• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی میزبانی میں ایران، امریکا معاہدہ اس وقت عالمی میڈیا میں چھایا ہوا ہے ایک طرف یہ کہتے ہوئے اس کی تحسین کی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے پوری دنیا سکھ کا سانس لے گی تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گرنےسے مہنگائی کم ہو جائیگی دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں جتنی تیزی سے اوپر گئی ہیں اس سے عالمی سطح پر کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی۔امریکی صدرٹرمپ تو یہ کہتے ہوئےآپے سے باہر ہو رہے ہیں کہ میں نے 1979ءکے بعد وہ کام کر دکھایا ہے جو کوئی بھی امریکی صدر نہیں کر سکا۔ جب اس کارنامے کی تفصیل پوچھی جاتی ہے تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ میں نے اسٹریٹ آف ہرمز پر ایرانی قبضہ چھڑوا کر اسے اوپن کروایا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ تو اٹھائیس فروری سے قبل ہی اوپن تھی تو پھر آپ نے کیا اچیو کیا؟

ٹرمپ کا جواب آتا ہے کہ میں نے ایرانیوں سے یورینیم انرچمنٹ رکوا دی ہے ایران اب ایٹم بم نہیں بنا سکے گا۔ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو اسرائیل اسکے سامنے دو گھنٹے بھی نہ ٹھہر سکتا۔ پورے امریکا میں بحث چل رہی ہے کہ یورینیم انرچمنٹ کو مخصوص حد تک روک دینے کا معاہدہ تو 2015ءمیں صدر باراک اوباما نے ایک فائر کیے بغیر ایران سے کر لیا تھا جسے آپ نے 2018 ءمیں صدر بنتے ہی توڑ ڈالا اور آپ کی اسی حماقت کے باعث ایران ایٹم بم بنانے سے زیادہ دور نہیں تھا ۔ ایران امریکا ڈیل جسے ڈیل سے زیادہ MOU کہنا چاہیے واقعی بہت دلچسپ ہے ایران کو اس پر پاکستان کا دل و جان سے ممنون ہونا چاہیے پاکستان نے اسے وہ کچھ دلوا دیا ہے جسکا اس برس کے آغاز میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا بلا شبہ اس میں ٹرمپ کی حماقتوں کے ساتھ ایران کی اپنی بھی ہمت ہے کہ وہ ٹرمپ کی دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر ڈٹ گیا، اپنی میزائل ٹیکنالوجی سےنہ صرف ٹرمپ کی بینڈ بجا دی بلکہ بشمول اسرائیل اس کے عرب اتحادیوں کو بھی تاک تاک کر ایسےنشانہ بنایا کہ وہ جوابی وار بھی نہ کر سکے۔ اب امریکا کے ساتھ جو MOU سائن کیا گیا ہے، اسکی 14 شقوں کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹرمپ نے غیر مشروط سرنڈر کر دیا ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ ایران نےامریکی اتحادی ریاستوں کو جو نقصان پہنچایا ہے امریکا اس کا ازالہ 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز سے کرئیگا۔ MOUs میں اسکے برعکس یہ کہا گیا کہ کچھ شرائط کے تحت امریکی اتحادی ممالک تین سو ارب ڈالر تعمیر نو کیلئے ایران کودینگے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان ممالک نے ٹرمپ یا نیتن یاہو کو کہا تھا کہ خوا مخواہ ایرانیوں پر دھاوا بول دو ،جنہوں نے یہ حرکت کی تھی اسکا خمیازہ بھی وہی بھگتیں۔ 24 ارب ڈالرز کے منجمد فنڈز کے متعلق بھی ایران نے واضح طور پردکھادیا ہے کہ یہ فنڈز انہیں واپس کر دیے جائینگے ۔ سٹریٹ آف ہرمز کے حوالے سے ایران نے کہا ہے کہ وہ اگرچہ ٹول ٹیکس نہیں لگائیں گے مگر جہازوں سے ترکوں کی طرح سروسز فیس لیں گے۔یورینیم افزودگی کے سلسلے میں کہا گیا کہ اس پر ایران اور امریکا براہ راست مذاکرات کریں گے۔ لبنان کے ایشو کو بھی ایرانیوں نے اپنی ڈیل میں شامل کروا لیا ہے۔ یہ شق ناقابل عمل سی دکھائی دیتی ہے۔یہ تبھی ممکن تھی اگر اسرائیل کو بھی اس ڈیل کا حصہ بنایا جاتا کہ ایرانیوں کے نزدیک حزب اللہ کی حیثیت اپنے وجود کی طرح ہے اس پر حملہ وہ خود پر حملے کی طرح محسوس کرتے ہیں اور پھر بھلا اسرائیل سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ کوئی کارروائی نہیں کرئے گا ۔درویش اپنے یہ خدشات پورے اعتماد کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہے کہ ٹرمپ کی یہ ڈیل یا MOUs ناقابل عمل ہی دکھائی دیتے ہیں۔اس وقت ٹرمپ کی جان پر بنی ہوئی تھی کہ کسی بھی شرط پر ایران سے اسٹریٹ آف ہرمز کا کنٹرول چھڑواتے ہوئے جیسے تیسے جنگ بندی کو منوائے بصورت دیگر نومبر کے مڈ ٹرم الیکشن اسے نکسن کی طرح وائٹ ہاؤس سے باہر نکلوا سکتےہیں۔ ایران کو بھی ٹرمپ کی اس پتلی صورتحال کا ادراک تھا اسی لیے وہ نہ صرف یہ کہ اسکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لایا بلکہ اپنی شرائط کو بہتر طور پر منوایا۔ اگرچہ اس ناروا جنگ میں کچومر ایرانیوں کا بھی نکل گیا ہے اور اب تعمیر نو کیلئے جان کے لالے انھیں بھی پڑے ہوئے ہیں، قیادت کا بحران بھی ہے۔ مسائل ہر دو اطراف ہیں لیکن ٹرمپ کو اس ڈیل کے بعد جو مشکلات آنی ہیں ان کی قیمت نہ صرف ریپبلکن کو چکانی پڑ سکتی ہے، بلکہ مابعد جو بھی امریکی حکومت بنے گی اسے اور امریکی قوم کو چکانی پڑیگی۔ وقت کیساتھ امریکا میں یہ بحث مزید بڑھے گی کہ ٹرمپ نے ہمارے اور اسرائیل کیساتھ کیا ہاتھ کر دیا! امریکی عظمت کا کھوکھلا نعرہ لگانے والے نے امریکی عظمت زمیں بوس کر دی،اس سلسلے میں امریکی اہل سیاست و دانش کےٹرمپ کے ساتھ صدر اوباما اور صدر کلنٹن کے جائزے قابل ملاحظہ ہیں۔

تازہ ترین