ایران کی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ امیر غلینوئی نے میچ کے فوراً بعد امریکا چھوڑنے کی ہدایت پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
امیر غلینوئی نے کہا ہے کہ ہماری ٹیم کو صوفی اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے اختتام کے فوراً بعد لاس اینجلس چھوڑنے کی ہدایت کر دی گئی، میچ کے بعد تھوڑی دیر آرام کرنا بہت ضروری ہے، لیکن ہم سے کہا گیا ہے کہ فوراً ہوائی جہاز میں سوار ہو جائیں اور تیخوانا میں اپنے کیمپ میں واپس جائیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ہمیں فوراً واپس جانے کو کیوں کہہ رہے ہیں، لیکن یہ بہت عجیب بات ہے، ہماری ٹیم شاید ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ مظلوم ہے۔
ایران کی ٹیم کے کپتان مہدی تریمی کا کہنا ہے کہ ٹیم کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے، تیخوانا سے لاس اینجلس کا مختصر سفر بھی امیگریشن مسائل کے باعث 5 گھنٹے طویل ہو گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ ایران کی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج، کوچنگ سپورٹ اسٹاف اور میڈیا کے دونوں افسران کو ٹورنامنٹ سے قبل امریکی ویزے دینے سے انکار کر دیا گیا۔
مہدی تریمی نے کہا کہ یہاں ہمارے لیے ہر چیز مشکل ہے، فیفا کو ہماری مزید مدد کرنی ہو گی۔
واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی امیگریشن کے مسائل سے بچنے کے لیے ٹورنامنٹ سے پہلے اپنا تربیتی کیمپ میکسیکو کے شہر تیخوانا میں منتقل کر دیا تھا۔