران ان سے باقی مطالبات پر بات کیوں نہیں کی گئی۔ حکومت کو یہ معاملہ تب یاد آیا کہ جب ایکشن کمیٹی نے دوبارہ احتجاج کی کال دے دی۔ پہلے ان کے ساتھ مذاکرات کئے اور جب وہ نہ مانے تو دوسری انتہا پر جاکران کی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا ۔

حکومت اور ایکشن کمیٹی دونوں سے درخواست ہے کہ وہ واپس لوٹ آئیں۔ جو راستہ انہوں نے اپنایا ہوا ہے وہ خیر کا نہیں ۔پہلے ہی دن راولاکوٹ میں چار سیکورٹی فورسز اور تین مظاہرین جاں بحق ہوئے۔ پولیس کے جس فرد کی لاش کی بے حرمتی کی گئی وہ بھی کشمیری ہے اور جنہوں نے بے حرمتی کی وہ بھی کشمیری ہیں ۔ حکومت کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ آپریشن کرکے وہ مسئلے کو دبا تو دے گی لیکن مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مزید مسئلے پیدا ہونگے ۔ اسی طرح سرحد پار بیٹھے دشمن کو اس صورتحال کو ایکسپلائٹ کرنے کا بھرپور موقع ملے گا اور یہ کسی صورت کشمیر کاز کی خدمت نہیں۔اسلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ عوامی ایکشن کمیٹی پر سے پابندی اٹھا کر اسکے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی کوشش کرے اور وفاقی وزرا کی بجائے کشمیری زعما کا جرگہ بنا دیا جائےیا پھر دونوں کا مشترکہ جرگہ بنا دیا جائے ۔عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی ایک بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ جو انکے مطالبات ہیں اب وہ انہیں زور زبردستی سے منوا نہیں سکتے ۔ اس بار ریاست نے بھی انکے مقابلے کی تیاری کررکھی ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو خدانخواستہ مزید لاشیں گریں گی ، گرفتاریاں ہوں گی اور مقدمات قائم ہونگے ۔ یہ سلسلہ چند روز میں ختم ہوجائیگا لیکن پھر جاں بحق ہونیوالوں کے ورثا ان سے پوچھیں گے کہ کیا انکے عزیزوں کو بارہ سیٹوں کیلئے قربان کر دیا گیا۔ اسی طرح جب لانگ مارچ کا غبار بیٹھ جائیگا تو پھر اس تحریک کے سرغنہ برسوں تک مقدمات کا سامنا کرینگے۔ اسلئے ایکشن کمیٹی کو بھی چاہئے کہ لانگ مارچ پر اصرار اور زبردستی چھوڑ کر مذاکرات کی طرف آئے اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔ریاست کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو دشمن نہ بنائے بلکہ ماں بن کر احتجاج کرنیوالوں کو ڈیل کرے۔

تازہ ترین